Top 20 Sher Series

Shayari of Akbar Allahabadi

Shayari of Akbar Allahabadi ek clean reading flow me, writer aur full-detail links ke saath.

Total

20

Sher

20

Featured Picks

Series se pehle kuch standout sher padhein.

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

پیدا ہوا وکیل تو شیطان نے کہا لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہو گئے

حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا حسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا

جو کہا میں نے کہ پیار آتا ہے مجھ کو تم پر ہنس کے کہنے لگا اور آپ کو آتا کیا ہے

رہتا ہے عبادت میں ہمیں موت کا کھٹکا ہم یاد خدا کرتے ہیں کر لے نہ خدا یاد

ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں کہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں

میں بھی گریجویٹ ہوں تم بھی گریجویٹ علمی مباحثے ہوں ذرا پاس آ کے لیٹ

بی.اے. بھی پاس ہوں ملے بی بی بھی دل پسند محنت کی ہے وہ بات یہ قسمت کی بات ہے

لپٹ بھی جا نہ رک اکبرؔ غضب کی بیوٹی ہے نہیں نہیں پہ نہ جا یہ حیا کی ڈیوٹی ہے

جو وقت ختنہ میں چیخا تو نائی نے کہا ہنس کر مسلمانی میں طاقت خون ہی بہنے سے آتی ہے

حقیقی اور مجازی شاعری میں فرق یہ پایا کہ وہ جامے سے باہر ہے یہ پاجامے سے باہر ہے

کوٹ اور پتلون جب پہنا تو مسٹر بن گیا جب کوئی تقریر کی جلسے میں لیڈر بن گیا

دھمکا کے بوسے لوں گا رخ رشک ماہ کا چندا وصول ہوتا ہے صاحب دباؤ سے

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

پیدا ہوا وکیل تو شیطان نے کہا لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہو گئے

حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا حسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا

جو کہا میں نے کہ پیار آتا ہے مجھ کو تم پر ہنس کے کہنے لگا اور آپ کو آتا کیا ہے

رہتا ہے عبادت میں ہمیں موت کا کھٹکا ہم یاد خدا کرتے ہیں کر لے نہ خدا یاد

ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں کہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں

میں بھی گریجویٹ ہوں تم بھی گریجویٹ علمی مباحثے ہوں ذرا پاس آ کے لیٹ

بی.اے. بھی پاس ہوں ملے بی بی بھی دل پسند محنت کی ہے وہ بات یہ قسمت کی بات ہے

لپٹ بھی جا نہ رک اکبرؔ غضب کی بیوٹی ہے نہیں نہیں پہ نہ جا یہ حیا کی ڈیوٹی ہے

جو وقت ختنہ میں چیخا تو نائی نے کہا ہنس کر مسلمانی میں طاقت خون ہی بہنے سے آتی ہے

حقیقی اور مجازی شاعری میں فرق یہ پایا کہ وہ جامے سے باہر ہے یہ پاجامے سے باہر ہے

کوٹ اور پتلون جب پہنا تو مسٹر بن گیا جب کوئی تقریر کی جلسے میں لیڈر بن گیا

دھمکا کے بوسے لوں گا رخ رشک ماہ کا چندا وصول ہوتا ہے صاحب دباؤ سے

You have reached the end.

Explore Similar Collections

Shayari of Akbar Allahabadi FAQs

Akbar Allahabadi Top 20 me kya milega?

Akbar Allahabadi ke selected sher readable cards, internal detail links, aur writer discovery ke saath milenge.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.