دشرتھ جی کی بنجر آنکھیں کیکئی کی وشدھر آنکھیں رام گئے ون بننے بھگوان کوشل یا کی پتھر آنکھیں بھائی لکھن سا کوئی لگ دوجا چلنے کو ہیں تتپر آنکھیں آگ لگی ہے سب آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ماں سیتا ہیں پشکر آنکھیں ارمل کو کوئی کیا لکھے تنہائی کا امبر آنکھیں کاٹ گئی ہیں کرم کی ریکھا اک داسی کی خنجر آنکھیں چھوڑ ن گر کو جاتے رغور سب لوگوں کی جھڑ جھڑ آنکھیں
Related Ghazal
خوشی ضائع ہوں رہے تھے دیکھ کر روتا لگ تھا ج سے جگہ بنتا تھا رونا ہے وہ ہے وہ و ہاں روتا لگ تھا صرف تیری چپ نے مری گال گیلے کر دیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو حقیقت ہوں جو کسی کی موت پر روتا لگ تھا مجھ پر کتنے احسان ہے گزرے پر ان آنکھوں کو کیا میرا دکھ یہ ہے کے میرا ہم سفر روتا لگ تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کے وصل ہے وہ ہے وہ بھی ہجر کٹا ہے کہی حقیقت مری کندھے پہ رکھ لیتا تھا سر روتا لگ تھا پیار تو پہلے بھی ا سے سے تھا م گر اتنا نہیں تب ہے وہ ہے وہ اس کا کو چھو تو لیتا تھا م گر روتا لگ تھا گر یوں جاری کو بھی ایک خاص موسم چاہیے مری آنکھیں دیکھ لو ہے وہ ہے وہ سمے پر روتا لگ تھا
Tehzeeb Hafi
85 likes
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو ا سے کے شہر ہے وہ ہے وہ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے ا سے کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز ا سے کی سو ہم بھی ا سے کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے تم تم بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں ا سے کی غزال سی آنکھیں سنا ہے ا سے کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکليں ا سے کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کی سیاہ چشمگی خوشگوار ہے سو ا سے کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئی لگ تمثال ہے جبیں ا سے
Ahmad Faraz
65 likes
حقیقت منہ لگاتا ہے جب کوئی کام ہوتا ہے جو اس کا کا ہوتا ہے سمجھو غلام ہوتا ہے کسی کا ہوں کے دوبارہ نہ آنا میری طرف محبتوں ہے وہ ہے وہ حلالہ حرام ہوتا ہے اسے بھی گنتے ہیں ہم لوگ اہل خانہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارے یاں تو شجر کا بھی نام ہوتا ہے تجھ ایسے بے وجہ کے ہوتے ہیں ضرب سے دوست بہت تجھ ایسا بے وجہ بہت جلد آم ہوتا ہے کبھی لگی ہے تمہیں کوئی شام آخری شام ہمارے ساتھ یہ ہر ایک شام ہوتا ہے
Umair Najmi
81 likes
ہم کو مٹا سکے یہ زمانے ہے وہ ہے وہ دم نہیں ہم سے زما لگ خود ہے زمانے سے ہم نہیں بے فائدہ الم نہیں بے کار غم نہیں توفیق دے خدا تو یہ نعمت بھی کم نہیں مری زبان پہ شکوہ اہل ستم نہیں مجھ کو جگا دیا یہی احسان کم نہیں یا رب ہجوم درد کو دے اور وسعتیں دامن تو کیا ابھی مری آنکھیں بھی نمہ نہیں شکوہ تو ایک چھیڑ ہے لیکن حقیقتن تیرا ستم بھی تیری عنایت سے کم نہیں اب عشق ا سے مقام پہ ہے جستجو نورد سایہ نہیں ج ہاں کوئی نقش قدم نہیں ملتا ہے کیوں مزہ ستم روزگار ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیرا کرم بھی خود جو شریک ستم نہیں مرگ ج گر پہ کیوں تری آنکھیں ہیں خوشی ریز اک سانحہ صحیح م گر اتنا اہم نہیں
Jigar Moradabadi
19 likes
नई नई आँखें हों तो हर मंज़र अच्छा लगता है कुछ दिन शहर में घू में लेकिन अब घर अच्छा लगता है मिलने-जुलने वालों में तो सब ही अपने जैसे हैं जिस से अब तक मिले नहीं वो अक्सर अच्छा लगता है मेरे आँगन में आए या तेरे सर पर चोट लगे सन्नाटों में बोलने वाला पत्थर अच्छा लगता है चाहत हो या पूजा सब के अपने अपने साँचे हैं जो मौत में ढल जाए वो पैकर अच्छा लगता है हम ने भी सो कर देखा है नए पुराने शहरों में जैसा भी है अपने घर का बिस्तर अच्छा लगता है
Nida Fazli
19 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ravi Goswami.
Similar Moods
More moods that pair well with Ravi Goswami's ghazal.







