ghazalKuch Alfaaz

وعدے کہ ہوں بے آشیاں نکلے ہے باو سے اک دماغ نکلے ہے ہے جو اندھیر شہر ہے وہ ہے وہ خورشید دن کو لے کر چراغ نکلے ہے چوب کاری ہی سے رہے گا شیخ اب تو لے کر چوماگ نکلے ہے دے ہے جنبش جو واں کی خاک کو باو ج گر داغ داغ نکلے ہے ہر سحر حادثہ مری خاطر بھر کے خوں کا ایاغ نکلے ہے ا سے گلی کی زمین تفتہ سے دل جلوں کا سراغ نکلے ہے شاید ا سے زلف سے لگی ہے میر باو ہے وہ ہے وہ اک دماغ نکلے ہے

Related Ghazal

ہر اندھیرا روشنی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو ج سے کو دیکھو شاعری ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو ہم کو مر جانے کی فرصت کب ملی سمے سارا زندگی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو اپنا مے خا لگ بنا سکتے تھے ہم اتنا بڑھانے میکشی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو خود سے اتنی دور جا نکلے تھے ہم اک زما لگ واپسی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو

Mehshar Afridi

53 likes

ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا

Tehzeeb Hafi

241 likes

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو ا سے کے شہر ہے وہ ہے وہ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے ا سے کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز ا سے کی سو ہم بھی ا سے کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے تم تم بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں ا سے کی غزال سی آنکھیں سنا ہے ا سے کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکليں ا سے کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کی سیاہ چشمگی خوشگوار ہے سو ا سے کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئی لگ تمثال ہے جبیں ا سے

Ahmad Faraz

65 likes

کبھی کسی کو مکمل ج ہاں نہیں ملتا کہی زمین کہی آ سماں نہیں ملتا تمام شہر ہے وہ ہے وہ ایسا نہیں خلوص لگ ہوں ج ہاں امید ہوں ا سے کی و ہاں نہیں ملتا ک ہاں چراغ جلائیں ک ہاں گلاب رکھیں چھتیں تو ملتی ہیں لیکن مکان نہیں ملتا یہ کیا عذاب ہے سب اپنے آپ ہے وہ ہے وہ گم ہیں زبان ملی ہے م گر ہم زبان نہیں ملتا چراغ جلتے ہی بینائی بجھنے لگتی ہے خود اپنے گھر ہے وہ ہے وہ ہی گھر کا نشان نہیں ملتا

Nida Fazli

37 likes

تمہارے غم سے توبہ کر رہا ہوں ت غضب ہے ہے وہ ہے وہ ایسا کر رہا ہوں ہے اپنے ہاتھ ہے وہ ہے وہ اپنا گریبان لگ جانے ک سے سے جھگڑا کر رہا ہوں بے حد سے بند تالے کھل رہے ہیں تری سب خط اکٹھا کر رہا ہوں کوئی تتلی نشانے پر نہیں ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے رنگوں کا پیچھا کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رسمًا کہ رہا ہوں پھروں ملیںگے یہ مت سمجھو کہ وعدہ کر رہا ہوں مری احباب سارے شہر ہے وہ ہے وہ ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے گاؤں ہے وہ ہے وہ کیا کر رہا ہوں مری ہر اک غزل اصلی ہے صاحب کئی برسوں سے دھندا کر رہا ہوں

Zubair Ali Tabish

38 likes

More from Meer Taqi Meer

خرابی کچھ نہ پوچھو ملکت دل کی عمارت کی غموں نے آج کل سنیو وہ آبادی ہی غارت کی نگاہ مست سے جب چشم نے اس کا کی اشارت کی حلاوت مے کی اور بنیاد مےخانے کی غارت کی سحر گہ میں نے پوچھا گل سے حال زار بلبل کا پڑے تھے باغ میں یک مشت پر ادھر اشارت کی جلایا جس تجلی جلوہ گر نے طور کو ہم دم اسی آتش کے پر کالے نے ہم سے بھی شرارت کی نزاکت کیا کہوں خورشید رو کی کل شب ماہ میں گیا تھا سائے سائے باغ تک تس پر حرارت کی نظر سے جس کی یوسف سا گیا پھروں اس کا کو کیا سوچھے حقیقت کچھ نہ پوچھو بو پیرہن کی بصارت کی تری کوچے کے شوق توف میں جیسے بگولا تھا شایاں میں غبار میر کی ہم نے زیارت کی

