چمک رہی ہے پروں ہے وہ ہے وہ اڑان کی خوشبو بلا رہی ہے بہت آسمان کی خوشبو بھٹک رہی ہے پرانی دلائیاں اوڑھے حویلیوں ہے وہ ہے وہ مری خاندان کی خوشبو سنا کے کوئی کہانی ہمیں سلاتی تھی دعاؤں جیسی بڑے پان دان کی خوشبو دبا تھا پھول کوئی میز پوش کے نیچے گرز رہی تھی بہت پیچوان کی خوشبو عجب نظیر و تھا سوکھے سنہرے بالوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اداسیوں کی چمک زرد لان کی خوشبو حقیقت عطر دان سا لہجہ مری بزرگوں کا رچی بسی ہوئی اردو زبان کی خوشبو غزل کی شاخ پہ اک پھول کھلنے والا ہے بدن سے آنے لگی زعفران کی خوشبو عمارتوں کی بلندی پہ کوئی موسم کیا کہاں سے آ گئی کچے مکان کی خوشبو گلوں پہ لکھتی ہوئی لا الہ الا اللہ پہاڑیوں سے اترتی اذان کی خوشبو
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
More from Bashir Badr
مان موسم کا کہا چھائی گھٹا جام اٹھا آگ سے آگ بجھا پھول کھلا جام اٹھا پی مری یار تجھے اپنی قسم دیتا ہوں بھول جا شکوہ گلہ ہاتھ ملا جام اٹھا ہاتھ ہے وہ ہے وہ چاند ج ہاں آیا مقدر چمکا سب بدل جائےگا قسمت کا لکھا جام اٹھا ایک پل بھی کبھی ہوں جاتا ہے صدیوں جیسا دیر کیا کرنا ی ہاں ہاتھ بڑھا جام اٹھا پیار ہی پیار ہے سب لوگ برابر ہیں ی ہاں مختلف ہے وہ ہے وہ کوئی چھوٹا لگ بڑا جام اٹھا
Bashir Badr
1 likes
مری نظر ہے وہ ہے وہ خاک تری آئینے پہ گرد ہے یہ چاند کتنا زرد ہے یہ رات کتنی سرد ہے کبھی کبھی تو یوں لگا کہ ہم سبھی قید ہستی ہیں تمام شہر ہے وہ ہے وہ لگ کوئی زن لگ کوئی مرد ہے خدا کی نظموں کی کتاب ساری کائنات ہے غزل کے شعر کی طرح ہر ایک فرد فرد ہے حیات آج بھی کنیز ہے حضور جبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو زندگی کو جیت لے حقیقت زندگی کا مرد ہے اسے تبرک حیات کہ کے پلکوں پر رکھوں ا گر مجھے یقین ہوں یہ راستے کی گرد ہے حقیقت جن کے ذکر سے رگوں ہے وہ ہے وہ دوڑتی تھیں بجلیاں انہی کا ہاتھ ہم نے چھو کے دیکھا کتنا سرد ہے
Bashir Badr
2 likes
ख़ून पत्तों पे जमा हो जैसे फूल का रंग हरा हो जैसे बारहा ये हमें महसूस हुआ दर्द सीने का ख़ुदा हो जैसे यूँँ तरस खा के न पूछो अहवाल तीर सीने पे लगा हो जैसे फूल की आँख में शबनम क्यूँँ है सब हमारी ही ख़ता हो जैसे किर्चें चुभती हैं बहुत सीने में आइना टूट गया हो जैसे सब हमें देखने आते हैं मगर नींद आँखों से ख़फ़ा हो जैसे अब चराग़ों की ज़रूरत भी नहीं चाँद इस दिल में छुपा हो जैसे
Bashir Badr
1 likes
خاندانی رشتوں ہے وہ ہے وہ 9 رقابت ہے بہت گھر سے نکلو تو یہ دنیا خوبصورت ہے بہت اپنے قائم ہے وہ ہے وہ بہت مغرور جو مشہور ہے دل میرا کہتا ہے اس کا لڑکی ہے وہ ہے وہ چاہت ہے بہت ان کے چہرے چاند تاروں کی طرح روشن رہے جن غریبوں کے یہاں حسن قناعت ہے بہت ہم سے ہوں سکتی نہیں دنیا کی دنیا داریاں عشق کی دیوار کے سائے ہے وہ ہے وہ راحت ہے بہت دھوپ کی چادر مری سورج سے کہنا بھیج دے غربتوں کا دور ہے جاڑوں کی شدت ہے بہت ان اندھیروں ہے وہ ہے وہ جہاں سہمی ہوئی تھی یہ زمیں رات سے تنہا لڑا جگنو ہے وہ ہے وہ ہمت ہے بہت
Bashir Badr
2 likes
شعر میرے کہاں تھے کسی کے لیے میں نے سب کچھ لکھا ہے تمہارے لیے اپنے دکھ سکھ بہت خوبصورت رہے ہم جیے بھی تو اک دوسرے کے لیے ہم سفر نے میرا ساتھ چھوڑا نہیں اپنے آنسو دیے راستے کے لیے اس حویلی میں اب کوئی رہتا نہیں چاند نکلا کسے دیکھنے کے لیے زندگی اور میں دو الگ تو نہیں میں نے سب پھول کاٹے اسی سے لیے شہر میں اب میرا کوئی دشمن نہیں سب کو اپنا لیا میں نے تیرے لیے ذہن میں تتلیاں اڑ رہی ہیں بہت کوئی دھاگا نہیں باندھنے کے لیے ایک تصویر پڑھتے میں ایسی بنی اگلے پچھلے زمانوں کے چہرے لیے
Bashir Badr
6 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Bashir Badr.
Similar Moods
More moods that pair well with Bashir Badr's ghazal.







