ghazalKuch Alfaaz

الماری سے خط ا سے کے پرانی نکل آئی پھروں سے مری چہرے پہ یہ دانے نکل آئی ماں بیٹھ کے تکتی تھی ج ہاں سے میرا رستہ مٹی کے ہٹاتے ہی خزانے نکل آئی ممکن ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ گاؤں بھی پہچان لگ پائے بچپن ہے وہ ہے وہ ہی ہم گھر سے کمانے نکل آئی اے ریت کے زرے ترا احسان بے حد ہے آنکھوں کو بھگونے کے بہانے نکل آئی اب تری بلانے سے بھی ہم آ نہیں سکتے ہم تجھ سے بے حد آگے زمانے نکل آئی ایک خوف سا رہتا ہے مری دل ہے وہ ہے وہ ہمیشہ ک سے گھر سے تری یاد لگ جانے نکل آئی

Related Ghazal

مجھے ادا سے کر گئے ہوں خوش رہو مری مزاج پر گئے ہوں خوش رہو مری لیے لگ رک سکے تو کیا ہوا ج ہاں کہی ٹھہر گئے ہوں خوش رہو خوشی ہوئی ہے آج جاناں کو دیکھ کر بے حد نکھر سنور گئے ہوں خوش رہو ادا سے ہوں کسی کی بے وفائی پر وفا کہی تو کر گئے ہوں خوش رہو گلی ہے وہ ہے وہ اور لوگ بھی تھے آشنا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سلام بخیر کر گئے ہوں خوش رہو تمہیں تو مری دوستی پہ ناز تھا اسی سے اب مکر گئے ہوں خوش رہو کسی کی زندگی بنو کہ بندگی مری لیے تو مر گئے ہوں خوش رہو

Fazil Jamili

73 likes

سفر ہے وہ ہے وہ دھوپ تو ہوں گی جو چل سکو تو چلو سبھی ہیں بھیڑ ہے وہ ہے وہ جاناں بھی نکل سکو تو چلو کسی کے واسطے راہیں ک ہاں بدلتی ہیں جاناں اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو ی ہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا مجھے گرا کے ا گر جاناں سنبھل سکو تو چلو کہی نہیں کوئی سورج دھواں دھواں ہے فضا خود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں انہی کھلونوں سے جاناں بھی بہل سکو تو چلو

Nida Fazli

61 likes

ہر اندھیرا روشنی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو ج سے کو دیکھو شاعری ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو ہم کو مر جانے کی فرصت کب ملی سمے سارا زندگی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو اپنا مے خا لگ بنا سکتے تھے ہم اتنا بڑھانے میکشی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو خود سے اتنی دور جا نکلے تھے ہم اک زما لگ واپسی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو

Mehshar Afridi

53 likes

تمنا پھروں مچل جائے ا گر جاناں ملنے آ جاؤ یہ موسم بھی بدل جائے ا گر جاناں ملنے آ جاؤ مجھے غم ہے کہ ہے وہ ہے وہ نے زندگی ہے وہ ہے وہ کچھ نہیں پایا یہ غم دل سے نکل جائے ا گر جاناں ملنے آ جاؤ یہ دنیا بھر کے جھگڑے گھر کے قصے کام کی باتیں بلا ہر ایک ٹل جائے ا گر جاناں ملنے آ جاؤ نہیں ملتے ہوں مجھ سے جاناں تو سب ہمدرد ہیں مری زما لگ مجھ سے جل جائے ا گر جاناں ملنے آ جاؤ

Javed Akhtar

48 likes

یہ پیار تیری بھول ہے قبول ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سنگ ہوں تو پھول ہے قبول ہے دغا بھی دوں گا پیار ہے وہ ہے وہ کبھی کبھی کہ یہ میرا اصول ہے قبول ہے تجھے ج ہاں عزیز ہے تو چھوڑ جا مجھے یہ اجازت فضول ہے قبول ہے تو روٹھے گی تو ہے وہ ہے وہ مناؤںگا نہیں جو رول ہے حقیقت رول ہے قبول ہے لپٹ اے شاخے گل م گر یہ سوچ کر میرا بدن ببول ہے قبول ہے یہی ہے گر تری رضا تو بول پھروں قبول ہے قبول ہے قبول ہے

