بڑے لوگوں سے ملنے میں ہمیشہ فاصلہ رکھنا جہاں دریا سمندر سے ملا دریا نہیں رہتا
Poetry Collection
Fasla
Distance is a physical state but it may also be a mental state. One may be close yet too distant, and distant yet too close. A lover passes through these states more often than others. This selection will bring you close to this dual experience of pleasure and suffering.
Total
24
Sher
23
Ghazal
1
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا
محبت کی تو کوئی حد، کوئی سرحد نہیں ہوتی ہمارے درمیاں یہ فاصلے، کیسے نکل آئے
فاصلہ نظروں کا دھوکہ بھی تو ہو سکتا ہے وہ ملے یا نہ ملے ہاتھ بڑھا کر دیکھو
قریب آؤ تو شاید سمجھ میں آ جائے کہ فاصلے تو غلط فہمیاں بڑھاتے ہیں
عشق میں بھی سیاستیں نکلیں قربتوں میں بھی فاصلہ نکلا
دوری ہوئی تو اس کے قریں اور ہم ہوئے یہ کیسے فاصلے تھے جو بڑھنے سے کم ہوئے
اسے خبر ہے کہ انجام وصل کیا ہوگا وہ قربتوں کی تپش فاصلے میں رکھتی ہے
فاصلے ایسے کہ اک عمر میں طے ہو نہ سکیں قربتیں ایسی کہ خود مجھ میں جنم ہے اس کا
نہ ہو کہ قرب ہی پھر مرگ ربط بن جائے وہ اب ملے تو ذرا اس سے فاصلہ رکھنا
کتنے شکوے گلے ہیں پہلے ہی راہ میں فاصلے ہیں پہلے ہی
شاید کہ خدا میں اور مجھ میں اک جست کا اور فاصلہ ہے
حد بندئ خزاں سے حصار بہار تک جاں رقص کر سکے تو کوئی فاصلہ نہیں
رابطے ٹوٹے ہیں رشتے رہ گئے ہیں نام کے تلخیاں حائل دلوں کے درمیاں ہوتی گئیں
بھلا ہم ملے بھی تو کیا ملے وہی دوریاں وہی فاصلے نہ کبھی ہمارے قدم بڑھے نہ کبھی تمہاری جھجک گئی
بہت عجیب ہے یہ قربتوں کی دوری بھی وہ میرے ساتھ رہا اور مجھے کبھی نہ ملا
بڑے لوگوں سے ملنے میں ہمیشہ فاصلہ رکھنا جہاں دریا سمندر سے ملا دریا نہیں رہتا
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو
قربتیں لاکھ خوبصورت ہوں دوریوں میں بھی دل کشی ہے ابھی
محبت کی تو کوئی حد، کوئی سرحد نہیں ہوتی ہمارے درمیاں یہ فاصلے، کیسے نکل آئے
فاصلہ نظروں کا دھوکہ بھی تو ہو سکتا ہے وہ ملے یا نہ ملے ہاتھ بڑھا کر دیکھو
دنیا تو چاہتی ہے یونہی فاصلے رہیں دنیا کے مشوروں پہ نہ جا اس گلی میں چل
قریب آؤ تو شاید سمجھ میں آ جائے کہ فاصلے تو غلط فہمیاں بڑھاتے ہیں
عشق میں بھی سیاستیں نکلیں قربتوں میں بھی فاصلہ نکلا
دوری ہوئی تو اس کے قریں اور ہم ہوئے یہ کیسے فاصلے تھے جو بڑھنے سے کم ہوئے
اسے خبر ہے کہ انجام وصل کیا ہوگا وہ قربتوں کی تپش فاصلے میں رکھتی ہے
فاصلے ایسے کہ اک عمر میں طے ہو نہ سکیں قربتیں ایسی کہ خود مجھ میں جنم ہے اس کا
نہ ہو کہ قرب ہی پھر مرگ ربط بن جائے وہ اب ملے تو ذرا اس سے فاصلہ رکھنا
کتنے شکوے گلے ہیں پہلے ہی راہ میں فاصلے ہیں پہلے ہی
شاید کہ خدا میں اور مجھ میں اک جست کا اور فاصلہ ہے
حد بندئ خزاں سے حصار بہار تک جاں رقص کر سکے تو کوئی فاصلہ نہیں
رابطے ٹوٹے ہیں رشتے رہ گئے ہیں نام کے تلخیاں حائل دلوں کے درمیاں ہوتی گئیں
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Fasla FAQs
Fasla collection me kya milega?
Fasla se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.