ghazalKuch Alfaaz

اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتے شام کے سمے سفر کیا کرتے تیری مصروفیتیں جانتے ہیں اپنے آنے کی خبر کیا کرتے جب ستارے تم ہی نہیں مل پائے لے کے ہم شم سے و قمر کیا کرتے حقیقت مسافر ہی کھلی دھوپ کا تھا سائے پھیلا کے شجر کیا کرتے خاک ہی اول و آخر ٹھہری کر کے زرے کو گوہر کیا کرتے رائے پہلے سے بنا لی تو نے دل ہے وہ ہے وہ اب ہم تری گھر کیا کرتے عشق نے سارے سلیقے بخشی حسن سے کسب ہنر کیا کرتے

Related Ghazal

مری لیے تو عشق کا وعدہ ہے شاعری آدھا سرور جاناں ہوں تو آدھا ہے شاعری رودراکش ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے تو سینے ہے وہ ہے وہ اوم ہے اندھیرا ہے میرا دل مری رادھا ہے شاعری اپنا تو میل جول ہی ب سے عاشقوں سے ہے درویش کا ب سے ایک لبادہ ہے شاعری ہوں آشنا کوئی تو مہ لقا ہے اپنا رنگ بے رموزیوں کے واسطے سادہ ہے شاعری جاناں سامنے ہوں اور مری دسترسی ہے وہ ہے وہ ہوں ا سے سمے مری دل کا ارادہ ہے شاعری بھگوان ہوں خدا ہوں محبت ہوں یا بدن ج سے سمت بھی چلو یہی زادہ ہے شاعری ا سے لیے بھی عشق ہی لکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ علی میرا کسی سے آخری وعدہ ہے شاعری

Ali Zaryoun

70 likes

سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی

Jaun Elia

77 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

More from Parveen Shakir

اپنی رسوائی تری نام کا چرچا دیکھوں اک ذرا شعر ک ہوں اور ہے وہ ہے وہ کیا کیا دیکھوں نیند آ جائے تو کیا محفلیں برپا دیکھوں آنکھ کھل جائے تو تنہائی کا صحرا دیکھوں شام بھی ہوں گئی دھندلا گئیں آنکھیں بھی مری بھولنے والے ہے وہ ہے وہ کب تک ترا رستہ دیکھوں ایک اک کر کے مجھے چھوڑ گئیں سب سکھیاں آج ہے وہ ہے وہ خود کو تری یاد ہے وہ ہے وہ تنہا دیکھوں کاش صندل سے مری مانگ اجالے آ کر اتنے غیروں ہے وہ ہے وہ وہی ہاتھ جو اپنا دیکھوں تو میرا کچھ نہیں لگتا ہے م گر جان حیات جانے کیوں تری لیے دل کو دھڑکنا دیکھوں بند کر کے مری آنکھیں حقیقت شرارت سے ہنسے بوجھے جانے کا ہے وہ ہے وہ ہر روز تماشا دیکھوں سب زدیں ا سے کی ہے وہ ہے وہ پوری کروں ہر بات سنوں ایک بچے کی طرح سے اسے ہنستا دیکھوں مجھ پہ چھا جائے حقیقت برسات کی خوشبو کی طرح انگ انگ اپنا اسی رت ہے وہ ہے وہ مہکتا دیکھوں پھول کی طرح مری جسم کا ہر لب کھل جائے پھکڑی پھکڑی ان ہونٹوں کا سایہ دیکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ج سے لمحے کو پوجا ہے اسے ب سے اک بار خواب ب

Parveen Shakir

2 likes

اب اتنی سادگی لائیں ک ہاں سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی خیر مانگے آ سماں سے ا گر چاہیں تو حقیقت دیوار کر دیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب کچھ نہیں کہنا زبان سے ستارہ ہی نہیں جب ساتھ دیتا تو کشتی کام لے کیا بادباں سے بھٹکنے سے ملے فرصت تو پوچھیں پتا منزل کا برق سے برق برق کی حاصل رہی ہے سو ہے آزاد رازداں سے ہوا کو راز داں ہم نے بنایا اور اب ناراض خوشبو کے بیاں سے ضروری ہوں گئی ہے دل کی ظفر جلوے فنا فی ال عشق جاتے ہیں مکان سے خیرو ہونا چاہتے تھے م گر فرصت لگ تھی کار ج ہاں سے وگر لگ فصل گل کی دودمان کیا تھی بڑی حکمت ہے وابستہ اڑائے سے کسی نے بات کی تھی ہن سے کے شاید زمانے بھر سے ہیں ہم خود گماں سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک اک تیر پہ خود ڈھال بنتی ا گر ہوتا حقیقت دشمن کی کماں سے جو سبزہ دیکھ کر خیمے لگائیں ا نہیں تکلیف کیوں پہنچے اڑائے سے جو اپنے پیڑ جلتے چھوڑ جائیں ا نہیں کیا حق کہ روٹھیں باغباں سے