Varun Anand

42 likes

More from Munawwar Rana

چھاؤں مل جائے تو کم دام ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے اب تھکن تھوڑے سے آرام ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے آپ کیا مجھ کو نوازیںگے آسام سلطنت تک مری انعام ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے شعر جیسا بھی ہوں ا سے شہر ہے وہ ہے وہ پڑھ سکتے ہوں چائے جیسی بھی ہوں کوچہ بد نام ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے حقیقت سیاست کا علاقہ ہے ادھر مت جانا رکھ سجدہ گزاری ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے

Munawwar Rana

5 likes

ایسا لگتا ہے کہ کر دےگا اب آزاد مجھے میری مرضی سے اڑانے لگا صیاد مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں سرحد پہ بنے ایک مکان کی صورت کب تلک دیکھیے رکھتا ہے حقیقت آباد مجھے ایک قصے کی طرح حقیقت تو مجھے بھول گیا تو اک کہانی کی طرح حقیقت ہے مگر یاد مجھے کم سے کم یہ تو بتا دے کہ کدھر جائے گی کر کے اے خانہ خرابی مری برباد مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمجھ جاتا ہوں اس کا ہے وہ ہے وہ کوئی کمزوری ہے میرے جس شعر پہ ملتی ہے بہت داد مجھے

Munawwar Rana

1 likes

ہے وہ ہے وہ ا سے سے پہلے کہ رونق صحرا ادھر ادھر ہوں جاؤں مجھے سنبھال لے ممکن ہے در بدر ہوں جاؤں یہ آب و تاب جو مجھ ہے وہ ہے وہ ہے سب اسی سے ہے ا گر حقیقت چھوڑ دے مجھ کو تو ہے وہ ہے وہ کھنڈر ہوں جاؤں مری مدد سے کھجوروں کی توڑے پکنے لگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں کہ صحرا کی دوپہر ہوں جاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ سے پا سے کے موسم سے ہوں تر و تازہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے جھونڈ سے نکلوں تو بے ثمر ہوں جاؤں بڑی عجیب سی حدت ہے ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر ہے وہ ہے وہ چھو لوں پسینے سے تر ب تر ہوں جاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچی مٹی کی صورت ہوں تری ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھے تو ڈھال دے ایسے کہ معتبر ہوں جاؤں بچی کچھی ہوئی سانسوں کے ساتھ پہنچانا سنو ہواؤں ا گر ہے وہ ہے وہ شکستہ پر ہوں جاؤں

Munawwar Rana

1 likes

یہ بت جو ہم نے دوبارہ بنا کے رکھا ہے اسی نے ہم کو تماشا بنا کے رکھا ہے حقیقت ک سے طرح ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ انعام سے نوازے گا حقیقت ج سے نے ہاتھوں کو کاسا بنا کے رکھا ہے ی ہاں پہ کوئی بچانے تمہیں لگ آئےگا سمندروں نے جزیرہ بنا کے رکھا ہے تمام عمر کا حاصل ہے یہ ہنر میرا کہ ہے وہ ہے وہ نے شیشے کو ہیرا بنا کے رکھا ہے کسے کسے ابھی عہد حکومت ہونا ہے امیر شہر نے تقاضا بنا کے رکھا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بچ گیا تو تو یقیناً یہ معجزہ ہوگا سبھی نے مجھ کو نشا لگ بنا کے رکھا ہے کوئی بتا دے یہ سورج کو جا کے ہم نے بھی شجر کو دھوپ ہے وہ ہے وہ کوں بنا کے رکھا ہے

Munawwar Rana

3 likes

مجھ کو گہرائی ہے وہ ہے وہ مٹی کی اتر جانا ہے زندگی باندھ لے سامان سفر جانا ہے گھر کی دہلیز پہ روشن ہیں حقیقت بجھتی آنکھیں مجھ کو مت روک مجھے لوٹ کے گھر جانا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ذائقہ ہے وہ ہے وہ اطراف ہوا اک بچہ ہوں جس کے ماں باپ کو روتے ہوئے مر جانا ہے زندگی تاش کے پتوں کی طرح ہے میری اور پتوں کو بہر حال بکھر جانا ہے ایک بے نام سے رشتے کی تمنا لے کر اس کا کا کبوتر کو کسی چھت پہ اتر جانا ہے

Munawwar Rana

5 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Munawwar Rana.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Munawwar Rana's ghazal.