Poetry Collection

Unity

Unity is a big human strength. We celebrate its presence and deplore its absence in our day-to-day lives. This forms the basis of a good social order and ensures peace and harmony in society. We come across many conditions in our individual and social lives that determine our identity in relation to unity. Many facets of unity are presented in the shers selected for you under this category. You may have a glimpse of these here.

Total

27

Sher

25

Ghazal

2

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

ہم اپنی جان کے دشمن کو اپنی جان کہتے ہیں محبت کی اسی مٹی کو ہندستان کہتے ہیں

سات صندوقوں میں بھر کر دفن کر دو نفرتیں آج انساں کو محبت کی ضرورت ہے بہت

سگی بہنوں کا جو رشتہ ہے اردو اور ہندی میں کہیں دنیا کی دو زندہ زبانوں میں نہیں ملتا

یہ دنیا نفرتوں کے آخری اسٹیج پہ ہے علاج اس کا محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے

اب تو مذہب کوئی ایسا بھی چلایا جائے جس میں انسان کو انسان بنایا جائے

مجھ میں تھوڑی سی جگہ بھی نہیں نفرت کے لیے میں تو ہر وقت محبت سے بھرا رہتا ہوں

اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائے

ہمارا خون کا رشتہ ہے سرحدوں کا نہیں ہمارے خون میں گنگا بھی چناب بھی ہے

ہمارے غم تمہارے غم برابر ہیں سو اس نسبت سے تم اور ہم برابر ہیں

کسی کا کوئی مر جائے ہمارے گھر میں ماتم ہے غرض بارہ مہینے تیس دن ہم کو محرم ہے

رنجشیں ایسی ہزار آپس میں ہوتی ہیں دلا وہ اگر تجھ سے خفا ہے تو ہی جا مل کیا ہوا

ہم اہل دل نے معیار محبت بھی بدل ڈالے جو غم ہر فرد کا غم ہے اسی کو غم سمجھتے ہیں

بہت تیزاب پھیلا ہے گلی کوچوں میں نفرت کا محبت پھر بھی اپنے کام سے باہر نکلتی ہے

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

ہم اپنی جان کے دشمن کو اپنی جان کہتے ہیں محبت کی اسی مٹی کو ہندستان کہتے ہیں

سات صندوقوں میں بھر کر دفن کر دو نفرتیں آج انساں کو محبت کی ضرورت ہے بہت

سگی بہنوں کا جو رشتہ ہے اردو اور ہندی میں کہیں دنیا کی دو زندہ زبانوں میں نہیں ملتا

یہ دنیا نفرتوں کے آخری اسٹیج پہ ہے علاج اس کا محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے

اب تو مذہب کوئی ایسا بھی چلایا جائے جس میں انسان کو انسان بنایا جائے

مجھ میں تھوڑی سی جگہ بھی نہیں نفرت کے لیے میں تو ہر وقت محبت سے بھرا رہتا ہوں

اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائے

ہمارا خون کا رشتہ ہے سرحدوں کا نہیں ہمارے خون میں گنگا بھی چناب بھی ہے

ہمارے غم تمہارے غم برابر ہیں سو اس نسبت سے تم اور ہم برابر ہیں

کسی کا کوئی مر جائے ہمارے گھر میں ماتم ہے غرض بارہ مہینے تیس دن ہم کو محرم ہے

رنجشیں ایسی ہزار آپس میں ہوتی ہیں دلا وہ اگر تجھ سے خفا ہے تو ہی جا مل کیا ہوا

ہم اہل دل نے معیار محبت بھی بدل ڈالے جو غم ہر فرد کا غم ہے اسی کو غم سمجھتے ہیں

بہت تیزاب پھیلا ہے گلی کوچوں میں نفرت کا محبت پھر بھی اپنے کام سے باہر نکلتی ہے

You have reached the end.

Explore Similar Collections

Unity FAQs

Unity collection me kya milega?

Unity se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.