ghazalKuch Alfaaz

آج ہی فرصت سے کل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مسئلہ حل ہوں تو حل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ وصل و ہجراں ہے وہ ہے وہ تناسب راست ہونا چاہیے عشق کے رد عمل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیکھنا سب لوگ مجھ کو خارجی ٹھہرائیں گے کل ی ہاں جنگ جمل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کشتیوں والے مجھے تاوان دے کر پار جائیں ور لگ لہروں ہے وہ ہے وہ خلل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مل ہی جائیں گے کہی تو مجھ کو بیدل حیدری کوزہ گر والی غزل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے شجر کی ایک ٹہنی پرلے آنگن ہے وہ ہے وہ بھی ہے اپنے ہم سایہ سے پھل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ

Afzal Khan0 Likes

Related Ghazal

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

More from Afzal Khan

مجھے رونا نہیں آواز بھی بھاری نہیں کرنی محبت کی کہانی ہے وہ ہے وہ اداکاری نہیں کرنی ہوا کے خوف سے لپٹا ہوا ہوں خشک ٹہنی سے کہی جانا نہیں جانے کی تیاری نہیں کرنی تحمل اے محبت ہجر پتھریلا علاقہ ہے تجھے ا سے راستے پر تیز رفتاری نہیں کرنی ہمارا دل ذرا اکتا گیا تو تھا گھر ہے وہ ہے وہ رہ رہ کر یوںہی بازار آئی ہیں خریداری نہیں کرنی غزل کو کم نگا ہوں کی پہنچ سے دور رکھتا ہوں مجھے بنجر دماغوں ہے وہ ہے وہ شجر کاری نہیں کرنی وصیت کی تھی مجھ کو قی سے نے صحرا کے بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ میرا گھر ہے ا سے کی چار دیواری نہیں کرنی

Afzal Khan

0 likes

تبھی تو ہے وہ ہے وہ محبت کا حوالاتی نہیں ہوتا ی ہاں اپنے سوا کوئی ملاقاتی نہیں ہوتا گرفتار وفا رونے کا کوئی ایک موسم رکھ جو نالہ روز بہ نکلے حقیقت برساتی نہیں ہوتا چیزیں کا ارادہ ہے تو مجھ سے مشورہ کر لو محبت ہے وہ ہے وہ کوئی بھی فیصلہ ذاتی نہیں ہوتا تمہیں دل ہے وہ ہے وہ جگہ دی تھی نظر سے دور کیا کرتے جو مرکز ہے وہ ہے وہ ٹھہر جائے مضافاتی نہیں ہوتا

Afzal Khan

0 likes

وہ جو اک شخص وہاں ہے وہ یہاں کیسے ہو ہجر پر وصل کی حالت کا گماں کیسے ہو بے نمو خواب میں پیوسٹ جڑیں ہیں میری ایک گملے میں کوئی نخل جواں کیسے ہو تم تو الفاظ کے چشم مے فروش سے بھی مر جاتے تھے اب جو حالات ہیں اے اہل زبان کیسے ہو آنکھ کے پہلے کنارے پہ کھڑا آخری اشک رنج کے رحم و کرم پر ہے رواں کیسے ہو بھاو تاو میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی ہاں مگر تجھ سے خریدار کو ناں کیسے ہو ملتے رہتے ہیں مجھے آج بھی غالب کے خطوط وہی انداز تخاطب کہ میاں کیسے ہو

Afzal Khan

0 likes

تبھی تو ہے وہ ہے وہ محبت کا حوالاتی نہیں ہوتا ی ہاں اپنے سوا کوئی ملاقاتی نہیں ہوتا گرفتار وفا رونے کا کوئی ایک موسم رکھ جو نالہ روز بہ نکلے حقیقت برساتی نہیں ہوتا چیزیں کا ارادہ ہے تو مجھ سے مشورہ کر لو محبت ہے وہ ہے وہ کوئی بھی فیصلہ ذاتی نہیں ہوتا تمہیں دل ہے وہ ہے وہ جگہ دی تھی نظر سے دور کیا کرتے جو مرکز ہے وہ ہے وہ ٹھہر جائے مضافاتی نہیں ہوتا

Afzal Khan

0 likes

آج ہی فرصت سے کل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مسئلہ حل ہوں تو حل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ وصل و ہجراں ہے وہ ہے وہ تناسب راست ہونا چاہیے عشق کے رد عمل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیکھنا سب لوگ مجھ کو خارجی ٹھہرائیں گے کل ی ہاں جنگ جمل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کشتیوں والے مجھے تاوان دے کر پار جائیں ور لگ لہروں ہے وہ ہے وہ خلل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مل ہی جائیں گے کہی تو مجھ کو بیدل حیدری کوزہ گر والی غزل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے شجر کی ایک ٹہنی پرلے آنگن ہے وہ ہے وہ بھی ہے اپنے ہم سایہ سے پھل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ

Afzal Khan

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Afzal Khan.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Afzal Khan's ghazal.