در کائنات جو وا کرے اسی آگہی کی تلاش ہے مجھے روشنی کی تلاش تھی مجھے روشنی کی تلاش ہے غم زندگی کے فشار ہے وہ ہے وہ تری آرزو کے غمدیدہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسی بے حسی کے حصار ہے وہ ہے وہ مجھے زندگی کی تلاش ہے یہ جو بچھڑنا سی نشاط ہے یہ تو چند لمحوں کی بات ہے مری روح تک جو اتر سکے مجھے ا سے خوشی کی تلاش ہے یہ جو آگ سی ہے دبی دبی نہیں دوستو مری کام کی حقیقت جو ایک آن ہے وہ ہے وہ پھونک دے اسی شعلگی کی تلاش ہے یہ جو ساختہ سے ہیں قہقہے مری دل کو لگتے ہیں بوجھ سے حقیقت جو اپنے آپ ہے وہ ہے وہ مست ہوں مجھے ا سے ہنسی کی تلاش ہے یہ جو میل جول کی بات ہے یہ جو مجلسی سی حیات ہے مجھے ا سے سے کوئی غرض نہیں مجھے دوستی کی تلاش ہے
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا
Tehzeeb Hafi
241 likes
More from Amjad Islam Amjad
न आसमाँ से न दुश्मन के ज़ोर ओ ज़र से हुआ ये मोजज़ा तो मिरे दस्त-ए-बे-हुनर से हुआ क़दम उठा है तो पाँव तले ज़मीं ही नहीं सफ़र का रंज हमें ख़्वाहिश-ए-सफ़र से हुआ मैं भीग भीग गया आरज़ू की बारिश में वो अक्स अक्स में तक़्सीम चश्म-ए-तर से हुआ सियाही शब की न चेहरों पे आ गई हो कहीं सहर का ख़ौफ़ हमें आईनों के डर से हुआ कोई चले तो ज़मीं साथ साथ चलती है ये राज़ हम पे अयाँ गर्द-ए-रहगुज़र से हुआ तिरे बदन की महक ही न थी तो क्या रुकते गुज़र हमारा कई बार यूँँ तो घर से हुआ कहाँ पे सोए थे 'अमजद' कहाँ खुलीं आँखें गुमाँ क़फ़स का हमें अपने बाम-ओ-दर से हुआ
Amjad Islam Amjad
1 likes
आईनों में अक्स न हों तो हैरत रहती है जैसे ख़ाली आँखों में भी वहशत रहती है हर दम दुनिया के हंगा में घेरे रखते थे जब से तेरे ध्यान लगे हैं फ़ुर्सत रहती है करनी है तो खुल के करो इंकार-ए-वफ़ा की बात बात अधूरी रह जाए तो हसरत रहती है शहर-ए-सुख़न में ऐसा कुछ कर इज़्ज़त बन जाए सब कुछ मिट्टी हो जाता है इज़्ज़त रहती है बनते बनते ढह जाती है दिल की हर तामीर ख़्वाहिश के बहरूप में शायद क़िस्मत रहती है साए लरज़ते रहते हैं शहरों की गलियों में रहते थे इंसान जहाँ अब दहशत रहती है मौसम कोई ख़ुशबू ले कर आते जाते हैं क्या क्या हम को रात गए तक वहशत रहती है ध्यान में मेला सा लगता है बीती यादों का अक्सर उस के ग़म से दिल की सोहबत रहती है फूलों की तख़्ती पर जैसे रंगों की तहरीर लौह-ए-सुख़न पर ऐसे 'अमजद' शोहरत रहती है
Amjad Islam Amjad
0 likes
پردے ہے وہ ہے وہ لاکھ پھروں بھی نمودار کون ہے ہے ج سے کے دم سے گرمی بازار کون ہے حقیقت سامنے ہے پھروں بھی دکھائی لگ دے سکے مری اور ا سے کے بیچ یہ دیوار کون ہے باغ وفا ہے وہ ہے وہ ہوں نہیں سکتا یہ فیصلہ صیاد یاں پہ کون گرفتار کون ہے مانا نظر کے سامنے ہے بے شمار دھند ہے دیکھنا کہ دھند کے ا سے پار کون ہے کچھ بھی نہیں ہے پا سے پہ رہتا ہے پھروں بھی خوش سب کچھ ہے ج سے کے پا سے حقیقت بیزار کون ہے یوں تو دکھائی دیتے ہیں اسرار ہر طرف کھلتا نہیں کہ صاحب اسرار کون ہے امجد ا پیش سی آپ نے کھولی ہے جو دکان کسانوں و ناپاکی کا یاں یہ خریدار کون ہے
Amjad Islam Amjad
0 likes
किसी की आँख में ख़ुद को तलाश करना है फिर उस के ब'अद हमें आइनों से डरना है फ़लक की बंद गली के फ़क़ीर हैं तारे! कि घूम फिर के यहीं से उन्हें गुज़रना है जो ज़िंदगी थी मिरी जान! तेरे साथ गई बस अब तो उम्र के नक़्शे में वक़्त भरना है जो तुम चलो तो अभी दो क़दम में कट जाए जो फ़ासला मुझे सदियों में पार करना है तो क्यूँँ न आज यहीं पर क़याम हो जाए कि शब क़रीब है आख़िर कहीं ठहरना है वो मेरा सैल-ए-तलब हो कि तेरी रा'नाई चढ़ा है जो भी समुंदर उसे उतरना है सहर हुई तो सितारों ने मूँद लीं आँखें वो क्या करें कि जिन्हें इंतिज़ार करना है ये ख़्वाब है कि हक़ीक़त ख़बर नहीं 'अमजद' मगर है जीना यहीं पर यहीं पे मरना है
Amjad Islam Amjad
0 likes
تمہارا ہاتھ جب مری لرزتے ہاتھ سے چھوٹا اڑائے کے آخری دن تھے حقیقت محکم بے لچک وعدہ کھلونے کی طرح ٹوٹا اڑائے کے آخری دن تھے بہار آئی لگ تھی لیکن ہواؤں ہے وہ ہے وہ نئے موسم کی خوشبو رقص کرتی تھی اچانک جب کہا جاناں نے مری منا پر مجھے جھوٹا اڑائے کے آخری دن تھے حقیقت کیا دن تھے یہیں ہم نے بہاروں کی دعا کی تھی کسی نے بھی نہیں سوچا چمن والوں نے مل کر جب خود اپنا ہی چمن لوٹا اڑائے کے آخری دن تھے لکھا تھا ایک تختی پر کوئی بھی پھول مت گرفت م گر آندھی تو ان پڑھ تھی سو جب حقیقت باغ سے گزری کوئی اکھڑا کوئی ٹوٹا اڑائے کے آخری دن تھے بے حد ہی زور سے پیٹے ہوا کے بین پر سینے ہمارے خیرخوا ہوں نے کہ چان گرا کے ورق جیسا سمے نے جب ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوٹا اڑائے کے آخری دن تھے لگ رت تھی آندھیوں کی یہ لگ موسم تھا ہواؤں کا تو پھروں یہ کیا ہوا امجد ہر اک کونپل ہوئی اڑھائی ہوا مجروح ہر بوٹا اڑائے کے آخری دن تھے
Amjad Islam Amjad
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Amjad Islam Amjad.
Similar Moods
More moods that pair well with Amjad Islam Amjad's ghazal.







