بھیڑ ہے وہ ہے وہ اک اجنبی کا سامنا اچھا لگا سب سے چھپ کر حقیقت کسی کا دیکھنا اچھا لگا سرمئی آنکھوں کے نیچے پھول سے کھلنے لگے کہتے کہتے کچھ کسی کا سوچنا اچھا لگا بات تو کچھ بھی نہیں تھیں لیکن ا سے کا ایک دم ہاتھ کو ہونٹوں پہ رکھ کر روکنا اچھا لگا چائے ہے وہ ہے وہ چینی ملانا ا سے گھڑی بھایا بے حد زیر لب حقیقت مسکراتا شکریہ اچھا لگا دل ہے وہ ہے وہ کتنے عہد باندھے تھے بھلانے کے اسے حقیقت ملا تو سب وسیم توڑنا اچھا لگا بے ارادہ لم سے کی حقیقت سنسی پیاری لگی کم برق آنکھ کا حقیقت دیکھنا اچھا لگا نیم شب کی خموشی ہے وہ ہے وہ بھیگتی سڑکوں پہ کل تیری یادوں کے جلؤ ہے وہ ہے وہ گھومنا اچھا لگا ا سے عدو جاں کو امجد ہے وہ ہے وہ برا کیسے ک ہوں جب بھی آیا سامنے حقیقت بےوفا اچھا لگا
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
More from Amjad Islam Amjad
پردے ہے وہ ہے وہ لاکھ پھروں بھی نمودار کون ہے ہے ج سے کے دم سے گرمی بازار کون ہے حقیقت سامنے ہے پھروں بھی دکھائی لگ دے سکے مری اور ا سے کے بیچ یہ دیوار کون ہے باغ وفا ہے وہ ہے وہ ہوں نہیں سکتا یہ فیصلہ صیاد یاں پہ کون گرفتار کون ہے مانا نظر کے سامنے ہے بے شمار دھند ہے دیکھنا کہ دھند کے ا سے پار کون ہے کچھ بھی نہیں ہے پا سے پہ رہتا ہے پھروں بھی خوش سب کچھ ہے ج سے کے پا سے حقیقت بیزار کون ہے یوں تو دکھائی دیتے ہیں اسرار ہر طرف کھلتا نہیں کہ صاحب اسرار کون ہے امجد ا پیش سی آپ نے کھولی ہے جو دکان کسانوں و ناپاکی کا یاں یہ خریدار کون ہے
Amjad Islam Amjad
0 likes
आईनों में अक्स न हों तो हैरत रहती है जैसे ख़ाली आँखों में भी वहशत रहती है हर दम दुनिया के हंगा में घेरे रखते थे जब से तेरे ध्यान लगे हैं फ़ुर्सत रहती है करनी है तो खुल के करो इंकार-ए-वफ़ा की बात बात अधूरी रह जाए तो हसरत रहती है शहर-ए-सुख़न में ऐसा कुछ कर इज़्ज़त बन जाए सब कुछ मिट्टी हो जाता है इज़्ज़त रहती है बनते बनते ढह जाती है दिल की हर तामीर ख़्वाहिश के बहरूप में शायद क़िस्मत रहती है साए लरज़ते रहते हैं शहरों की गलियों में रहते थे इंसान जहाँ अब दहशत रहती है मौसम कोई ख़ुशबू ले कर आते जाते हैं क्या क्या हम को रात गए तक वहशत रहती है ध्यान में मेला सा लगता है बीती यादों का अक्सर उस के ग़म से दिल की सोहबत रहती है फूलों की तख़्ती पर जैसे रंगों की तहरीर लौह-ए-सुख़न पर ऐसे 'अमजद' शोहरत रहती है
Amjad Islam Amjad
0 likes
یاد کے صحرا ہے وہ ہے وہ کچھ تو زندگی آئی نظر سوچتا ہوں اب بنا لوں ریت سے ہی کوئی گھر ک سے دودمان یادیں ابھر آئی ہیں تری نام سے ایک پتھر پھینکنے سے پڑ گئے کتنے بھنور سمے کے اندھے کوئیں ہے وہ ہے وہ پل رہی ہے زندگی اے مری حسن تخیل بام سے نیچے اتر تو اسیر آبرو شیوہ پندار حسن ہے وہ ہے وہ ہے وہ گرفتار نگاہ زندگی مختصر ضبط کے قریے ہے وہ ہے وہ امجد دیکھیے کیسے کٹے سوچ کی سونی سڑک پر یاد کا لمبا سفر
Amjad Islam Amjad
0 likes
किसी की आँख में ख़ुद को तलाश करना है फिर उस के ब'अद हमें आइनों से डरना है फ़लक की बंद गली के फ़क़ीर हैं तारे! कि घूम फिर के यहीं से उन्हें गुज़रना है जो ज़िंदगी थी मिरी जान! तेरे साथ गई बस अब तो उम्र के नक़्शे में वक़्त भरना है जो तुम चलो तो अभी दो क़दम में कट जाए जो फ़ासला मुझे सदियों में पार करना है तो क्यूँँ न आज यहीं पर क़याम हो जाए कि शब क़रीब है आख़िर कहीं ठहरना है वो मेरा सैल-ए-तलब हो कि तेरी रा'नाई चढ़ा है जो भी समुंदर उसे उतरना है सहर हुई तो सितारों ने मूँद लीं आँखें वो क्या करें कि जिन्हें इंतिज़ार करना है ये ख़्वाब है कि हक़ीक़त ख़बर नहीं 'अमजद' मगर है जीना यहीं पर यहीं पे मरना है
Amjad Islam Amjad
0 likes
تمہارا ہاتھ جب مری لرزتے ہاتھ سے چھوٹا اڑائے کے آخری دن تھے حقیقت محکم بے لچک وعدہ کھلونے کی طرح ٹوٹا اڑائے کے آخری دن تھے بہار آئی لگ تھی لیکن ہواؤں ہے وہ ہے وہ نئے موسم کی خوشبو رقص کرتی تھی اچانک جب کہا جاناں نے مری منا پر مجھے جھوٹا اڑائے کے آخری دن تھے حقیقت کیا دن تھے یہیں ہم نے بہاروں کی دعا کی تھی کسی نے بھی نہیں سوچا چمن والوں نے مل کر جب خود اپنا ہی چمن لوٹا اڑائے کے آخری دن تھے لکھا تھا ایک تختی پر کوئی بھی پھول مت گرفت م گر آندھی تو ان پڑھ تھی سو جب حقیقت باغ سے گزری کوئی اکھڑا کوئی ٹوٹا اڑائے کے آخری دن تھے بے حد ہی زور سے پیٹے ہوا کے بین پر سینے ہمارے خیرخوا ہوں نے کہ چان گرا کے ورق جیسا سمے نے جب ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوٹا اڑائے کے آخری دن تھے لگ رت تھی آندھیوں کی یہ لگ موسم تھا ہواؤں کا تو پھروں یہ کیا ہوا امجد ہر اک کونپل ہوئی اڑھائی ہوا مجروح ہر بوٹا اڑائے کے آخری دن تھے
Amjad Islam Amjad
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Amjad Islam Amjad.
Similar Moods
More moods that pair well with Amjad Islam Amjad's ghazal.







