Poetry Collection

Shohrat

Human beings have a natural desire to earn fame. But doing so in an unscrupulous manner disqualifies him from being a human being in the real sense. The good and bad aspects of fame are presented here in this selection.

Total

25

Sher

24

Ghazal

1

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے

ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام بد نام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

کسی کو بے سبب شہرت نہیں ملتی ہے اے واحدؔ انہیں کے نام ہیں دنیا میں جن کے کام اچھے ہیں

شہرت کی فضاؤں میں اتنا نہ اڑو ساغرؔ پرواز نہ کھو جائے ان اونچی اڑانوں میں

اب تو دروازے سے اپنے نام کی تختی اتار لفظ ننگے ہو گئے شہرت بھی گالی ہو گئی

کیا پوچھتے ہو کون ہے یہ کس کی ہے شہرت کیا تم نے کبھی داغؔ کا دیواں نہیں دیکھا

الجھ رہے ہیں بہت لوگ میری شہرت سے کسی کو یوں تو کوئی مجھ سے اختلاف نہ تھا

بلندی دیر تک کس شخص کے حصے میں رہتی ہے بہت اونچی عمارت ہر گھڑی خطرے میں رہتی ہے

وہ جنوں کو بڑھائے جائیں گے ان کی شہرت ہے میری رسوائی

بکتا رہتا سر بازار کئی قسطوں میں شکر ہے میرے خدا نے مجھے شہرت نہیں دی

میاں یہ چادر شہرت تم اپنے پاس رکھو کہ اس سے پاؤں جو ڈھانپیں تو سر نکلتا ہے

مجھ سے یہ پوچھ رہے ہیں مرے احباب عزیزؔ کیا ملا شہر سخن میں تمہیں شہرت کے سوا

کون مصلوب ہوا حسن کا کردار کہ ہم شہرت عشق میں بدنام ہوا یار کہ ہم

فرحتؔ ترے نغموں کی وہ شہرت ہے جہاں میں واللہ ترا رنگ سخن یاد رہے گا

کھو دیا شہرت نے اپنی شعر خوانی کا مزا داد مل جاتی ہے ناطقؔ ہر رطب یابس کے بعد

شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے

ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام بد نام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

کسی کو بے سبب شہرت نہیں ملتی ہے اے واحدؔ انہیں کے نام ہیں دنیا میں جن کے کام اچھے ہیں

شہرت کی فضاؤں میں اتنا نہ اڑو ساغرؔ پرواز نہ کھو جائے ان اونچی اڑانوں میں

اب تو دروازے سے اپنے نام کی تختی اتار لفظ ننگے ہو گئے شہرت بھی گالی ہو گئی

کیا پوچھتے ہو کون ہے یہ کس کی ہے شہرت کیا تم نے کبھی داغؔ کا دیواں نہیں دیکھا

الجھ رہے ہیں بہت لوگ میری شہرت سے کسی کو یوں تو کوئی مجھ سے اختلاف نہ تھا

بلندی دیر تک کس شخص کے حصے میں رہتی ہے بہت اونچی عمارت ہر گھڑی خطرے میں رہتی ہے

وہ جنوں کو بڑھائے جائیں گے ان کی شہرت ہے میری رسوائی

بکتا رہتا سر بازار کئی قسطوں میں شکر ہے میرے خدا نے مجھے شہرت نہیں دی

میاں یہ چادر شہرت تم اپنے پاس رکھو کہ اس سے پاؤں جو ڈھانپیں تو سر نکلتا ہے

مجھ سے یہ پوچھ رہے ہیں مرے احباب عزیزؔ کیا ملا شہر سخن میں تمہیں شہرت کے سوا

کون مصلوب ہوا حسن کا کردار کہ ہم شہرت عشق میں بدنام ہوا یار کہ ہم

فرحتؔ ترے نغموں کی وہ شہرت ہے جہاں میں واللہ ترا رنگ سخن یاد رہے گا

کھو دیا شہرت نے اپنی شعر خوانی کا مزا داد مل جاتی ہے ناطقؔ ہر رطب یابس کے بعد

You have reached the end.

Explore Similar Collections

Shohrat FAQs

Shohrat collection me kya milega?

Shohrat se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.