دوستی جب کسی سے کی جائے دشمنوں کی بھی رائے لی جائے
Poetry Collection
Dushman
We have certain fixed notions about an enemy, or adversary. However, there may be variations on this in poetry. A creative mind adds unusual perspective to the image of the adversary. Here are some examples that project adversaries in stereotypical forms but there are others that do it differently. See if you may recognise them in any of these forms.
Total
43
Sher
40
Ghazal
3
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
مخالفت سے مری شخصیت سنورتی ہے میں دشمنوں کا بڑا احترام کرتا ہوں
دشمنوں کے ساتھ میرے دوست بھی آزاد ہیں دیکھنا ہے کھینچتا ہے مجھ پہ پہلا تیر کون
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے
دشمنوں کی جفا کا خوف نہیں دوستوں کی وفا سے ڈرتے ہیں
دوستوں سے اس قدر صدمے اٹھائے جان پر دل سے دشمن کی عداوت کا گلہ جاتا رہا
عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے
خدا کے واسطے موقع نہ دے شکایت کا کہ دوستی کی طرح دشمنی نبھایا کر
دوست ہر عیب چھپا لیتے ہیں کوئی دشمن بھی ترا ہے کہ نہیں
ترتیب دے رہا تھا میں فہرست دشمنان یاروں نے اتنی بات پہ خنجر اٹھا لیا
دوستی کی تم نے دشمن سے عجب تم دوست ہو میں تمہاری دوستی میں مہرباں مارا گیا
مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے میں تنہا آدمی کی دوستی ہوں
میرے دشمن نہ مجھ کو بھول سکے ورنہ رکھتا ہے کون کس کو یاد
دنیا میں ہم رہے تو کئی دن پہ اس طرح دشمن کے گھر میں جیسے کوئی میہماں رہے
دشمن سے ایسے کون بھلا جیت پائے گا جو دوستی کے بھیس میں چھپ کر دغا کرے
میں آ کر دشمنوں میں بس گیا ہوں یہاں ہمدرد ہیں دو چار میرے
دشمنوں سے پشیمان ہونا پڑا ہے دوستوں کا خلوص آزمانے کے بعد
عرشؔ کس دوست کو اپنا سمجھوں سب کے سب دوست ہیں دشمن کی طرف
آ گیا جوہرؔ عجب الٹا زمانہ کیا کہیں دوست وہ کرتے ہیں باتیں جو عدو کرتے نہیں
دوستی جب کسی سے کی جائے دشمنوں کی بھی رائے لی جائے
مخالفت سے مری شخصیت سنورتی ہے میں دشمنوں کا بڑا احترام کرتا ہوں
دشمنوں کے ساتھ میرے دوست بھی آزاد ہیں دیکھنا ہے کھینچتا ہے مجھ پہ پہلا تیر کون
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے
دشمنوں کی جفا کا خوف نہیں دوستوں کی وفا سے ڈرتے ہیں
دوستوں سے اس قدر صدمے اٹھائے جان پر دل سے دشمن کی عداوت کا گلہ جاتا رہا
عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے
خدا کے واسطے موقع نہ دے شکایت کا کہ دوستی کی طرح دشمنی نبھایا کر
دوست ہر عیب چھپا لیتے ہیں کوئی دشمن بھی ترا ہے کہ نہیں
اے دوست تجھ کو رحم نہ آئے تو کیا کروں دشمن بھی میرے حال پہ اب آب دیدہ ہے
میں آ کر دشمنوں میں بس گیا ہوں یہاں ہمدرد ہیں دو چار میرے
دشمنوں سے پشیمان ہونا پڑا ہے دوستوں کا خلوص آزمانے کے بعد
دن ایک ستم ایک ستم رات کرو ہو وہ دوست ہو دشمن کو بھی تم مات کرو ہو
دوستی کی تم نے دشمن سے عجب تم دوست ہو میں تمہاری دوستی میں مہرباں مارا گیا
آ گیا جوہرؔ عجب الٹا زمانہ کیا کہیں دوست وہ کرتے ہیں باتیں جو عدو کرتے نہیں
یہ دل لگانے میں میں نے مزا اٹھایا ہے ملا نہ دوست تو دشمن سے اتحاد کیا
مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے میں تنہا آدمی کی دوستی ہوں
دوستوں اور دشمنوں میں کس طرح تفریق ہو دوستوں اور دشمنوں کی بے رخی ہے ایک سی
دنیا میں ہم رہے تو کئی دن پہ اس طرح دشمن کے گھر میں جیسے کوئی میہماں رہے
Explore Similar Collections
Dushman FAQs
Dushman collection me kya milega?
Dushman se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.