مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے
Poetry Collection
Father
The love of father is just as strong as the love of mother. In the poems and couplets, the love and affection for father is depicted. We are presenting here a selection of poetry about the affection and sacrifice of a father. The intensity of emotions and the depth of feelings in the composition of these couplets will definitely touch the readers, please read the couplets and Share the shers.
Total
23
Sher
21
Ghazal
2
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
عزیز تر مجھے رکھتا ہے وہ رگ جاں سے یہ بات سچ ہے مرا باپ کم نہیں ماں سے
بیٹیاں باپ کی آنکھوں میں چھپے خواب کو پہچانتی ہیں اور کوئی دوسرا اس خواب کو پڑھ لے تو برا مانتی ہیں
یہ سوچ کے ماں باپ کی خدمت میں لگا ہوں اس پیڑ کا سایا مرے بچوں کو ملے گا
مدت کے بعد خواب میں آیا تھا میرا باپ اور اس نے مجھ سے اتنا کہا خوش رہا کرو
باپ زینہ ہے جو لے جاتا ہے اونچائی تک ماں دعا ہے جو سدا سایہ فگن رہتی ہے
بچے میری انگلی تھامے دھیرے دھیرے چلتے تھے پھر وہ آگے دوڑ گئے میں تنہا پیچھے چھوٹ گیا
جب بھی والد کی جفا یاد آئی اپنے دادا کی خطا یاد آئی
میرا بھی ایک باپ تھا اچھا سا ایک باپ وہ جس جگہ پہنچ کے مرا تھا وہیں ہوں میں
وہ وقت اور تھے کہ بزرگوں کی قدر تھی اب ایک بوڑھا باپ بھرے گھر پہ بار ہے
میں نے ہاتھوں سے بجھائی ہے دہکتی ہوئی آگ اپنے بچے کے کھلونے کو بچانے کے لیے
ہمیں پڑھاؤ نہ رشتوں کی کوئی اور کتاب پڑھی ہے باپ کے چہرے کی جھریاں ہم نے
ان کا اٹھنا نہیں ہے حشر سے کم گھر کی دیوار باپ کا سایا
صبح سویرے ننگے پاؤں گھاس پہ چلنا ایسا ہے جیسے باپ کا پہلا بوسہ قربت جیسے ماؤں کی
مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے
عزیز تر مجھے رکھتا ہے وہ رگ جاں سے یہ بات سچ ہے مرا باپ کم نہیں ماں سے
بیٹیاں باپ کی آنکھوں میں چھپے خواب کو پہچانتی ہیں اور کوئی دوسرا اس خواب کو پڑھ لے تو برا مانتی ہیں
ہمیں پڑھاؤ نہ رشتوں کی کوئی اور کتاب پڑھی ہے باپ کے چہرے کی جھریاں ہم نے
مجھ کو چھاؤں میں رکھا اور خود بھی وہ جلتا رہا میں نے دیکھا اک فرشتہ باپ کی پرچھائیں میں
گھر کی اس بار مکمل میں تلاشی لوں گا غم چھپا کر مرے ماں باپ کہاں رکھتے تھے
باپ زینہ ہے جو لے جاتا ہے اونچائی تک ماں دعا ہے جو سدا سایہ فگن رہتی ہے
دیر سے آنے پر وو خفا تھا آخر مان گیا آج میں اپنے باپ سے ملنے قبرستان گیا
جب بھی والد کی جفا یاد آئی اپنے دادا کی خطا یاد آئی
وہ پیڑ جس کی چھاؤں میں کٹی تھی عمر گاؤں میں میں چوم چوم تھک گیا مگر یہ دل بھرا نہیں
وہ وقت اور تھے کہ بزرگوں کی قدر تھی اب ایک بوڑھا باپ بھرے گھر پہ بار ہے
ان کا اٹھنا نہیں ہے حشر سے کم گھر کی دیوار باپ کا سایا
میں نے ہاتھوں سے بجھائی ہے دہکتی ہوئی آگ اپنے بچے کے کھلونے کو بچانے کے لیے
صبح سویرے ننگے پاؤں گھاس پہ چلنا ایسا ہے جیسے باپ کا پہلا بوسہ قربت جیسے ماؤں کی
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Father FAQs
Father collection me kya milega?
Father se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.