Parveen Shakir

0 likes

چراغ راہ بجھا کیا کہ رہنما بھی گیا تو ہوا کے ساتھ مسافر کا نقش پا بھی گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول چنتی رہی اور مجھے خبر لگ ہوئی حقیقت بے وجہ آ کے مری شہر سے چلا بھی گیا تو بے حد عزیز صحیح ا سے کو مری دلداری م گر یہ ہے کہ کبھی دل میرا دکھا بھی گیا تو اب ان دریچوں پہ گہرے دبیز پردے ہیں حقیقت تانک جھانک کا معصوم سلسلہ بھی گیا تو سب آئی مری عیادت کو حقیقت بھی آیا تھا جو سب گئے تو میرا درد آشنا بھی گیا تو یہ غربتیں مری آنکھوں ہے وہ ہے وہ کیسی اتری ہیں کہ خواب بھی مری رخصت ہیں رتجگا بھی گیا تو

Parveen Shakir

3 likes

اب اتنی سادگی لائیں ک ہاں سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی خیر مانگے آ سماں سے ا گر چاہیں تو حقیقت دیوار کر دیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب کچھ نہیں کہنا زبان سے ستارہ ہی نہیں جب ساتھ دیتا تو کشتی کام لے کیا بادباں سے بھٹکنے سے ملے فرصت تو پوچھیں پتا منزل کا برق سے برق برق کی حاصل رہی ہے سو ہے آزاد رازداں سے ہوا کو راز داں ہم نے بنایا اور اب ناراض خوشبو کے بیاں سے ضروری ہوں گئی ہے دل کی ظفر جلوے فنا فی ال عشق جاتے ہیں مکان سے خیرو ہونا چاہتے تھے م گر فرصت لگ تھی کار ج ہاں سے وگر لگ فصل گل کی دودمان کیا تھی بڑی حکمت ہے وابستہ اڑائے سے کسی نے بات کی تھی ہن سے کے شاید زمانے بھر سے ہیں ہم خود گماں سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک اک تیر پہ خود ڈھال بنتی ا گر ہوتا حقیقت دشمن کی کماں سے جو سبزہ دیکھ کر خیمے لگائیں ا نہیں تکلیف کیوں پہنچے اڑائے سے جو اپنے پیڑ جلتے چھوڑ جائیں ا نہیں کیا حق کہ روٹھیں باغباں سے

Parveen Shakir

0 likes

قبائیں کر مری بازو اڑان چھوڑ گیا تو ہوا کے پا سے برہ لگ کمان چھوڑ گیا تو رفاقتوں کا مری ا سے کو دھیان کتنا تھا زمین لے لی م گر آسمان چھوڑ گیا تو عجیب بے وجہ تھا بارش کا رنگ دیکھ کے بھی کھلے دریچے پہ اک فول دان چھوڑ گیا تو جو بادلوں سے بھی مجھ کو چھپائے رکھتا تھا بڑھی ہے دھوپ تو بے سائےبان چھوڑ گیا تو نکل گیا تو کہی ان دیکھے پانیوں کی طرف ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کے نام کھلا بادبان چھوڑ گیا تو عقاب کو تھی غرض نقش قدم پکڑنے سے جو گر گئی تو یوںہی نیم جان چھوڑ گیا تو لگ جانے کون سا آسیب دل ہے وہ ہے وہ بستہ ہے کہ جو بھی ٹھہرا حقیقت آخر مکان چھوڑ گیا تو عقب ہے وہ ہے وہ گہرا سمندر ہے سامنے جنگل ک سے انتہا پہ میرا مہربان چھوڑ گیا تو

Parveen Shakir

5 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Parveen Shakir.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Parveen Shakir's ghazal.