aadmi khvar bhi hota hai nahin bhi hota ishq azar bhi hota hai nahin bhi hota ye jo kuchh log khayalon men raha karte hain un ka ghar-bar bhi hota hai nahin bhi hota zindagi sahl-pasandi men basar kar lena kar-e-dushvar bhi hota hai nahin bhi hota kar-e-duniya hi kuchh aisa hai ki dil se tira dard silsila-var bhi hota hai nahin bhi hota shadi-o-marg ne ye nukta bataya hai ki vaqt tez-raftar bhi hota hai nahin bhi hota 'afzal' aur qais ne qanun banaya hai ki ishq dusri baar bhi hota hai nahin bhi hota aadmi khwar bhi hota hai nahin bhi hota ishq aazar bhi hota hai nahin bhi hota ye jo kuchh log khayalon mein raha karte hain un ka ghar-bar bhi hota hai nahin bhi hota zindagi sahl-pasandi mein basar kar lena kar-e-dushwar bhi hota hai nahin bhi hota kar-e-duniya hi kuchh aisa hai ki dil se tera dard silsila-war bhi hota hai nahin bhi hota shadi-o-marg ne ye nukta bataya hai ki waqt tez-raftar bhi hota hai nahin bhi hota 'afzal' aur qais ne qanun banaya hai ki ishq dusri bar bhi hota hai nahin bhi hota
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
More from Afzal Khan
مجھے رونا نہیں آواز بھی بھاری نہیں کرنی محبت کی کہانی ہے وہ ہے وہ اداکاری نہیں کرنی ہوا کے خوف سے لپٹا ہوا ہوں خشک ٹہنی سے کہی جانا نہیں جانے کی تیاری نہیں کرنی تحمل اے محبت ہجر پتھریلا علاقہ ہے تجھے ا سے راستے پر تیز رفتاری نہیں کرنی ہمارا دل ذرا اکتا گیا تو تھا گھر ہے وہ ہے وہ رہ رہ کر یوںہی بازار آئی ہیں خریداری نہیں کرنی غزل کو کم نگا ہوں کی پہنچ سے دور رکھتا ہوں مجھے بنجر دماغوں ہے وہ ہے وہ شجر کاری نہیں کرنی وصیت کی تھی مجھ کو قی سے نے صحرا کے بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ میرا گھر ہے ا سے کی چار دیواری نہیں کرنی
Afzal Khan
0 likes
تبھی تو ہے وہ ہے وہ محبت کا حوالاتی نہیں ہوتا ی ہاں اپنے سوا کوئی ملاقاتی نہیں ہوتا گرفتار وفا رونے کا کوئی ایک موسم رکھ جو نالہ روز بہ نکلے حقیقت برساتی نہیں ہوتا چیزیں کا ارادہ ہے تو مجھ سے مشورہ کر لو محبت ہے وہ ہے وہ کوئی بھی فیصلہ ذاتی نہیں ہوتا تمہیں دل ہے وہ ہے وہ جگہ دی تھی نظر سے دور کیا کرتے جو مرکز ہے وہ ہے وہ ٹھہر جائے مضافاتی نہیں ہوتا
Afzal Khan
0 likes
وہ جو اک شخص وہاں ہے وہ یہاں کیسے ہو ہجر پر وصل کی حالت کا گماں کیسے ہو بے نمو خواب میں پیوسٹ جڑیں ہیں میری ایک گملے میں کوئی نخل جواں کیسے ہو تم تو الفاظ کے چشم مے فروش سے بھی مر جاتے تھے اب جو حالات ہیں اے اہل زبان کیسے ہو آنکھ کے پہلے کنارے پہ کھڑا آخری اشک رنج کے رحم و کرم پر ہے رواں کیسے ہو بھاو تاو میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی ہاں مگر تجھ سے خریدار کو ناں کیسے ہو ملتے رہتے ہیں مجھے آج بھی غالب کے خطوط وہی انداز تخاطب کہ میاں کیسے ہو
Afzal Khan
0 likes
تبھی تو ہے وہ ہے وہ محبت کا حوالاتی نہیں ہوتا ی ہاں اپنے سوا کوئی ملاقاتی نہیں ہوتا گرفتار وفا رونے کا کوئی ایک موسم رکھ جو نالہ روز بہ نکلے حقیقت برساتی نہیں ہوتا چیزیں کا ارادہ ہے تو مجھ سے مشورہ کر لو محبت ہے وہ ہے وہ کوئی بھی فیصلہ ذاتی نہیں ہوتا تمہیں دل ہے وہ ہے وہ جگہ دی تھی نظر سے دور کیا کرتے جو مرکز ہے وہ ہے وہ ٹھہر جائے مضافاتی نہیں ہوتا
Afzal Khan
0 likes
وہ جو اک شخص وہاں ہے وہ یہاں کیسے ہو ہجر پر وصل کی حالت کا گماں کیسے ہو بے نمو خواب میں پیوسٹ جڑیں ہیں میری ایک گملے میں کوئی نخل جواں کیسے ہو تم تو الفاظ کے چشم مے فروش سے بھی مر جاتے تھے اب جو حالات ہیں اے اہل زبان کیسے ہو آنکھ کے پہلے کنارے پہ کھڑا آخری اشک رنج کے رحم و کرم پر ہے رواں کیسے ہو بھاو تاو میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی ہاں مگر تجھ سے خریدار کو ناں کیسے ہو ملتے رہتے ہیں مجھے آج بھی غالب کے خطوط وہی انداز تخاطب کہ میاں کیسے ہو
Afzal Khan
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Afzal Khan.
Similar Moods
More moods that pair well with Afzal Khan's ghazal.







