Poetry Collection

Judai

Some excellent judai shayari in urdu shayari are enlisted to serve as your ally in the difficult times. The pain or inevitability of separation weighs heavy even on the strongest minds.

Total

93

Sher

50

Ghazal

43

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

آپ کے بعد ہر گھڑی ہم نے آپ کے ساتھ ہی گزاری ہے

وہ آ رہے ہیں وہ آتے ہیں آ رہے ہوں گے شب فراق یہ کہہ کر گزار دی ہم نے

کچھ خبر ہے تجھے او چین سے سونے والے رات بھر کون تری یاد میں بیدار رہا

بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے

اس کو رخصت تو کیا تھا مجھے معلوم نہ تھا سارا گھر لے گیا گھر چھوڑ کے جانے والا

گزر تو جائے گی تیرے بغیر بھی لیکن بہت اداس بہت بے قرار گزرے گی

یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جانا جس طرح پھول سے خوشبو کا جدا ہو جانا

آ کہ تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میں جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا ہوں میں

تھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شب وہ آئے تو بھی نیند نہ آئی تمام شب

طلاق دے تو رہے ہو عتاب و قہر کے ساتھ مرا شباب بھی لوٹا دو میری مہر کے ساتھ

ہر ملاقات کا انجام جدائی کیوں ہے اب تو ہر وقت یہی بات ستاتی ہے ہمیں

ہوا ہے تجھ سے بچھڑنے کے بعد یہ معلوم کہ تو نہیں تھا ترے ساتھ ایک دنیا تھی

اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا

کتنی لمبی خاموشی سے گزرا ہوں ان سے کتنا کچھ کہنے کی کوشش کی

اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی

یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

ہوا ہے تجھ سے بچھڑنے کے بعد یہ معلوم کہ تو نہیں تھا ترے ساتھ ایک دنیا تھی

آپ کے بعد ہر گھڑی ہم نے آپ کے ساتھ ہی گزاری ہے

اب جدائی کے سفر کو مرے آسان کرو تم مجھے خواب میں آ کر نہ پریشان کرو

ملنا تھا اتفاق بچھڑنا نصیب تھا وہ اتنی دور ہو گیا جتنا قریب تھا

کچھ خبر ہے تجھے او چین سے سونے والے رات بھر کون تری یاد میں بیدار رہا

بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے

کتنی لمبی خاموشی سے گزرا ہوں ان سے کتنا کچھ کہنے کی کوشش کی

جدائیوں کے زخم درد زندگی نے بھر دیے تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی صبر آ گیا

گزر تو جائے گی تیرے بغیر بھی لیکن بہت اداس بہت بے قرار گزرے گی

یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جانا جس طرح پھول سے خوشبو کا جدا ہو جانا

آ کہ تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میں جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا ہوں میں

میں نے سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے تو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کر دی

تھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شب وہ آئے تو بھی نیند نہ آئی تمام شب

یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے

طلاق دے تو رہے ہو عتاب و قہر کے ساتھ مرا شباب بھی لوٹا دو میری مہر کے ساتھ

مہینے وصل کے گھڑیوں کی صورت اڑتے جاتے ہیں مگر گھڑیاں جدائی کی گزرتی ہیں مہینوں میں

Explore Similar Collections

Judai FAQs

Judai collection me kya milega?

Judai se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.