دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی
Poetry Collection
Deshbhakti
Patriotism is a noble sentiment. It has been presented in poetry in many different ways. The poets have brought certain aspects to our notice which we do not always notice. You may like to see various representations of this sentiment in these verses here.
Total
32
Sher
30
Ghazal
2
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
وطن کی ریت ذرا ایڑیاں رگڑنے دے مجھے یقیں ہے کہ پانی یہیں سے نکلے گا
وطن کے جاں نثار ہیں وطن کے کام آئیں گے ہم اس زمیں کو ایک روز آسماں بنائیں گے
اسی جگہ اسی دن تو ہوا تھا یہ اعلان اندھیرے ہار گئے زندہ باد ہندوستان
وطن کی خاک سے مر کر بھی ہم کو انس باقی ہے مزا دامان مادر کا ہے اس مٹی کے دامن میں
اس ملک کی سرحد کو کوئی چھو نہیں سکتا جس ملک کی سرحد کی نگہبان ہیں آنکھیں
یہ کہہ رہی ہے اشاروں میں گردش گردوں کہ جلد ہم کوئی سخت انقلاب دیکھیں گے
کہاں ہیں آج وہ شمع وطن کے پروانے بنے ہیں آج حقیقت انہیں کے افسانے
نہ ہوگا رائیگاں خون شہیدان وطن ہرگز یہی سرخی بنے گی ایک دن عنوان آزادی
دکھ میں سکھ میں ہر حالت میں بھارت دل کا سہارا ہے بھارت پیارا دیش ہمارا سب دیشوں سے پیارا ہے
کارواں جن کا لٹا راہ میں آزادی کی قوم کا ملک کا ان درد کے ماروں کو سلامؔ
وہ ہندی نوجواں یعنی علمبردار آزادی وطن کی پاسباں وہ تیغ جوہر دار آزادی
سر بکف ہند کے جاں باز وطن لڑتے ہیں تیغ نو لے صف دشمن میں گھسے پڑتے ہیں
دلوں میں حب وطن ہے اگر تو ایک رہو نکھارنا یہ چمن ہے اگر تو ایک رہو
اے اہل وطن شام و سحر جاگتے رہنا اغیار ہیں آمادۂ شر جاگتے رہنا
ہے محبت اس وطن سے اپنی مٹی سے ہمیں اس لیے اپنا کریں گے جان و تن قربان ہم
بیزار ہیں جو جذبہ سے وہ لوگ کسی سے بھی محبت نہیں کرتے
خدا اے کاش نازشؔ جیتے جی وہ وقت بھی لائے کہ جب ہندوستان کہلائے گا ہندوستان آزادی
دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
وطن کی ریت ذرا ایڑیاں رگڑنے دے مجھے یقیں ہے کہ پانی یہیں سے نکلے گا
وطن کے جاں نثار ہیں وطن کے کام آئیں گے ہم اس زمیں کو ایک روز آسماں بنائیں گے
دلوں میں حب وطن ہے اگر تو ایک رہو نکھارنا یہ چمن ہے اگر تو ایک رہو
زمیں پر گھر بنایا ہے مگر جنت میں رہتے ہیں ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہم بھارت میں رہتے ہیں
وطن کی خاک سے مر کر بھی ہم کو انس باقی ہے مزا دامان مادر کا ہے اس مٹی کے دامن میں
ناقوس سے غرض ہے نہ مطلب اذاں سے ہے مجھ کو اگر ہے عشق تو ہندوستاں سے ہے
یہ کہہ رہی ہے اشاروں میں گردش گردوں کہ جلد ہم کوئی سخت انقلاب دیکھیں گے
اے اہل وطن شام و سحر جاگتے رہنا اغیار ہیں آمادۂ شر جاگتے رہنا
کہاں ہیں آج وہ شمع وطن کے پروانے بنے ہیں آج حقیقت انہیں کے افسانے
ہے محبت اس وطن سے اپنی مٹی سے ہمیں اس لیے اپنا کریں گے جان و تن قربان ہم
نہ ہوگا رائیگاں خون شہیدان وطن ہرگز یہی سرخی بنے گی ایک دن عنوان آزادی
کیا کرشمہ ہے مرے جذبۂ آزادی کا تھی جو دیوار کبھی اب ہے وہ در کی صورت
بھارت کے اے سپوتو ہمت دکھائے جاؤ دنیا کے دل پہ اپنا سکہ بٹھائے جاؤ
کارواں جن کا لٹا راہ میں آزادی کی قوم کا ملک کا ان درد کے ماروں کو سلامؔ
وہ ہندی نوجواں یعنی علمبردار آزادی وطن کی پاسباں وہ تیغ جوہر دار آزادی
خدا اے کاش نازشؔ جیتے جی وہ وقت بھی لائے کہ جب ہندوستان کہلائے گا ہندوستان آزادی
سر بکف ہند کے جاں باز وطن لڑتے ہیں تیغ نو لے صف دشمن میں گھسے پڑتے ہیں
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Deshbhakti FAQs
Deshbhakti collection me kya milega?
Deshbhakti se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.