ادھر فلک کو ہے ضد بجلیاں گرانے کی ادھر ہمیں بھی ہے دھن آشیاں بنانے کی
Poetry Collection
Bijli
Lightening is a strong manifestation of nature. In poetry, it is used as a metaphor for heart-shaking sound, burning the birds’ abodes, and rendering them homeless. This applies to the beloved’s behavior as well who ravages the hapless lover. Lightening, used in a variety of contexts, has emerged as an interesting concept through classical Urdu poetry. Here are some verses to show that.
Total
19
Sher
19
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
ڈرتا ہوں آسمان سے بجلی نہ گر پڑے صیاد کی نگاہ سوئے آشیاں نہیں
قفس کی تیلیوں میں جانے کیا ترکیب رکھی ہے کہ ہر بجلی قریب آشیاں معلوم ہوتی ہے
فریب روشنی میں آنے والو میں نہ کہتا تھا کہ بجلی آشیانے کی نگہباں ہو نہیں سکتی
تڑپ جاتا ہوں جب بجلی چمکتی دیکھ لیتا ہوں کہ اس سے ملتا جلتا سا کسی کا مسکرانا ہے
یہ ابر ہے یا فیل سیہ مست ہے ساقی بجلی کے جو ہے پاؤں میں زنجیر ہوا پر
بجلی گرے گی صحن چمن میں کہاں کہاں کس شاخ گلستاں پہ مرا آشیاں نہیں
برق نے میرا نشیمن نہ جلایا ہو کہیں صحن گلشن میں اجالا ہے خدا خیر کرے
قفس سے آشیاں تبدیل کرنا بات ہی کیا تھی ہمیں دیکھو کہ ہم نے بجلیوں سے آشیاں بدلا
کہیں گری تو ہے بجلی ذرا نظر کیجے کسی غریب کی پلٹی ہوئی دعا تو نہیں
کوئی رشک حسن تمام تھا وہی قد و قامت سرو سا وہی برق جس کا بیاں ہو کیا جو گری تو دل میں اتر گئی
ممکن نہیں چمن میں دونوں کی ضد ہو پوری یا بجلیاں رہیں گی یا آشیاں رہے گا
لہو سے میں نے لکھا تھا جو کچھ دیوار زنداں پر وہ بجلی بن کے چمکا دامن صبح گلستاں پر
ادھر فلک کو ہے ضد بجلیاں گرانے کی ادھر ہمیں بھی ہے دھن آشیاں بنانے کی
ڈرتا ہوں آسمان سے بجلی نہ گر پڑے صیاد کی نگاہ سوئے آشیاں نہیں
قفس کی تیلیوں میں جانے کیا ترکیب رکھی ہے کہ ہر بجلی قریب آشیاں معلوم ہوتی ہے
ممکن نہیں چمن میں دونوں کی ضد ہو پوری یا بجلیاں رہیں گی یا آشیاں رہے گا
لہو سے میں نے لکھا تھا جو کچھ دیوار زنداں پر وہ بجلی بن کے چمکا دامن صبح گلستاں پر
فریب روشنی میں آنے والو میں نہ کہتا تھا کہ بجلی آشیانے کی نگہباں ہو نہیں سکتی
تڑپ جاتا ہوں جب بجلی چمکتی دیکھ لیتا ہوں کہ اس سے ملتا جلتا سا کسی کا مسکرانا ہے
یہ ابر ہے یا فیل سیہ مست ہے ساقی بجلی کے جو ہے پاؤں میں زنجیر ہوا پر
بجلی گرے گی صحن چمن میں کہاں کہاں کس شاخ گلستاں پہ مرا آشیاں نہیں
برق نے میرا نشیمن نہ جلایا ہو کہیں صحن گلشن میں اجالا ہے خدا خیر کرے
قفس سے آشیاں تبدیل کرنا بات ہی کیا تھی ہمیں دیکھو کہ ہم نے بجلیوں سے آشیاں بدلا
کہیں گری تو ہے بجلی ذرا نظر کیجے کسی غریب کی پلٹی ہوئی دعا تو نہیں
کوئی رشک حسن تمام تھا وہی قد و قامت سرو سا وہی برق جس کا بیاں ہو کیا جو گری تو دل میں اتر گئی
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Bijli FAQs
Bijli collection me kya milega?
Bijli se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.