Meer Taqi Meer

0 likes

مہر کی تجھ سے توقع تھی ستم گر نکلا موم سمجھے تھے تری دل کو سو پتھر نکلا داغ ہوں رشک محبت سے کہ اتنا بیتاب ک سے کی تسکین کے لیے گھر سے تو باہر نکلا جیتے جی آہ تری کوچے سے کوئی لگ پھرا جو ستم دیدہ رہا جا کے سو مر کر نکلا دل کی آبا گرا کی ا سے حد ہے خرابی کہ لگ پوچھ جانا جاتا ہے کہ ا سے راہ سے لشکر نکلا خوشی تر قطرہ خوں لخت ج گر پارہ دل ایک سے ایک عدد آنکھ سے بہ کر نکلا کنج کاوی جو کی سینے کی غم ہجراں نے ا سے دفینے ہے وہ ہے وہ سے اقسام جواہر نکلا ہم نے جانا تھا لکھے گا تو کوئی حرف اے میر پر ترا نامہ تو اک شوق کا دفترون نکلا

Meer Taqi Meer

0 likes

अब 'मीर'-जी तो अच्छे ज़िंदीक़ ही बन बैठे पेशानी पे दे क़श्क़ा ज़ुन्नार पहन बैठे आज़ुर्दा दिल-ए-उलफ़त हम चुपके ही बेहतर हैं सब रो उठेगी मज्लिस जो कर के सुख़न बैठे उर्यान फिरें कब तक ऐ काश कहीं आ कर ता गर्द बयाबाँ की बाला-ए-बदन बैठे पैकान-ए-ख़दंग उस का यूँँ सीने के ऊधर है जों मार-ए-सियह कोई काढ़े हुए फन बैठे जुज़ ख़त के ख़याल उस के कुछ काम नहीं हम को सब्ज़ी पिए हम अक्सर रहते हैं मगन बैठे शमशीर-ए-सितम उस की अब गो का चले हर-दम शोरीदा-सर अपने से हम बाँध कफ़न बैठे बस हो तो इधर-ऊधर यूँँ फिरने न दें तुझ को नाचार तिरे हम ये देखें हैं चलन बैठे

Meer Taqi Meer

0 likes

کیا حقیقت ک ہوں کہ کیا ہے عشقحق شناسوں کے ہاں خدا ہے عشقدل لگا ہوں تو جی ج ہاں سے اٹھا موت کا نام پیار کا ہے عشقاور تلخی تقریر کو نہیں کچھ دخل عشق کے درد کی دوا ہے عشقکیا ڈوبایا محیط ہے وہ ہے وہ غم کے ہم نے جانا تھا آشنا ہے عشق عشق سے جا نہیں کوئی خالی دل سے لے عرش تک بھرا ہے عشقکوہکن کیا پہاڑ کاٹےگا پردے ہے وہ ہے وہ زور آزما ہے عشق عشق ہے عشق کرنے والوں کو کیسا کیسا بہم کیا ہے عشقکون مقصد کو عشق بن پہنچا آرزو عشق مدعا ہے عشقمیر مرنا پڑے ہے خوباں پر عشق مت کر کہ بد بلا ہے عشق

Meer Taqi Meer

4 likes

سرگرم وفا ہوں ہر چند کہ جلتا ہوں پہ ہنر عشق ہوں آتے ہیں مجھے خوب سے دونوں گلشن دنیا رونے کے تئیں آندھی ہوں کڑھنے کو بلا ہوں ا سے غنچہ افسردہ ہے وہ ہے وہ شگفتہ لگ ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں مردود صبا کہ خاک سر راہ ہوں فت لگ انگیزی ہے ہر آبلا پا کا میرا خوشی از ب سے کہ تری راہ ہے وہ ہے وہ آنکھوں سے چلا ہوں آیا کوئی بھی طرح مری چین کی ہوں گی آزردہ ہوں جینے سے ہے وہ ہے وہ مرنے سے خفا ہوں دامن لگ جھٹک ہاتھ سے مری کہ ستم گر ہوں منتظر روز جزا کوئی دم ہے وہ ہے وہ ہوا ہوں دل خواہ جلا اب تو مجھے اے شب ہجراں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سوختہ بھی طاقت و آرام و خور و خواب ہوں گو بحر چیز گئے سب بارے یہ غنیمت ہے کہ جیتا تو رہا ہوں اتنا ہی مجھے علم ہے کچھ ہے وہ ہے وہ ہوں سمے دعا معلوم نہیں خوب مجھے بھی کہ ہے وہ ہے وہ کیا ہوں بہتر ہے غرض خموشی ہی کہنے سے یاراں مت پوچھو کچھ احوال کہ مر مر کے زیا ہوں تب حال تہی دستی کہنے لگا ہوں ہے وہ ہے وہ کہ اک عمر جوں شمع سر شام سے تا صبح جلا ہوں سینا تو کیا فضل الہی سے

Meer Taqi Meer

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Meer Taqi Meer.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Meer Taqi Meer's ghazal.