کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی
Poetry Collection
Hawa
You would often come across wind in poetry. It blows in so many ways and so many forms that it gets the attention of poets in one way or the other. Now it blows the lamp, and now it turns into a metaphor for life. It also turns into a pleasant breeze and brings us a unique sensation with its cool touch. Have a look at the verses that move around the idea and experience of wind in various forms.
Total
43
Sher
39
Ghazal
4
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
ان چراغوں میں تیل ہی کم تھا کیوں گلہ پھر ہمیں ہوا سے رہے
چراغ گھر کا ہو محفل کا ہو کہ مندر کا ہوا کے پاس کوئی مصلحت نہیں ہوتی
خوشبو کو پھیلنے کا بہت شوق ہے مگر ممکن نہیں ہواؤں سے رشتہ کئے بغیر
کون طاقوں پہ رہا کون سر راہ گزر شہر کے سارے چراغوں کو ہوا جانتی ہے
مرے سورج آ! مرے جسم پہ اپنا سایہ کر بڑی تیز ہوا ہے سردی آج غضب کی ہے
نہیں ہے میرے مقدر میں روشنی نہ سہی یہ کھڑکی کھولو ذرا صبح کی ہوا ہی لگے
چھیڑ کر جیسے گزر جاتی ہے دوشیزہ ہوا دیر سے خاموش ہے گہرا سمندر اور میں
جرم الفت پہ ہمیں لوگ سزا دیتے ہیں کیسے نادان ہیں شعلوں کو ہوا دیتے ہیں
تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو
ترے بدن کی خلاؤں میں آنکھ کھلتی ہے ہوا کے جسم سے جب جب لپٹ کے سوتا ہوں
یہ ہوا یوں ہی خاک چھانتی ہے یا کوئی چیز کھو گئی ہے یہاں
مرا کمال کہ میں اس فضا میں زندہ ہوں دعا نہ ملتے ہوئے اور ہوا نہ ہوتے ہوئے
کیوں نہ اپنی خوبیٔ قسمت پہ اتراتی ہوا پھول جیسے اک بدن کو چھو کر آئی تھی ہوا
شجر سے بچھڑا ہوا برگ خشک ہوں فیصلؔ ہوا نے اپنے گھرانے میں رکھ لیا ہے مجھے
اندیشہ ہے کہ دے نہ ادھر کی ادھر لگا مجھ کو تو ناپسند وطیرے صبا کے ہیں
گھٹن تو دل کی رہی قصر مرمریں میں بھی نہ روشنی سے ہوا کچھ نہ کچھ ہوا سے ہوا
اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے مگر چراغ نے لو کو سنبھال رکھا ہے
ایک جھونکا ہوا کا آیا زیبؔ اور پھر میں غبار بھی نہ رہا
ہوا تو ہے ہی مخالف مجھے ڈراتا ہے کیا ہوا سے پوچھ کے کوئی دیئے جلاتا ہے کیا
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی
ان چراغوں میں تیل ہی کم تھا کیوں گلہ پھر ہمیں ہوا سے رہے
چراغ گھر کا ہو محفل کا ہو کہ مندر کا ہوا کے پاس کوئی مصلحت نہیں ہوتی
خوشبو کو پھیلنے کا بہت شوق ہے مگر ممکن نہیں ہواؤں سے رشتہ کئے بغیر
کون طاقوں پہ رہا کون سر راہ گزر شہر کے سارے چراغوں کو ہوا جانتی ہے
مرے سورج آ! مرے جسم پہ اپنا سایہ کر بڑی تیز ہوا ہے سردی آج غضب کی ہے
اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے مگر چراغ نے لو کو سنبھال رکھا ہے
نہیں ہے میرے مقدر میں روشنی نہ سہی یہ کھڑکی کھولو ذرا صبح کی ہوا ہی لگے
فلک پر اڑتے جاتے بادلوں کو دیکھتا ہوں میں ہوا کہتی ہے مجھ سے یہ تماشا کیسا لگتا ہے
الٹ رہی تھیں ہوائیں ورق ورق اس کا لکھی گئی تھی جو مٹی پہ وہ کتاب تھا وہ
جرم الفت پہ ہمیں لوگ سزا دیتے ہیں کیسے نادان ہیں شعلوں کو ہوا دیتے ہیں
ہوا تو ہے ہی مخالف مجھے ڈراتا ہے کیا ہوا سے پوچھ کے کوئی دیئے جلاتا ہے کیا
ہوا درختوں سے کہتی ہے دکھ کے لہجے میں ابھی مجھے کئی صحراؤں سے گزرنا ہے
ترے بدن کی خلاؤں میں آنکھ کھلتی ہے ہوا کے جسم سے جب جب لپٹ کے سوتا ہوں
آج لب گہر فشاں آپ نے وا نہیں کیا تذکرۂ خجستۂ آب و ہوا نہیں کیا
مرا کمال کہ میں اس فضا میں زندہ ہوں دعا نہ ملتے ہوئے اور ہوا نہ ہوتے ہوئے
ہوا چلی تو کوئی نقش معتبر نہ بچا کوئی دیا کوئی بادل کوئی شجر نہ بچا
شجر سے بچھڑا ہوا برگ خشک ہوں فیصلؔ ہوا نے اپنے گھرانے میں رکھ لیا ہے مجھے
ہوا سہلا رہی ہے اس کے تن کو وہ شعلہ اب شرارے دے رہا ہے
گھٹن تو دل کی رہی قصر مرمریں میں بھی نہ روشنی سے ہوا کچھ نہ کچھ ہوا سے ہوا
Explore Similar Collections
Hawa FAQs
Hawa collection me kya milega?
Hawa se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.