سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں
Poetry Collection
Jawani
Youth is life’s prime time but it is a passing season. As long as it stays, it keeps us spirited and full of zest. Poets in all languages have composed their verses on this subject. Some examples from Urdu are brought together here. Read and enjoy these reconstructions of youth.
Total
52
Sher
50
Ghazal
2
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ
کہتے ہیں عمر رفتہ کبھی لوٹتی نہیں جا مے کدے سے میری جوانی اٹھا کے لا
ادا آئی جفا آئی غرور آیا حجاب آیا ہزاروں آفتیں لے کر حسینوں پر شباب آیا
طلاق دے تو رہے ہو عتاب و قہر کے ساتھ مرا شباب بھی لوٹا دو میری مہر کے ساتھ
ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا بات پہنچی تری جوانی تک
سفر پیچھے کی جانب ہے قدم آگے ہے میرا میں بوڑھا ہوتا جاتا ہوں جواں ہونے کی خاطر
جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ
اک ادا مستانہ سر سے پاؤں تک چھائی ہوئی اف تری کافر جوانی جوش پر آئی ہوئی
بچ جائے جوانی میں جو دنیا کی ہوا سے ہوتا ہے فرشتہ کوئی انساں نہیں ہوتا
اب جو اک حسرت جوانی ہے عمر رفتہ کی یہ نشانی ہے
لوگ کہتے ہیں کہ بد نامی سے بچنا چاہیئے کہہ دو بے اس کے جوانی کا مزا ملتا نہیں
تصور میں بھی اب وہ بے نقاب آتے نہیں مجھ تک قیامت آ چکی ہے لوگ کہتے ہیں شباب آیا
بلا ہے قہر ہے آفت ہے فتنہ ہے قیامت ہے حسینوں کی جوانی کو جوانی کون کہتا ہے
گداز عشق نہیں کم جو میں جواں نہ رہا وہی ہے آگ مگر آگ میں دھواں نہ رہا
وقت پیری شباب کی باتیں ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں
پیری میں ولولے وہ کہاں ہیں شباب کے اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے
سنبھالا ہوش تو مرنے لگے حسینوں پر ہمیں تو موت ہی آئی شباب کے بدلے
جوانی کو بچا سکتے تو ہیں ہر داغ سے واعظ مگر ایسی جوانی کو جوانی کون کہتا ہے
جوانی کی دعا لڑکوں کو نا حق لوگ دیتے ہیں یہی لڑکے مٹاتے ہیں جوانی کو جواں ہو کر
سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ
کہتے ہیں عمر رفتہ کبھی لوٹتی نہیں جا مے کدے سے میری جوانی اٹھا کے لا
ادا آئی جفا آئی غرور آیا حجاب آیا ہزاروں آفتیں لے کر حسینوں پر شباب آیا
طلاق دے تو رہے ہو عتاب و قہر کے ساتھ مرا شباب بھی لوٹا دو میری مہر کے ساتھ
ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا بات پہنچی تری جوانی تک
سفر پیچھے کی جانب ہے قدم آگے ہے میرا میں بوڑھا ہوتا جاتا ہوں جواں ہونے کی خاطر
جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ
اک ادا مستانہ سر سے پاؤں تک چھائی ہوئی اف تری کافر جوانی جوش پر آئی ہوئی
بچ جائے جوانی میں جو دنیا کی ہوا سے ہوتا ہے فرشتہ کوئی انساں نہیں ہوتا
اب جو اک حسرت جوانی ہے عمر رفتہ کی یہ نشانی ہے
لوگ کہتے ہیں کہ بد نامی سے بچنا چاہیئے کہہ دو بے اس کے جوانی کا مزا ملتا نہیں
وہ کچھ مسکرانا وہ کچھ جھینپ جانا جوانی ادائیں سکھاتی ہیں کیا کیا
تصور میں بھی اب وہ بے نقاب آتے نہیں مجھ تک قیامت آ چکی ہے لوگ کہتے ہیں شباب آیا
جوانی کی دعا لڑکوں کو نا حق لوگ دیتے ہیں یہی لڑکے مٹاتے ہیں جوانی کو جواں ہو کر
ہائے سیمابؔ اس کی مجبوری جس نے کی ہو شباب میں توبہ
ہے جوانی خود جوانی کا سنگار سادگی گہنہ ہے اس سن کے لیے
وقت پیری شباب کی باتیں ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں
پیری میں ولولے وہ کہاں ہیں شباب کے اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے
سنبھالا ہوش تو مرنے لگے حسینوں پر ہمیں تو موت ہی آئی شباب کے بدلے
Explore Similar Collections
Jawani FAQs
Jawani collection me kya milega?
Jawani se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.