agar talash karun koi mil hi jaega magar tumhari tarah kaun mujh ko chahega tumhen zarur koi chahaton se dekhega magar vo ankhen hamari kahan se laega na jaane kab tire dil par nai si dastak ho makan khali hua hai to koi aaega main apni raah men divar ban ke baitha huun agar vo aaya to kis raste se aaega tumhare saath ye mausam farishton jaisa hai tumhare baa'd ye mausam bahut sataega agar talash karun koi mil hi jaega magar tumhaari tarah kaun mujh ko chahega tumhein zarur koi chahaton se dekhega magar wo aankhen hamari kahan se laega na jaane kab tere dil par nai si dastak ho makan khali hua hai to koi aaega main apni rah mein diwar ban ke baitha hun agar wo aaya to kis raste se aaega tumhaare sath ye mausam farishton jaisa hai tumhaare ba'd ye mausam bahut sataega
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
More from Bashir Badr
مری نظر ہے وہ ہے وہ خاک تری آئینے پہ گرد ہے یہ چاند کتنا زرد ہے یہ رات کتنی سرد ہے کبھی کبھی تو یوں لگا کہ ہم سبھی قید ہستی ہیں تمام شہر ہے وہ ہے وہ لگ کوئی زن لگ کوئی مرد ہے خدا کی نظموں کی کتاب ساری کائنات ہے غزل کے شعر کی طرح ہر ایک فرد فرد ہے حیات آج بھی کنیز ہے حضور جبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو زندگی کو جیت لے حقیقت زندگی کا مرد ہے اسے تبرک حیات کہ کے پلکوں پر رکھوں ا گر مجھے یقین ہوں یہ راستے کی گرد ہے حقیقت جن کے ذکر سے رگوں ہے وہ ہے وہ دوڑتی تھیں بجلیاں انہی کا ہاتھ ہم نے چھو کے دیکھا کتنا سرد ہے
Bashir Badr
2 likes
ख़ून पत्तों पे जमा हो जैसे फूल का रंग हरा हो जैसे बारहा ये हमें महसूस हुआ दर्द सीने का ख़ुदा हो जैसे यूँँ तरस खा के न पूछो अहवाल तीर सीने पे लगा हो जैसे फूल की आँख में शबनम क्यूँँ है सब हमारी ही ख़ता हो जैसे किर्चें चुभती हैं बहुत सीने में आइना टूट गया हो जैसे सब हमें देखने आते हैं मगर नींद आँखों से ख़फ़ा हो जैसे अब चराग़ों की ज़रूरत भी नहीं चाँद इस दिल में छुपा हो जैसे
Bashir Badr
1 likes
جب سحر چپ ہوں ہنسا لو ہم کو جب اندھیرا ہوں جلا لو ہم کو ہم حقیقت ہیں نظر آتے ہیں داستانو ہے وہ ہے وہ چھپا لو ہم کو خون کا کام رواں رہنا ہے ج سے جگہ چاہو بہا لو ہم کو دن لگ پا جائے کہی شب کا راز صبح سے پہلے اٹھا لو ہم کو ہم زمانے کے ستائے ہیں بے حد اپنے سینے سے لگا لو ہم کو سمے کے ہونٹ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھو لیںگے ان کہے بول ہیں گا لو ہم کو
Bashir Badr
1 likes
پتھر کے ج گر والو غم ہے وہ ہے وہ حقیقت روانی ہے خود راہ بنا لےگا بہتا ہوا پانی ہے اک ذہن پریشاں ہے وہ ہے وہ خواب غزلستاں ہے پتھر کی حفاظت ہے وہ ہے وہ شیشے کی جوانی ہے دل سے جو چھٹے بادل تو آنکھ ہے وہ ہے وہ ساون ہے ٹھہرا ہوا دریا ہے بہتا ہوا پانی ہے ہم رنگ دل پر خوں ہر لالہ صحرائی گیسو کی طرح مضطر اب رات کی رانی ہے ج سے سنگ پہ نظریں کیں خورشید حقیقت ہے ج سے چاند سے منا موڑا پتھر کی کہانی ہے اے پیر خرد مند دل کی بھی ضرورت ہے یہ شہر غزالاں ہے یہ ملک جوانی ہے غم وجہ فگار دل غم وجہ قرار دل آنسو کبھی شیشہ ہے آنسو کبھی پانی ہے ا سے حوصلہ دل پر ہم نے بھی کفن پہنا ہنسکر کوئی پوچھےگا کیا جان گنوائی ہے دن تلخ حقائق کے صحراؤں کا سورج ہے شب گیسو افسا لگ یادوں کی کہانی ہے حقیقت حسن جسے ہم نے رسوا کیا دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نادیدہ حقیقت ہے نا گفتہ کہانی ہے حقیقت مصرع آوارہ دیوانوں پہ بھاری ہے ج سے ہے وہ ہے وہ تری گیسو کی بے ربط کہانی ہے ہم خوشبو آوارہ ہم نور پریشاں ہیں اے بدر مقدر ہے وہ ہے
Bashir Badr
1 likes
اک پری کے ساتھ موجوں پر ٹہلتا رات کو اب بھی یہ قدرت ک ہاں ہے آدمی کی ذات کو جن کا سارا جسم ہوتا ہے ہماری ہی طرح پھول کچھ ایسے بھی کھلتے ہیں ہمیشہ رات کو ایک اک کر کے سبھی کپڑے بدن سے گر چکے صبح پھروں ہم یہ کفن پہنائیں گے جذبات کو پیچھے پیچھے رات تھی تاروں کا اک لشکر لیے ریل کی پٹری پہ سورج چل رہا تھا رات کو لو و خاک و بعد ہے وہ ہے وہ بھی لہر حقیقت آ جائے ہے سرخ کر دیتی ہے دم بھر ہے وہ ہے وہ جو پیلی دھات کو صبح بستر بند ہے ج سے ہے وہ ہے وہ لپٹ جاتے ہیں ہم اک سفر کے بعد پھروں کھلتے ہیں آدھی رات کو سر پہ سورج کے ہمارے پیار کا سایہ رہے مامتا کا جسم مانگے زندگی کی بات کو
Bashir Badr
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Bashir Badr.
Similar Moods
More moods that pair well with Bashir Badr's ghazal.







