ghazalKuch Alfaaz

दाद तो बा'द में कमाएँगे पहले हम सोचना सिखाएँगे मैं कहीं जा नहीं रहा लेकिन आप क्या मेरे साथ आएँगे कोई खिड़की खुलेगी रात गए कई अपनी मुराद पाएँगे खुल के रोने पे इख़्तियार नहीं हम कोई जश्न क्या मनाएँगे हँसेंगे तेरी बद-हवा सेी पर लोग रस्ता नहीं बताएँगे तुम उठाओगे कोई रंज मिरा दोस्त अहबाब हज़ उठाएँगे हमें अपनी तलाश में मत भेज खड़ी फ़सलें उजाड़ आएँगे

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

More from Jawwad Sheikh

غم ج ہاں سے ہے وہ ہے وہ اکتا گیا تو تو کیا ہوگا خود اپنی فکر ہے وہ ہے وہ گھلنے لگا تو کیا ہوگا یہ ناگزیر ہے امید کی نمو کے لیے گزرتا سمے کہی تھم گیا تو تو کیا ہوگا یہی بے حد ہے کہ ہم کو سکون سے جینے دے کسی کے ہاتھوں ہمارا بھلا تو کیا ہوگا یہ لوگ مری خموشی پہ مجھ سے نالاں ہیں کوئی یہ پوچھے ہے وہ ہے وہ گویا ہوا تو کیا ہوگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے لیے بھی بے حد مختلف ہوں لوگوں سے حقیقت سوچتے ہیں کہ ایسا ہوا تو کیا ہوگا جنوں کی راہ غضب ہے کہ پاؤں دھرنے کو زمین تک بھی نہیں نقش پا تو کیا ہوگا یہ ایک خوف بھی مری خوشی ہے وہ ہے وہ شامل ہے ترا بھی دھیان ا گر ہٹ گیا تو تو کیا ہوگا جو ہوں رہا ہے حقیقت ہوتا چلا گیا تو تو پھروں جو ہونے کو ہے وہی ہوں گیا تو تو کیا ہوگا

Jawwad Sheikh

9 likes

ا سے نے کوئی تو دم پڑھا ہوا ہے ج سے نے دیکھا حقیقت مبتلا ہوا ہے اب تری راستے سے بچ نکلوں اک یہی راستہ بچا ہوا ہے آؤ تقریب رو نمائی کریں پاؤں ہے وہ ہے وہ ایک آبلا ہوا ہے پھروں وہی بحث چھیڑ دیتے ہوں اتنی مشکل سے رابطہ ہوا ہے رات کی واردات مت پوچھو واقعی ایک واقعہ ہوا ہے لگ رہا ہے یہ نرم لہجے سے پھروں تجھے کوئی مسئلہ ہوا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک ہاں اور حقیقت فصیل ک ہاں فاصلے کا ہی فیصلہ ہوا ہے اتنا مصروف ہوں گیا تو ہوں کہ ب سے میر بھی اک طرف پڑا ہوا ہے آج کچھ بھی نہیں ہوا جواد ہاں م گر ایک سانحہ ہوا ہے

Jawwad Sheikh

7 likes

نہیں ایسا بھی کہ یکسر نہیں رہنے والا دل میں یہ شور برابر نہیں رہنے والا جس طرح خاموشی لفظوں میں ڈھلی جاتی ہے اس میں تاثیر کا عنصر نہیں رہنے والا اب یہ کس شکل میں ظاہر ہو خدا ہی جانے رنج ایسا ہے کہ اندر نہیں رہنے والا میں اسے چھوڑنا چاہوں بھی تو کیسے چھوڑوں وہ کسی اور کا ہو کر نہیں رہنے والا غور سے دیکھ ان آنکھوں میں نظر آتا ہے وہ سمندر جو سمندر نہیں رہنے والا جرم وہ کرنے کا سوچا ہے کہ بس اب کی بار کوئی الزام مری سر نہیں رہنے والا میں نے حالانکہ بہت وقت گزارا ہے یہاں اب میں اس شہر میں پل بھر نہیں رہنے والا مصلحت لفظ پہ دو حرف نہ بھیجوں جواد جب مری ساتھ مقدر نہیں رہنے والا

Jawwad Sheikh

15 likes

ہزار صحرا تھے رستے ہے وہ ہے وہ یار کیا کرتا جو چل پڑا تھا تو فکر غبار کیا کرتا کبھی جو ٹھیک سے خود کو سمجھ نہیں پایا حقیقت دوسروں پہ بھلا اعتبار کیا کرتا چلو یہ مانا کہ اظہار بھی ضروری ہے سو ایک بار کیا بار بار کیا کرتا اسی لیے تو در آئی لگ بھی وا لگ کیا جو سو رہے ہیں ا نہیں ہوشیار کیا کرتا حقیقت اپنے خواب کی تفسیر خود لگ کر پایا جہان بھر پہ اسے آشکار کیا کرتا ا گر حقیقت کرنے پہ آتا تو کچھ بھی کر جاتا یہ سوچ مت کہ اکیلا جاں گسل کیا کرتا سوائے یہ کہ حقیقت اپنے بھی زخم تازہ کرے مری غموں پہ میرا غم گسار کیا کرتا ب سے ایک پھول کی خاطر بہار مانگی تھی رتوں سے ور لگ ہے وہ ہے وہ قول و قرار کیا کرتا میرا لہو ہی کہانی کا رنگ تھا جواد کہانی کار اسے رنگ دار کیا کرتا

Jawwad Sheikh

10 likes

سب کو بچاؤ خود بھی بچو فاصلہ رکھو اب اور کچھ کروں لگ کروں فاصلہ رکھو خطرہ تو مفت ہے وہ ہے وہ بھی نہیں لینا چاہیے گھر سے نکل کے مول لگ لو فاصلہ رکھو فیلحال ا سے سے بچنے کا ہے ایک راستہ حقیقت یہ کہ ا سے سے بچ کے رہو فاصلہ رکھو دشمن ہے اور طرح کا جنگ اور طرح کی آگے بڑھو لگ پیچھے ہٹو فاصلہ رکھو

Jawwad Sheikh

7 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Jawwad Sheikh.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Jawwad Sheikh's ghazal.