آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے
Poetry Collection
Awaz
Awaz par curated selection jahan sher, ghazal aur nazm ko readable format me discover kiya ja sakta hai.
Total
41
Sher
38
Ghazal
3
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
لہجہ کہ جیسے صبح کی خوشبو اذان دے جی چاہتا ہے میں تری آواز چوم لوں
وہ خوش کلام ہے ایسا کہ اس کے پاس ہمیں طویل رہنا بھی لگتا ہے مختصر رہنا
اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو
موت خاموشی ہے چپ رہنے سے چپ لگ جائے گی زندگی آواز ہے باتیں کرو باتیں کرو
بولتے رہنا کیونکہ تمہاری باتوں سے لفظوں کا یہ بہتا دریا اچھا لگتا ہے
کوئی آیا تری جھلک دیکھی کوئی بولا سنی تری آواز
تفریق حسن و عشق کے انداز میں نہ ہو لفظوں میں فرق ہو مگر آواز میں نہ ہو
میں جو بولا کہا کہ یہ آواز اسی خانہ خراب کی سی ہے
ہاتھ جس کو لگا نہیں سکتا اس کو آواز تو لگانے دو
تری آواز کو اس شہر کی لہریں ترستی ہیں غلط نمبر ملاتا ہوں تو پہروں بات ہوتی ہے
خاموشی کے ناخن سے چھل جایا کرتے ہیں کوئی پھر ان زخموں پر آوازیں ملتا ہے
یہ بھی اعجاز مجھے عشق نے بخشا تھا کبھی اس کی آواز سے میں دیپ جلا سکتا تھا
میری یہ آرزو ہے وقت مرگ اس کی آواز کان میں آوے
اس پہ قربان کہ جس نے تری آواز سنی صدقے اس آنکھ کے جس نے ترا جلوہ دیکھا
ختم ہو جائے گا جس دن بھی تمہارا انتظار گھر کے دروازے پہ دستک چیختی رہ جائے گی
گم رہا ہوں ترے خیالوں میں تجھ کو آواز عمر بھر دی ہے
پھول کی خوشبو ہوا کی چاپ شیشہ کی کھنک کون سی شے ہے جو تیری خوش بیانی میں نہیں
اس کی آواز میں تھے سارے خد و خال اس کے وہ چہکتا تھا تو ہنستے تھے پر و بال اس کے
کھنک جاتے ہیں جب ساغر تو پہروں کان بجتے ہیں ارے توبہ بڑی توبہ شکن آواز ہوتی ہے
آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے
لہجہ کہ جیسے صبح کی خوشبو اذان دے جی چاہتا ہے میں تری آواز چوم لوں
وہ خوش کلام ہے ایسا کہ اس کے پاس ہمیں طویل رہنا بھی لگتا ہے مختصر رہنا
اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو
خدا کی اس کے گلے میں عجیب قدرت ہے وہ بولتا ہے تو اک روشنی سی ہوتی ہے
موت خاموشی ہے چپ رہنے سے چپ لگ جائے گی زندگی آواز ہے باتیں کرو باتیں کرو
گم رہا ہوں ترے خیالوں میں تجھ کو آواز عمر بھر دی ہے
چھپ گئے وہ ساز ہستی چھیڑ کر اب تو بس آواز ہی آواز ہے
تفریق حسن و عشق کے انداز میں نہ ہو لفظوں میں فرق ہو مگر آواز میں نہ ہو
دھیمے سروں میں کوئی مدھر گیت چھیڑئیے ٹھہری ہوئی ہواؤں میں جادو بکھیریے
میں جو بولا کہا کہ یہ آواز اسی خانہ خراب کی سی ہے
لے میں ڈوبی ہوئی مستی بھری آواز کے ساتھ چھیڑ دے کوئی غزل اک نئے انداز کے ساتھ
چراغ جلتے ہیں باد صبا مہکتی ہے تمہارے حسن تکلم سے کیا نہیں ہوتا
تری آواز کو اس شہر کی لہریں ترستی ہیں غلط نمبر ملاتا ہوں تو پہروں بات ہوتی ہے
مجھ سے جو چاہئے وہ درس بصیرت لیجے میں خود آواز ہوں میری کوئی آواز نہیں
اس کی آواز میں تھے سارے خد و خال اس کے وہ چہکتا تھا تو ہنستے تھے پر و بال اس کے
میری یہ آرزو ہے وقت مرگ اس کی آواز کان میں آوے
کھنک جاتے ہیں جب ساغر تو پہروں کان بجتے ہیں ارے توبہ بڑی توبہ شکن آواز ہوتی ہے
اس پہ قربان کہ جس نے تری آواز سنی صدقے اس آنکھ کے جس نے ترا جلوہ دیکھا
رات اک اجڑے مکاں پر جا کے جب آواز دی گونج اٹھے بام و در میری صدا کے سامنے
Explore Similar Collections
Awaz FAQs
Awaz collection me kya milega?
Awaz se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.