Poetry Collection

Khwab

Dream is not only that which we have during our sleep; they also come to us when we are wide awake and we chase them feverishly. Here is a selection of verses that draw upon the experience of dream, their realisation, and how they represent human concerns. Read them and you will find the reflections of your own dreams here.

Total

57

Sher

50

Ghazal

7

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

اب جدائی کے سفر کو مرے آسان کرو تم مجھے خواب میں آ کر نہ پریشان کرو

اور تو کیا تھا بیچنے کے لئے اپنی آنکھوں کے خواب بیچے ہیں

خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے

کبھی جو خواب تھا وہ پا لیا ہے مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی

ہر ایک رات کو مہتاب دیکھنے کے لیے میں جاگتا ہوں ترا خواب دیکھنے کے لیے

یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں انہیں کھلونوں سے تم بھی بہل سکو تو چلو

اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا

کہانی لکھتے ہوئے داستاں سناتے ہوئے وہ سو گیا ہے مجھے خواب سے جگاتے ہوئے

جس طرح خواب مرے ہو گئے ریزہ ریزہ اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے بکھرے کوئی

میری رسوائی کے اسباب ہیں میرے اندر آدمی ہوں سو بہت خواب ہیں میرے اندر

آنکھیں کھلیں تو جاگ اٹھیں حسرتیں تمام اس کو بھی کھو دیا جسے پایا تھا خواب میں

دیکھی تھی ایک رات تری زلف خواب میں پھر جب تلک جیا میں پریشان ہی رہا

میرے خوابوں میں بھی تو میرے خیالوں میں بھی تو کون سی چیز تجھے تجھ سے جدا پیش کروں

طلب کریں تو یہ آنکھیں بھی ان کو دے دوں میں مگر یہ لوگ ان آنکھوں کے خواب مانگتے ہیں

خوابوں پر اختیار نہ یادوں پہ زور ہے کب زندگی گزاری ہے اپنے حساب میں

بیٹیاں باپ کی آنکھوں میں چھپے خواب کو پہچانتی ہیں اور کوئی دوسرا اس خواب کو پڑھ لے تو برا مانتی ہیں

میں نے دیکھا ہے بہاروں میں چمن کو جلتے ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا

اب جدائی کے سفر کو مرے آسان کرو تم مجھے خواب میں آ کر نہ پریشان کرو

اور تو کیا تھا بیچنے کے لئے اپنی آنکھوں کے خواب بیچے ہیں

خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے

کبھی جو خواب تھا وہ پا لیا ہے مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی

ہر ایک رات کو مہتاب دیکھنے کے لیے میں جاگتا ہوں ترا خواب دیکھنے کے لیے

یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں انہیں کھلونوں سے تم بھی بہل سکو تو چلو

اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا

بیٹیاں باپ کی آنکھوں میں چھپے خواب کو پہچانتی ہیں اور کوئی دوسرا اس خواب کو پڑھ لے تو برا مانتی ہیں

کہانی لکھتے ہوئے داستاں سناتے ہوئے وہ سو گیا ہے مجھے خواب سے جگاتے ہوئے

روز وہ خواب میں آتے ہیں گلے ملنے کو میں جو سوتا ہوں تو جاگ اٹھتی ہے قسمت میری

میری رسوائی کے اسباب ہیں میرے اندر آدمی ہوں سو بہت خواب ہیں میرے اندر

تمہارے خواب سے ہر شب لپٹ کے سوتے ہیں سزائیں بھیج دو ہم نے خطائیں بھیجی ہیں

میں نے دیکھا ہے بہاروں میں چمن کو جلتے ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا

دیکھی تھی ایک رات تری زلف خواب میں پھر جب تلک جیا میں پریشان ہی رہا

میرے خوابوں میں بھی تو میرے خیالوں میں بھی تو کون سی چیز تجھے تجھ سے جدا پیش کروں

طلب کریں تو یہ آنکھیں بھی ان کو دے دوں میں مگر یہ لوگ ان آنکھوں کے خواب مانگتے ہیں

خوابوں پر اختیار نہ یادوں پہ زور ہے کب زندگی گزاری ہے اپنے حساب میں

Explore Similar Collections

Khwab FAQs

Khwab collection me kya milega?

Khwab se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.