ghazalKuch Alfaaz

aankh uthai hi thi ki khaai chot bach gai aankh dil pe aai chot dard-e-dil ki unhen khabar kya ho janta kaun hai parai chot aai tanha na khana-e-dil men dard ko apne saath laai chot teghh thi haath men na khanjar tha us ne kya jaane kya lagai chot yuun na qatil ko jab yaqin aaya ham ne dil khol kar dikhai chot aur kya karte ham bala-kash-e-ghham jo padi dil pe vo uthai chot kahin chhupti bhi hai lagi dil ki laakh 'fani' ne go chhupai chot aankh uthai hi thi ki khai chot bach gai aankh dil pe aai chot dard-e-dil ki unhen khabar kya ho jaanta kaun hai parai chot aai tanha na khana-e-dil mein dard ko apne sath lai chot tegh thi hath mein na khanjar tha us ne kya jaane kya lagai chot yun na qatil ko jab yaqin aaya hum ne dil khol kar dikhai chot aur kya karte hum bala-kash-e-gham jo padi dil pe wo uthai chot kahin chhupti bhi hai lagi dil ki lakh 'fani' ne go chhupai chot

Related Ghazal

اپنی آنکھوں ہے وہ ہے وہ بھر کر لے جانے ہیں مجھ کو ا سے کے آنسو کام ہے وہ ہے وہ لانے ہے دیکھو ہم کوئی وحشی نہیں دیوانے ہیں جاناں سے بٹن کھلواتے نہیں لگواتے ہیں ہم جاناں اک دوجے کی سیڑھی ہے جاناں باقی دنیا تو سانپوں کے خانے ہیں پاکیزہ چیزوں کو پاکیزہ لکھو مت لکھو ا سے کی آنکھیں مے خانے ہیں

Varun Anand

63 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

اشک ناداں سے کہو بعد میں اڑائیں گے آپ گرکر میری آنکھوں سے کدھر جائیں گے اپنے لفظوں کو تکلم سے گرا کر جانا اپنے لہجے کی تھکاوٹ میں بکھر جائیں گے اک تیرا گھر تھا میری حد مسافت لیکن اب یہ سوچا ہے کہ ہم حد سے گزر جائیں گے اپنے افکار جلا ڈالیںگے کاغذ کاغذ سوچ مر جائے گی تو ہم آپ بھی مر جائیں گے اس سے پہلے کہ جدائی کی خبر تم سے ملے ہم نے سوچا ہے کہ ہم تم سے بچھڑ جائیں گے

Khalil Ur Rehman Qamar

50 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

More from Fani Badayuni

خلق کہتی ہے جسے دل تری دیوانے کا ایک گوشہ ہے یہ دنیا اسی ویرانے کا اک معمہ ہے سمجھنے کا لگ سمجھانے کا زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا حسن ہے ذات مری عشق صفت ہے مری ہوں تو ہے وہ ہے وہ شمع م گر بھی سے ہے پروانے کا کعبہ کو دل کی زیارت کے لیے جاتا ہوں آستا لگ ہے حرم مری صنم خانے کا بڑھوا قصہ غم یہ ہے کہ دل رکھتا ہوں راز کونین خلاصہ ہے ا سے افسانے کا زندگی بھی تو پشیمان ہے ی ہاں لا کے مجھے ڈھونڈتی ہے کوئی حیلہ مری مر جانے کا جاناں نے دیکھا ہے کبھی گھر کو بدلتے ہوئے رنگ آؤ دیکھو لگ تماشا مری غم خانے کا اب اسے دار پہ لے جا کے سلا دے ساقی یوں بہکنا نہیں اچھا تری مستانے کا دل سے پہنچی تو ہیں آنکھوں ہے وہ ہے وہ لہو کی بوندیں سلسلہ شیشے سے ملتا تو ہے پیمانے کا ہڈیاں ہیں کئی لپٹی ہوئی زنجیروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ لیے جاتے ہیں جنازہ تری دیوانے کا وحدت حسن کے جلووں کی یہ کثرت اے عشقدل کے ہر زرے ہے وہ ہے وہ عالم ہے پری خانے کا چشم ساقی اثر مے سے نہیں ہے گل رنگ دل مری خون سے لبریز ہے پیمانے کا

Fani Badayuni

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Fani Badayuni.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Fani Badayuni's ghazal.