دوپہر کی دھوپ میں میرے بلانے کے لیے وہ ترا کوٹھے پہ ننگے پاؤں آنا یاد ہے
Poetry Collection
Garmi
Summer is a season known for oppressive heat and keeping us troubled and impatient. This season, or condition, has had a metaphoric meaning as well. These samples tell us how it can create different responses and how poets may negotiate with this.
Total
31
Sher
27
Ghazal
4
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
گرمی لگی تو خود سے الگ ہو کے سو گئے سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا
شہر کیا دیکھیں کہ ہر منظر میں جالے پڑ گئے ایسی گرمی ہے کہ پیلے پھول کالے پڑ گئے
یہ دھوپ تو ہر رخ سے پریشان کرے گی کیوں ڈھونڈ رہے ہو کسی دیوار کا سایہ
پڑ جائیں مرے جسم پہ لاکھ آبلہ اکبرؔ پڑھ کر جو کوئی پھونک دے اپریل مئی جون
شدید گرمی میں کیسے نکلے وہ پھول چہرہ سو اپنے رستے میں دھوپ دیوار ہو رہی ہے
آتے ہی جو تم میرے گلے لگ گئے واللہ اس وقت تو اس گرمی نے سب مات کی گرمی
بند آنکھیں کروں اور خواب تمہارے دیکھوں تپتی گرمی میں بھی وادی کے نظارے دیکھوں
گرمی بہت ہے آج کھلا رکھ مکان کو اس کی گلی سے رات کو پروائی آئے گی
دھوپ کی گرمی سے اینٹیں پک گئیں پھل پک گئے اک ہمارا جسم تھا اختر جو کچا رہ گیا
گرمی نے کچھ آگ اور بھی سینہ میں لگائی ہر طور غرض آپ سے ملنا ہی کم اچھا
اتارو بدن سے یہ موٹے لباس نہیں دیکھتیں گرمیاں آ گئیں
کیوں تری تھوڑی سی گرمی سیں پگھل جاوے ہے جاں کیا تو نیں سمجھا ہے عاشق اس قدر ہے موم کا
قیامت میں بڑی گرمی پڑے گی حضرت زاہد یہیں سے بادۂ گل رنگ میں دامن کو تر کر لو
پگھلتے دیکھ کے سورج کی گرمی ابھی معصوم کرنیں رو گئی ہیں
گرمی جو آئی گھر کا ہوا دان کھل گیا ساحل پہ جب گیا تو ہر انسان کھل گیا
ستم گرمیٔ صحرا مجھے معلوم نہ تھا خشک ہو جائے گا دریا مجھے معلوم نہ تھا
سورج سر پہ آ پہنچا گرمی ہے یا روز جزا
دوپہر کی دھوپ میں میرے بلانے کے لیے وہ ترا کوٹھے پہ ننگے پاؤں آنا یاد ہے
گرمی لگی تو خود سے الگ ہو کے سو گئے سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا
شہر کیا دیکھیں کہ ہر منظر میں جالے پڑ گئے ایسی گرمی ہے کہ پیلے پھول کالے پڑ گئے
یہ دھوپ تو ہر رخ سے پریشان کرے گی کیوں ڈھونڈ رہے ہو کسی دیوار کا سایہ
پڑ جائیں مرے جسم پہ لاکھ آبلہ اکبرؔ پڑھ کر جو کوئی پھونک دے اپریل مئی جون
شدید گرمی میں کیسے نکلے وہ پھول چہرہ سو اپنے رستے میں دھوپ دیوار ہو رہی ہے
آتے ہی جو تم میرے گلے لگ گئے واللہ اس وقت تو اس گرمی نے سب مات کی گرمی
سورج سر پہ آ پہنچا گرمی ہے یا روز جزا
بند آنکھیں کروں اور خواب تمہارے دیکھوں تپتی گرمی میں بھی وادی کے نظارے دیکھوں
تو جون کی گرمی سے نہ گھبرا کہ جہاں میں یہ لو تو ہمیشہ نہ رہی ہے نہ رہے گی
دھوپ کی گرمی سے اینٹیں پک گئیں پھل پک گئے اک ہمارا جسم تھا اختر جو کچا رہ گیا
گرمی سی یہ گرمی ہے مانگ رہے ہیں لوگ پناہ
اتارو بدن سے یہ موٹے لباس نہیں دیکھتیں گرمیاں آ گئیں
گرمیوں بھر مرے کمرے میں پڑا رہتا ہے دیکھ کر رخ مجھے سورج کا یہ گھر لینا تھا
قیامت میں بڑی گرمی پڑے گی حضرت زاہد یہیں سے بادۂ گل رنگ میں دامن کو تر کر لو
تعلقات کی گرمی نہ اعتبار کی دھوپ جھلس رہی ہے زمانے کو انتشار کی دھوپ
گرمی جو آئی گھر کا ہوا دان کھل گیا ساحل پہ جب گیا تو ہر انسان کھل گیا
گرمی میں تیرے کوچہ نشینوں کے واسطے پنکھے ہیں قدسیوں کے پروں کے بہشت میں
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Garmi FAQs
Garmi collection me kya milega?
Garmi se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.