کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرے نیاز مند نہ کیوں عاجزی پہ ناز کرے
Poetry Collection
Aajizi
Humility is a great human virtue and keeps us away from growing arrogant, complacent, and falsely proud. It is used in both romantic as well as spiritualist context and in both the contexts, it qualifies a man as a human being. Some examples are here for you to see for yourself.
Total
31
Sher
27
Ghazal
4
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
مجھ کو سادات کی نسبت کے سبب میرے خدا عاجزی دینا تکبر کی ادا مت دینا
اشک اگر سب نے لکھے میں نے ستارے لکھے عاجزی سب نے لکھی میں نے عبادت لکھا
غرور بھی جو کروں میں تو عاجزی ہو جائے خودی میں لطف وہ آئے کہ بے خودی ہو جائے
اس طرح منسلک ہوا اردو زبان سے ملتا ہوں اب سبھی سے بڑی عاجزی کے ساتھ
کوئی خود سے مجھے کمتر سمجھ لے یہ مطلب بھی نہیں ہے عاجزی کا
بندشوں کو توڑنے کی کوششیں کرتی ہوئی سر پٹکتی لہر تیری عاجزی اچھی لگی
عاجزی بخشی گئی تمکنت فقر کے ساتھ دینے والے نے ہمیں کون سی دولت نہیں دی
عجز کے ساتھ چلے آئے ہیں ہم یزدانیؔ کوئی اور ان کو منا لینے کا ڈھب یاد نہیں
کسی کے راستے کی خاک میں پڑے ہیں ظفرؔ متاع عمر یہی عاجزی نکلتی ہے
منت و عاجزی و زاری و آہ تیرے آگے ہزار کر دیکھا
عاجزی کہنے لگی گر ہو بلندی کی طلب دل جھکا دائرۂ نعرۂ تکبیر میں آ
او آنکھ بدل کے جانے والے کچھ دھیان کسی کی عاجزی کا
اس شان عاجزی کے فدا جس نے آرزوؔ ہر ناز ہر غرور کے قابل بنا دیا
برائے اہل جہاں لاکھ کج کلاہ تھے ہم گئے حریم سخن میں تو عاجزی سے گئے
کبھی تھی وہ غصہ کی چتون قیامت کبھی عاجزی سے منانا کسی کا
اس عاجزی سے کیا اس نے میرے سر کا سوال خود اپنے ہاتھ سے تلوار توڑ دی میں نے
یہ نقش خوش نما دراصل نقش عاجزی ہے کہ اصل حسن تو اندیشۂ بہزاد میں ہے
کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرے نیاز مند نہ کیوں عاجزی پہ ناز کرے
مجھ کو سادات کی نسبت کے سبب میرے خدا عاجزی دینا تکبر کی ادا مت دینا
اشک اگر سب نے لکھے میں نے ستارے لکھے عاجزی سب نے لکھی میں نے عبادت لکھا
غرور بھی جو کروں میں تو عاجزی ہو جائے خودی میں لطف وہ آئے کہ بے خودی ہو جائے
اس طرح منسلک ہوا اردو زبان سے ملتا ہوں اب سبھی سے بڑی عاجزی کے ساتھ
کوئی خود سے مجھے کمتر سمجھ لے یہ مطلب بھی نہیں ہے عاجزی کا
بندشوں کو توڑنے کی کوششیں کرتی ہوئی سر پٹکتی لہر تیری عاجزی اچھی لگی
عاجزی بخشی گئی تمکنت فقر کے ساتھ دینے والے نے ہمیں کون سی دولت نہیں دی
عجز کے ساتھ چلے آئے ہیں ہم یزدانیؔ کوئی اور ان کو منا لینے کا ڈھب یاد نہیں
کسی کے راستے کی خاک میں پڑے ہیں ظفرؔ متاع عمر یہی عاجزی نکلتی ہے
منت و عاجزی و زاری و آہ تیرے آگے ہزار کر دیکھا
عاجزی کہنے لگی گر ہو بلندی کی طلب دل جھکا دائرۂ نعرۂ تکبیر میں آ
او آنکھ بدل کے جانے والے کچھ دھیان کسی کی عاجزی کا
اس شان عاجزی کے فدا جس نے آرزوؔ ہر ناز ہر غرور کے قابل بنا دیا
برائے اہل جہاں لاکھ کج کلاہ تھے ہم گئے حریم سخن میں تو عاجزی سے گئے
کبھی تھی وہ غصہ کی چتون قیامت کبھی عاجزی سے منانا کسی کا
اس عاجزی سے کیا اس نے میرے سر کا سوال خود اپنے ہاتھ سے تلوار توڑ دی میں نے
وہ منائے گا جس سے روٹھے ہو ہم کو منت سے عاجزی سے غرض
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Aajizi FAQs
Aajizi collection me kya milega?
Aajizi se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.