ghazalKuch Alfaaz

چاند کا خواب اجالوں کی نظر لگتا ہے تو جدھر ہوں کے گزر جائے خبر لگتا ہے ا سے کی یادوں نے اگا رکھے ہیں سورج اتنے شام کا سمے بھی آئی تو سحر لگتا ہے ایک منظر پہ زنداں نہیں دیتی فطرت عمر بھر آنکھ کی قسمت ہے وہ ہے وہ سفر لگتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نظر بھر کے تری جسم کو جب دیکھتا ہوں پہلی بارش ہے وہ ہے وہ نہایا سا شجر لگتا ہے ترساؤ تھا بے حد پیار کوئی پوچھتا کیا تو نے کندھے پہ جگہ دی ہے تو سر لگتا ہے تیری قربت کے یہ لمحے اسے را سے آئیں کیا صبح ہونے کا جسے شام سے ڈر لگتا ہے

Related Ghazal

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں

Jaun Elia

315 likes

More from Waseem Barelvi

اپنے سائے کو اتنا سمجھانے دے مجھ تک مری حصے کی دھوپ آنے دے ایک نظر ہے وہ ہے وہ کئی زمانے دیکھے تو بوڑھی آنکھوں کی تصویر بنانے دے بابا دنیا جیت کے ہے وہ ہے وہ دکھلا دوں گا اپنی نظر سے دور تو مجھ کو جانے دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ا سے باغ کا ایک پرندہ ہوں مری ہی آواز ہے وہ ہے وہ مجھ کو گانے دے پھروں تو یہ اونچا ہی ہوتا جائےگا بچپن کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ چاند آ جانے دے فصلیں پک جائیں تو کھیت سے بچھڑیںگی روتی آنکھ کو پیار ک ہاں سمجھانے دے

Waseem Barelvi

7 likes

حقیقت مجھ کو کیا بتانا چاہتا ہے جو دنیا سے چھپانا چاہتا ہے مجھے دیکھو کہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو ہی چا ہوں جسے سارا زما لگ چاہتا ہے کرنا ک ہاں ہے ا سے کا منشا حقیقت میرا سر جھکانا چاہتا ہے شکایت کا دھواں آنکھوں سے دل تک تعلق ٹوٹ جانا چاہتا ہے تقاضا سمے کا کچھ بھی ہوں یہ دل وہی قصہ پرانا چاہتا ہے

Waseem Barelvi

6 likes

کیا بتاؤں کیسا خود کو در بدر ہے وہ ہے وہ نے کیا عمر بھر ک سے ک سے کے حصے کا سفر ہے وہ ہے وہ نے کیا تو تو خوبصورت بھی لگ کر پائے گا ا سے شدت کے ساتھ ج سے بلا کا پیار تجھ سے بے خبر ہے وہ ہے وہ نے کیا کیسے بچوں کو بتاؤں راستوں کے پیچ و خم زندگی بھر تو کتابوں کا سفر ہے وہ ہے وہ نے کیا ک سے کو فرصت تھی کہ بتلاتا تجھے اتنی سی بات خود سے کیا دانستہ تجھ سے چھوٹ کر ہے وہ ہے وہ نے کیا چند جذباتی سے رشتوں کے بچانے کو مسئلہ کیسا کیسا جبر اپنے آپ پر ہے وہ ہے وہ نے کیا

Waseem Barelvi

5 likes

ہم اپنے آپ کو اک مسئلہ بنا لگ سکے اسی لیے تو کسی کی نظر ہے وہ ہے وہ آ لگ سکے ہم آنسوؤں کی طرح واسطے نبھا لگ سکے رہے جن آنکھوں ہے وہ ہے وہ ان ہے وہ ہے وہ ہی گھر بنا لگ سکے پھروں آندھیوں نے سکھایا و ہاں سفر کا ہنر ج ہاں چراغ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ راستہ دکھا لگ سکے جو پیش پیش تھے بستی بچانے والوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگی جب آگ تو اپنا بھی گھر بچا لگ سکے مری خدا کسی ایسی جگہ اسے رکھنا ج ہاں کوئی مری بارے ہے وہ ہے وہ کچھ بتا لگ سکے تمام عمر کی کوشش کا ب سے یہی حاصل کسی کو اپنے مطابق کوئی بنا لگ سکے تسلیوں پہ بے حد دن زیا نہیں جاتا کچھ ایسا ہوں کے ترا اعتبار آ لگ سکے

Waseem Barelvi

3 likes

صرف تیرا نام لے کر رہ گیا تو آج دیوا لگ بے حد کچھ کہ گیا تو کیا مری تقدیر ہے وہ ہے وہ منزل نہیں فاصلہ کیوں مسکرا کر رہ گیا تو زندگی دنیا ہے وہ ہے وہ ایسا خوشی تھی جو ذرا پلکوں پہ ٹھہرا بہ گیا تو اور کیا تھا ا سے کی پرسش کا جواب اپنے ہی آنسو چھپا کر رہ گیا تو ا سے سے پوچھ اے کامیاب زندگی ج سے کا افسا لگ ادھورا رہ گیا تو ہاں یہ کیا دیوانگی تھی اے مسئلہ جو لگ کہنا چاہیے تھا کہ گیا تو

Waseem Barelvi

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Waseem Barelvi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Waseem Barelvi's ghazal.