چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Related Ghazal
ہے وہ ہے وہ نے چاہا تو نہیں تھا کہ کبھی ایسا ہوں لیکن اب ٹھان چکے ہوں تو چلو اچھا ہوں جاناں سے ناراض تو ہے وہ ہے وہ اور کسی بات پہ ہوں جاناں م گر اور کسی خیال و خواب سے شرمندہ ہوں اب کہی جا کے یہ معلوم ہوا ہے مجھ کو ٹھیک رہ جاتا ہے جو بے وجہ تری جیسا ہوں ایسے حالات ہے وہ ہے وہ ہوں بھی کوئی حسا سے تو کیا اور بے ح سے بھی ا گر ہوں تو کوئی کتنا ہوں تاکہ تو سمجھے کہ مردوں کے بھی دکھ ہوتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے چاہا بھی یہی تھا کہ تیرا بیٹا ہوں
Jawwad Sheikh
50 likes
پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں
Ali Zaryoun
158 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی
Jaun Elia
77 likes
ہے وہ ہے وہ بھی جاناں جیسا ہوں اپنے سے جدا مت سمجھو آدمی ہی مجھے رہنے دو خدا مت سمجھو یہ جو ہے وہ ہے وہ ہوش ہے وہ ہے وہ رہتا نہیں جاناں سے مل کر یہ میرا عشق ہے جاناں اس کا کو نشہ مت سمجھو را سے آتا نہیں سب کو یہ محبت کا مرض مری بیماری کو جاناں اپنی دوا مت سمجھو
Shakeel Azmi
51 likes
More from Ali Zaryoun
حالت اے ہجر ہے وہ ہے وہ ہوں یار مری سمت لگ دیکھ تو لگ ہوں جائے گرفتار مری سمت لگ دیکھ آستین ہے وہ ہے وہ جو چھو پہ سانپ ہیں ان کو تو نکال اپنے نقصان پر ہر بار مری سمت لگ دیکھ تجھ کو ج سے بات کا خدشہ ہے حقیقت ہوں سکتی ہے ایسے نہشے ہے وہ ہے وہ لگاتار مری سمت لگ دیکھ یا کوئی بات سنا یا مجھے سینے سے لگا ا سے طرح بیٹھ کر بیکار مری سمت لگ دیکھ تیرا یاروں سے نہیں جیب سے یارا لگ ہے اے محبت کے دکاندار مری سمت لگ دیکھ
Ali Zaryoun
7 likes
چراغاہیں نئی آباد ہوں گی م گر جو بستیاں برباد ہوں گی خدا مٹی کو پھروں سے حکم دےگا کئی شکلیں نئی ایجاد ہوں گی ابھی ممکن نہیں لیکن یہ ہوگا کتابیں فالتو ہوں گی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان آنکھوں کو پڑھکر سوچتا ہوں یہ نظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے طرح سے یاد ہوں گی یہ پریاں پھروں نہیں آوےگی عشق دل ملنے یہ غزلیں پھروں نہیں ارشاد ہوں گی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ڈرتا ہوں علی ان عادتوں سے کے جو مجھ کو تمہارے بعد ہوں گی
Ali Zaryoun
21 likes
ہوں جسے یار سے تصدیق نہیں کر سکتا حقیقت کسی شعر کی تضحیک نہیں کر سکتا پر کشش دوست مری ہجر کی مجبوری سمجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے دور سے نزدیک نہیں کر سکتا مجھ پہ تنقید سے رہتے ہیں اجالے جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان دکانوں کو ہے وہ ہے وہ تاریک نہیں کر سکتا کون سے غم سے نکلنا ہے کسے رکھنا ہے مسئلہ یہ ہے ہے وہ ہے وہ تفریق نہیں کر سکتا پیڑ کو گالیاں بکنے کے علاوہ ذریعون کیا کریں حقیقت کے جو تخلیق نہیں کر سکتا شعر تو خیر ہے وہ ہے وہ تنہائی ہے وہ ہے وہ کہ لوگا علی اپنی حالت تو ہے وہ ہے وہ خود ٹھیک نہیں کر سکتا ہجر سے گزرے بنا عشق بتانے والا بحث کر سکتا ہے تحقیق نہیں کر سکتا
Ali Zaryoun
5 likes
ادا عشق ہوں پوری انا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود اپنے ساتھ ہوں زبان خدا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجاوران ہوں سے تنگ ہیں کہ یوں کیسے بغیر شرم و حیا بھی حیا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سفر شروع تو ہونے دے اپنے ساتھ میرا تو خود کہےگا یہ کیسی بلا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھو گیا تو تو ترا رنگ کاٹ ڈالوں گا سو اپنے آپ سے تجھ کو بچا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ درود بر دل وحشی سلام بر تب عشق خود اپنی حمد خود اپنی ثنا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہی تو فرق ہے مری اور ان کے حل کے بیچ شکایتیں ہیں ا نہیں اور رضا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اولین کی عزت ہے وہ ہے وہ آخریں کا نور حقیقت انتہا ہوں کہ ہر ابتدا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دکھائی دوں بھی تو کیسے سنائی دوں بھی تو کیوں ورا نقش و نوا ہوں فنا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بحکم یار لویں قبض کرنے آتی ہے بجھا رہی ہے بجھائے ہوا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ صابریں محبت یہ کاشفین جنوں انہی کے سن
Ali Zaryoun
5 likes
لہجے ہے وہ ہے وہ خنک بات ہے وہ ہے وہ دم ہے تو کرم ہے گردن در حیدر پہ جو خم ہے تو کرم ہے مت سوچ کہ ا سے گھر پہ کرم ہے تو الم ہے در اصل تری گھر پہ الم ہے تو کرم ہے بستر پہ کمر تراش ٹھیک نہیں لگتی تو خوش ہوں خوراک بھی اے یار جو کم ہے تو کرم ہے بے نسبت و بے عشق ک ہاں ملتی ہے عزت مجھ پہ مری مولا کا کرم ہے تو کرم ہے منکر کی جلن ہی ہے وہ ہے وہ تو مومن کا مزہ ہے گر طع لگ و تشنی و ستم ہے تو کرم ہے اب جب کے کوئی حال بھی کیوں پوچھے کسی کا اک آنکھ مری واسطے نمہ ہے تو کرم ہے اب جب کے کوئی آنکھ نہیں رکتی کسی پر جو کوئی ج ہاں جس کا صنم ہے تو کرم ہے مدحت کا مزہ بھی ہوں تغزل کی ادا بھی کچھ ایسا سخن تجھ کو بہم ہے تو کرم ہے اندھیرا سے غزل سازوں کے ہوتے ہوئے ذریعون تھوڑا سا ا گر تیرا بھرم ہے تو کرم ہے
Ali Zaryoun
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ali Zaryoun.
Similar Moods
More moods that pair well with Ali Zaryoun's ghazal.







