دھڑکتے سان سے لیتے رکتے چلتے ہے وہ ہے وہ نے دیکھا ہے کوئی تو ہے جسے اپنے ہے وہ ہے وہ پالتے ہے وہ ہے وہ نے دیکھا ہے تمہارے خون سے مری رگوں ہے وہ ہے وہ خواب روشن ہے تمہاری عادتوں ہے وہ ہے وہ خود کو ڈھلتے ہے وہ ہے وہ نے دیکھا ہے لگ جانے کون ہے جو خواب ہے وہ ہے وہ آواز دیتا ہے خود اپنے آپ کو نیندوں ہے وہ ہے وہ چلتے ہے وہ ہے وہ نے دیکھا ہے مری خاموشیوں ہے وہ ہے وہ چٹخے گی ہیں تیری آوازیں تری سینے ہے وہ ہے وہ اپنا دل مچلتے ہے وہ ہے وہ نے دیکھا ہے بدل جائےگا سب کچھ بادلوں سے دھوپ پرستار بجھی آنکھوں ہے وہ ہے وہ کوئی خواب جلتے ہے وہ ہے وہ نے دیکھا ہے مجھے معلوم ہے ان کی دعائیں ساتھ چلتی ہیں سفر کی مشکلوں کو ہاتھ ملتے ہے وہ ہے وہ نے دیکھا ہے
Related Ghazal
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
More from Aalok Shrivastav
کسی اور نے تو بنا نہیں میرا آ سماں میرا آ سماں تری آ سماں سے جدا نہیں میرا آ سماں میرا آ سماں یہ زمین مری زمین ہے یہ جہان میرا جہان ہے کسی دوسرے سے ملا نہیں میرا آ سماں میرا آ سماں کہی دھوپ ہے کہی چاندنی کہی رنگ ہے کہی روشنی کہی آنسوؤں سے دھلا نہیں میرا آ سماں میرا آ سماں اسے چھو سکون یہ جنون ہے مری روح کو یہ سکون ہے ی ہاں کب کسی کا ہوا نہیں میرا آ سماں میرا آ سماں گریں بجلیاں مری راہ پر کئی آندھیاں بھی چلیں م گر کبھی بادلوں سا جھکا نہیں میرا آ سماں میرا آ سماں
Aalok Shrivastav
1 likes
یہ اور بات دور رہے منزلوں سے ہم بچ کر چلے ہمیشہ م گر قافلوں سے ہم ہونے کو پھروں شکار نئی الجھنوں سے ہم ملتے ہیں روز اپنے کئی دوستوں سے ہم برسوں فریب کھاتے رہے دوسروں سے ہم اپنی سمجھ ہے وہ ہے وہ آئی بڑی مشکلوں سے ہم منزل کی ہے طلب تو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ساتھ لے چلو واقف ہیں خوب راہ کی باری کیوں سے ہم جن کے پروں پہ صبح کی خوشبو کے رنگ ہیں بچپن ادھار لائے ہیں ان تتلیوں سے ہم کچھ تو ہمارے بیچ کبھی دوریاں بھی ہوں تنگ آ گئے ہیں روز کی نز گرا کیوں سے ہم گزریں ہمارے گھر کی کسی رہگزر سے حقیقت پردے ہٹائیں دیکھیں ا نہیں کھڑ کیوں سے ہم جب بھی کہا کہ یاد ہماری ک ہاں ا نہیں پکڑے گئے ہیں ٹھیک تبھی ہچ کیوں سے ہم
Aalok Shrivastav
5 likes
تو وفا کر کے بھول جا مجھ کو اب ذرا یوں بھی آزما مجھ کو یہ زما لگ برا نہیں ہے م گر اپنی دی سے دیکھنا مجھ کو بے صدا کاغذوں ہے وہ ہے وہ آگ لگا آج کی رات گنگنا مجھ کو تجھ کو ک سے ک سے ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا آخر تو بھی ک سے ک سے سے مانگتا مجھ کو اب کسی اور کا پجاری ہے ج سے نے مانا تھا دیوتا مجھ کو
Aalok Shrivastav
3 likes
ठीक हुआ जो बिक गए सैनिक मुट्ठी भर दीनारों में वैसे भी तो ज़ंग लगा था पुश्तैनी हथियारों में सर्द नसों में चलते चलते गर्म लहू जब बर्फ़ हुआ चार पड़ोसी जिस्म उठा कर झोंक आए अंगारों में खेतों को मुट्ठी में भरना अब तक सीख नहीं पाया यूँँ तो मेरा जीवन बीता सामंती अय्यारों में कैसे उस के चाल-चलन में अंग्रेज़ी अंदाज़ न हो आख़िर उस ने साँसें लीं हैं पच्छिम के दरबारों में नज़दीकी अक्सर दूरी का कारन भी बन जाती है सोच-समझ कर घुलना-मिलना अपने रिश्ते-दारों में चाँद अगर पूरा चमके तो उस के दाग़ खटकते हैं एक न एक बुराई तय है सारे इज़्ज़त-दारों में
Aalok Shrivastav
1 likes
ا گر سفر ہے وہ ہے وہ مری ساتھ میرا یار چلے بے پیرہن کرتا ہوا موسم بہار چلے لگا کے سمے کو ٹھوکر جو خاکسار چلے یقین کے بندھو ہمراہ بے شمار چلے نوازنا ہے تو پھروں ا سے طرح نواز مجھے کہ مری بعد میرا ذکر بار بار چلے یہ جسم کیا ہے کوئی پیرہن ادھار کا ہے یہیں سنبھال کے پہنا یہیں اتار چلے یہ نڈھال سے بھرا آ سماں ج ہاں تک ہے و ہاں تلک تری دی کا اقتدار چلے یہی تو ایک تمنا ہے ا سے مسافر کی جو جاناں نہیں تو سفر ہے وہ ہے وہ تمہارا پیار چلے
Aalok Shrivastav
8 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Aalok Shrivastav.
Similar Moods
More moods that pair well with Aalok Shrivastav's ghazal.







