Poetry Collection

Parwana

Moth that sheds its life whirling round a lamp has emerged as a strong metaphor in Urdu poetry. Classical Urdu poetry has exploited the metaphoric value of this spectacle in most creative ways. You may like to see some of the examples around this theme.

Total

23

Sher

22

Ghazal

1

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

سب اک چراغ کے پروانے ہونا چاہتے ہیں عجیب لوگ ہیں دیوانے ہونا چاہتے ہیں

ہوتی کہاں ہے دل سے جدا دل کی آرزو جاتا کہاں ہے شمع کو پروانہ چھوڑ کر

پروانوں کا تو حشر جو ہونا تھا ہو چکا گزری ہے رات شمع پہ کیا دیکھتے چلیں

مت کرو شمع کوں بد نام جلاتی وہ نہیں آپ سیں شوق پتنگوں کو ہے جل جانے کا

پروانے آ ہی جائیں گے کھنچ کر بہ جبر عشق محفل میں صرف شمع جلانے کی دیر ہے

~ Mahirul Qadri

عشق میں نسبت نہیں بلبل کو پروانے کے ساتھ وصل میں وہ جان دے یہ ہجر میں جیتی رہے

یہ اپنے دل کی لگی کو بجھانے آتے ہیں پرائی آگ میں جلتے نہیں ہیں پروانے

پروانہ کی تپش نے خدا جانے کان میں کیا کہہ دیا کہ شمع کے سر سے دھواں اٹھا

موجد جو نور کا ہے وہ میرا چراغ ہے پروانہ ہوں میں انجمن کائنات کا

وہ شمع کرے فخر بھلا خود پہ تو کیسے دہلیز پہ جس کی کوئی پروانہ نہیں ہے

نظروں میں تصادم دل میں چبھن اک شمع ہے اک پروانہ ہے دونوں ہی میں باتیں ہوتی ہیں آواز کا لیکن نام نہیں

خاک کر دیوے جلا کر پہلے پھر ٹسوے بہائے شمع مجلس میں بڑی دل سوز پروانے کی ہے

مثل پروانہ فدا ہر ایک کا دل ہو گیا یار جس محفل میں بیٹھا شمع محفل ہو گیا

شمع پر خون کا الزام ہو ثابت کیوں کر پھونک دی لاش بھی کمبخت نے پروانے کی

سب اک چراغ کے پروانے ہونا چاہتے ہیں عجیب لوگ ہیں دیوانے ہونا چاہتے ہیں

ہوتی کہاں ہے دل سے جدا دل کی آرزو جاتا کہاں ہے شمع کو پروانہ چھوڑ کر

پروانوں کا تو حشر جو ہونا تھا ہو چکا گزری ہے رات شمع پہ کیا دیکھتے چلیں

مثل پروانہ فدا ہر ایک کا دل ہو گیا یار جس محفل میں بیٹھا شمع محفل ہو گیا

مت کرو شمع کوں بد نام جلاتی وہ نہیں آپ سیں شوق پتنگوں کو ہے جل جانے کا

شمع پر خون کا الزام ہو ثابت کیوں کر پھونک دی لاش بھی کمبخت نے پروانے کی

عشق میں نسبت نہیں بلبل کو پروانے کے ساتھ وصل میں وہ جان دے یہ ہجر میں جیتی رہے

یہ اپنے دل کی لگی کو بجھانے آتے ہیں پرائی آگ میں جلتے نہیں ہیں پروانے

پروانہ کی تپش نے خدا جانے کان میں کیا کہہ دیا کہ شمع کے سر سے دھواں اٹھا

موجد جو نور کا ہے وہ میرا چراغ ہے پروانہ ہوں میں انجمن کائنات کا

وہ شمع کرے فخر بھلا خود پہ تو کیسے دہلیز پہ جس کی کوئی پروانہ نہیں ہے

نظروں میں تصادم دل میں چبھن اک شمع ہے اک پروانہ ہے دونوں ہی میں باتیں ہوتی ہیں آواز کا لیکن نام نہیں

خاک کر دیوے جلا کر پہلے پھر ٹسوے بہائے شمع مجلس میں بڑی دل سوز پروانے کی ہے

You have reached the end.

Explore Similar Collections

Parwana FAQs

Parwana collection me kya milega?

Parwana se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.