بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں
Poetry Collection
Aahat
Footfalls tell many stories. They represent hope as well as despair. They are also real and hallucinatory. While the real ones are forebodings of a delightful meeting, the illusory ones only bring suffering and pain. Many moods of those in waiting are associated with footfalls. Verses in this selection will bring you many experiences around the reality and illusion of footfalls.
Total
28
Sher
26
Ghazal
2
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا میرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگا
جسے نہ آنے کی قسمیں میں دے کے آیا ہوں اسی کے قدموں کی آہٹ کا انتظار بھی ہے
آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
آہٹیں سن رہا ہوں یادوں کی آج بھی اپنے انتظار میں گم
نیند آئے تو اچانک تری آہٹ سن لوں جاگ اٹھوں تو بدن سے تری خوشبو آئے
آج بھی نقش ہیں دل پر تری آہٹ کے نشاں ہم نے اس راہ سے اوروں کو گزرنے نہ دیا
خاموشی میں چاہے جتنا بیگانہ پن ہو لیکن اک آہٹ جانی پہچانی ہوتی ہے
یہ زلف بردوش کون آیا یہ کس کی آہٹ سے گل کھلے ہیں مہک رہی ہے فضائے ہستی تمام عالم بہار سا ہے
کوئی ہلچل ہے نہ آہٹ نہ صدا ہے کوئی دل کی دہلیز پہ چپ چاپ کھڑا ہے کوئی
پہلے تو اس کی یاد نے سونے نہیں دیا پھر اس کی آہٹوں نے کہا جاگتے رہو
ہر لحظہ اس کے پاؤں کی آہٹ پہ کان رکھ دروازے تک جو آیا ہے اندر بھی آئے گا
جب ذرا رات ہوئی اور مہ و انجم آئے بارہا دل نے یہ محسوس کیا تم آئے
اپنی آہٹ پہ چونکتا ہوں میں کس کی دنیا میں آ گیا ہوں میں
کوئی دستک کوئی آہٹ نہ صدا ہے کوئی دور تک روح میں پھیلا ہوا سناٹا ہے
کسی آہٹ میں آہٹ کے سوا کچھ بھی نہیں اب کسی صورت میں صورت کے سوا کیا رہ گیا ہے
پلٹ نہ جائیں ہمیشہ کو تیرے آنگن سے گداز لمحوں کی بے خواب آہٹوں سے نہ روٹھ
دل کے سونے صحن میں گونجی آہٹ کس کے پاؤں کی دھوپ بھرے سناٹے میں آواز سنی ہے چھاؤں کی
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں
کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا میرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگا
جسے نہ آنے کی قسمیں میں دے کے آیا ہوں اسی کے قدموں کی آہٹ کا انتظار بھی ہے
آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
آہٹیں سن رہا ہوں یادوں کی آج بھی اپنے انتظار میں گم
نیند آئے تو اچانک تری آہٹ سن لوں جاگ اٹھوں تو بدن سے تری خوشبو آئے
آج بھی نقش ہیں دل پر تری آہٹ کے نشاں ہم نے اس راہ سے اوروں کو گزرنے نہ دیا
خاموشی میں چاہے جتنا بیگانہ پن ہو لیکن اک آہٹ جانی پہچانی ہوتی ہے
یہ زلف بردوش کون آیا یہ کس کی آہٹ سے گل کھلے ہیں مہک رہی ہے فضائے ہستی تمام عالم بہار سا ہے
کوئی ہلچل ہے نہ آہٹ نہ صدا ہے کوئی دل کی دہلیز پہ چپ چاپ کھڑا ہے کوئی
پہلے تو اس کی یاد نے سونے نہیں دیا پھر اس کی آہٹوں نے کہا جاگتے رہو
ہر لحظہ اس کے پاؤں کی آہٹ پہ کان رکھ دروازے تک جو آیا ہے اندر بھی آئے گا
جب ذرا رات ہوئی اور مہ و انجم آئے بارہا دل نے یہ محسوس کیا تم آئے
اپنی آہٹ پہ چونکتا ہوں میں کس کی دنیا میں آ گیا ہوں میں
کوئی دستک کوئی آہٹ نہ صدا ہے کوئی دور تک روح میں پھیلا ہوا سناٹا ہے
کسی آہٹ میں آہٹ کے سوا کچھ بھی نہیں اب کسی صورت میں صورت کے سوا کیا رہ گیا ہے
پلٹ نہ جائیں ہمیشہ کو تیرے آنگن سے گداز لمحوں کی بے خواب آہٹوں سے نہ روٹھ
دل کے سونے صحن میں گونجی آہٹ کس کے پاؤں کی دھوپ بھرے سناٹے میں آواز سنی ہے چھاؤں کی
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Aahat FAQs
Aahat collection me kya milega?
Aahat se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.