ghazalKuch Alfaaz

باہر بھی اب اندر جیسا سناٹا ہے دریا کے ا سے پار بھی گہرا سناٹا ہے شور تھمے تو شاید صدیاں بیت چکی ہیں اب تک لیکن سہما سہما سناٹا ہے ک سے سے بولوں یہ تو اک صحرا ہے ج ہاں پر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں یا پھروں گونگا بہرا سناٹا ہے چنو اک طوفان سے پہلے کی خموشی آج مری بستی ہے وہ ہے وہ ایسا سناٹا ہے نئی سحر کی چاپ لگ جانے کب ابھرے گی چاروں جانب رات کا گہرا سناٹا ہے سوچ رہے ہوں سوچو لیکن بول لگ کھائےگی دیکھ رہے ہوں شہر ہے وہ ہے وہ کتنا سناٹا ہے محو خواب ہیں ساری دیکھنے والی آنکھیں جاگنے والا ب سے اک اندھا سناٹا ہے ڈرنا ہے تو ان جانی آواز سے ڈرنا یہ تو آن سے دیکھا بھالا سناٹا ہے

Aanis Moin3 Likes

Related Ghazal

جھک کے چلتا ہوں کہ قد ا سے کے برابر لگ لگے دوسرا یہ کہ اسے راہ ہے وہ ہے وہ ٹھوکر لگ لگے یہ تری ساتھ تعلق کا بڑا فائدہ ہے آدمی ہوں بھی تو اوقات سے باہر لگ لگے نیم تاریک سا ماحول ہے درکار مجھے ایسا ماحول ج ہاں آنکھ لگے ڈر لگ لگے ماو نے چومنا ہوتے ہیں بریدا سر بھی ا سے سے کہنا کہ کوئی زخم جبیں پر لگ لگے یہ طلبگار نگا ہوں کے تقاضے ہر سو کوئی تو ایسی جگہ ہوں جو مجھے گھر لگ لگے یہ جو آئی لگ ہے دیکھوں تو خلا دکھتا ہے ا سے جگہ کچھ بھی لگ لگواؤں تو بہتر لگ لگے جاناں نے چھوڑا تو کسی اور سے ٹکراؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسے ممکن ہے کہ اندھے کا کہی سر لگ لگے

Umair Najmi

46 likes

ک سے طرح ہوگا فقیروں کا گزارا اپائے ا سے سے کہنا کہ حقیقت اک بار دوبارہ اپائے کیسے ممکن ہے اسے اور کوئی کام لگ ہوں کیسے ممکن ہے کہ حقیقت صرف ہمارا اپائے تری افلاک پہ جائے تو ستارہ چمکے مری افلاک پہ آئی تو ستارہ اپائے ٹوٹے پتوار کی کشتی کا مقدر کیا ہے یہ تو دریا ہی بتائے یا کنارہ اپائے ایسا موقع ہوں کہ ب سے ایک ہی بچ سکتا ہوں اور ا سے سمے بھی ایک بے وجہ تمہارا اپائے

Zahid Bashir

40 likes

ہے وہ ہے وہ بھی جاناں جیسا ہوں اپنے سے جدا مت سمجھو آدمی ہی مجھے رہنے دو خدا مت سمجھو یہ جو ہے وہ ہے وہ ہوش ہے وہ ہے وہ رہتا نہیں جاناں سے مل کر یہ میرا عشق ہے جاناں اس کا کو نشہ مت سمجھو را سے آتا نہیں سب کو یہ محبت کا مرض مری بیماری کو جاناں اپنی دوا مت سمجھو

Shakeel Azmi

51 likes

حالت جو ہماری ہے تمہاری تو نہیں ہے ایسا ہے تو پھروں یہ کوئی یاری تو نہیں ہے تحقیر نا کر یہ مری ادھڑی ہوئی گدڑی جیسی بھی ہے اپنی ہے ادھاری تو نہیں ہے تنہا ہی صحیح لڑ تو رہی ہے حقیقت اکیلی ب سے تھک کے گری ہے ابھی ہاری تو نہیں ہے یہ تو جو محبت ہے وہ ہے وہ صلہ مانگ رہا ہے اے شخص تو اندر سے بھکاری تو نہیں ہے جتنی بھی کما لی ہوں بنا لی ہوں یہ دنیا دنیا ہے تو پھروں دوست تمہاری تو نہیں ہے

Ali Zaryoun

33 likes

دل کو تیری خواہش پہلی بار ہوئی ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ بارش پہلی بار ہوئی مانگنے والے ہیرے اندھیرا مانگتے ہیں اشکوں کی فرمائش پہلی بار ہوئی ڈوبنے والے اک اک کر کے آ جائیں دریا ہے وہ ہے وہ گنجائش پہلی بار ہوئی

Abrar Kashif

46 likes

More from Aanis Moin

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Aanis Moin.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Aanis Moin's ghazal.