Top 20 Sher Series

Shayari of Hafeez Jaunpuri

Shayari of Hafeez Jaunpuri ek clean reading flow me, writer aur full-detail links ke saath.

Total

20

Sher

20

Featured Picks

Series se pehle kuch standout sher padhein.

بوسۂ رخسار پر تکرار رہنے دیجیے لیجیے یا دیجیے انکار رہنے دیجیے

بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے

حسینوں سے فقط صاحب سلامت دور کی اچھی نہ ان کی دوستی اچھی نہ ان کی دشمنی اچھی

آدمی کا آدمی ہر حال میں ہمدرد ہو اک توجہ چاہئے انساں کو انساں کی طرف

مری شراب کی توبہ پہ جا نہ اے واعظ نشے کی بات نہیں اعتبار کے قابل

زاہد کو رٹ لگی ہے شراب طہور کی آیا ہے میکدے میں تو سوجھی ہے دور کی

یاد آئیں اس کو دیکھ کے اپنی مصیبتیں روئے ہم آج خوب لپٹ کر رقیب سے

عاشق کی بے کسی کا تو عالم نہ پوچھیے مجنوں پہ کیا گزر گئی صحرا گواہ ہے

اخیر وقت ہے کس منہ سے جاؤں مسجد کو تمام عمر تو گزری شراب خانے میں

کافر عشق کو کیا دیر و حرم سے مطلب جس طرف تو ہے ادھر ہی ہمیں سجدا کرنا

پری تھی کوئی چھلاوا تھی یا جوانی تھی کہاں یہ ہو گئی چمپت جھلک دکھا کے مجھے

پی لو دو گھونٹ کہ ساقی کی رہے بات حفیظؔ صاف انکار سے خاطر شکنی ہوتی ہے

جب ملا کوئی حسیں جان پر آفت آئی سو جگہ عہد جوانی میں طبیعت آئی

تھے چور میکدے کے مسجد کے رہنے والے مے سے بھرا ہوا ہے جو ظرف ہے وضو کا

بوسۂ رخسار پر تکرار رہنے دیجیے لیجیے یا دیجیے انکار رہنے دیجیے

بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے

حسینوں سے فقط صاحب سلامت دور کی اچھی نہ ان کی دوستی اچھی نہ ان کی دشمنی اچھی

آدمی کا آدمی ہر حال میں ہمدرد ہو اک توجہ چاہئے انساں کو انساں کی طرف

مری شراب کی توبہ پہ جا نہ اے واعظ نشے کی بات نہیں اعتبار کے قابل

زاہد کو رٹ لگی ہے شراب طہور کی آیا ہے میکدے میں تو سوجھی ہے دور کی

یاد آئیں اس کو دیکھ کے اپنی مصیبتیں روئے ہم آج خوب لپٹ کر رقیب سے

عاشق کی بے کسی کا تو عالم نہ پوچھیے مجنوں پہ کیا گزر گئی صحرا گواہ ہے

اخیر وقت ہے کس منہ سے جاؤں مسجد کو تمام عمر تو گزری شراب خانے میں

کافر عشق کو کیا دیر و حرم سے مطلب جس طرف تو ہے ادھر ہی ہمیں سجدا کرنا

پری تھی کوئی چھلاوا تھی یا جوانی تھی کہاں یہ ہو گئی چمپت جھلک دکھا کے مجھے

پی لو دو گھونٹ کہ ساقی کی رہے بات حفیظؔ صاف انکار سے خاطر شکنی ہوتی ہے

جب ملا کوئی حسیں جان پر آفت آئی سو جگہ عہد جوانی میں طبیعت آئی

تھے چور میکدے کے مسجد کے رہنے والے مے سے بھرا ہوا ہے جو ظرف ہے وضو کا

You have reached the end.

Explore Similar Collections

Shayari of Hafeez Jaunpuri FAQs

Hafeez Jaunpuri Top 20 me kya milega?

Hafeez Jaunpuri ke selected sher readable cards, internal detail links, aur writer discovery ke saath milenge.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.