ghazalKuch Alfaaz

دھنک دھنک مری پورو کے خواب کر دےگا حقیقت لم سے مری بدن کو گلاب کر دےگا قباء جسم کے ہر تار سے گزرتا ہوا کرن کا پیار مجھے آفتاب کر دےگا جنوں پسند ہے دل اور تجھ تک آنے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بدن کو ناو لہو کو سرحدوں کر دےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ کہوںگی م گر پھروں بھی ہار جاؤںگی حقیقت جھوٹ بولےگا اور لا جواب کر دےگا انا پرست ہے اتنا کہ بات سے پہلے حقیقت اٹھ کے بند مری ہر کتاب کر دےگا سکوت شہر سخن ہے وہ ہے وہ حقیقت پھول سا لہجہ سماعتوں کی فضا خواب خواب کر دےگا اسی طرح سے ا گر چاہتا رہا پےہم سخن وری ہے وہ ہے وہ مجھے انتخاب کر دےگا مری طرح سے کوئی ہے جو زندگی اپنی تمہاری یاد کے نام انتساب کر دےگا

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

تمہارے غم سے توبہ کر رہا ہوں ت غضب ہے ہے وہ ہے وہ ایسا کر رہا ہوں ہے اپنے ہاتھ ہے وہ ہے وہ اپنا گریبان لگ جانے ک سے سے جھگڑا کر رہا ہوں بے حد سے بند تالے کھل رہے ہیں تری سب خط اکٹھا کر رہا ہوں کوئی تتلی نشانے پر نہیں ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے رنگوں کا پیچھا کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رسمًا کہ رہا ہوں پھروں ملیںگے یہ مت سمجھو کہ وعدہ کر رہا ہوں مری احباب سارے شہر ہے وہ ہے وہ ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے گاؤں ہے وہ ہے وہ کیا کر رہا ہوں مری ہر اک غزل اصلی ہے صاحب کئی برسوں سے دھندا کر رہا ہوں

Zubair Ali Tabish

38 likes

خواب کے ہی ہم سہارے چل رہے ہیں زخم کو بھی گدگداتے چل رہے ہیں کیا بتائیں اب تمہیں ہم حال اپنا ہجر ہے وہ ہے وہ کیسے دیوانے چل رہے ہیں دریا کی تنہائی کا تو سوچئے ساتھ ج سے کے دو کنارے چل رہے ہیں جاناں کو کیا لگتا ہے تنہا چل رہا ہوں ساتھ مری چاند تارے چل رہے ہیں

Anand Raj Singh

32 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

آنکھوں ہے وہ ہے وہ رہا دل ہے وہ ہے وہ اتر کر نہیں دیکھا کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا ذہانت ا گر جاؤں گا سب چونک پڑیں گے اک عمر ہوئی دن ہے وہ ہے وہ کبھی گھر نہیں دیکھا ج سے دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا یہ پھول مجھے کوئی وراثت ہے وہ ہے وہ ملے ہیں جاناں نے میرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا یاروں کی محبت کا یقین کر لیا ہے وہ ہے وہ نے پھولوں ہے وہ ہے وہ چھپایا ہوا خنجر نہیں دیکھا محبوب کا گھر ہوں کہ بزرگوں کی زمینیں جو چھوڑ دیا پھروں اسے مڑ کر نہیں دیکھا خط ایسا لکھا ہے کہ نگینے سے جڑے ہیں حقیقت ہاتھ کہ ج سے نے کوئی زیور نہیں دیکھا پتھر مجھے کہتا ہے میرا چاہنے والا ہے وہ ہے وہ ہے وہ موم ہوں ا سے نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا

Bashir Badr

38 likes

More from Parveen Shakir

اپنی رسوائی تری نام کا چرچا دیکھوں اک ذرا شعر ک ہوں اور ہے وہ ہے وہ کیا کیا دیکھوں نیند آ جائے تو کیا محفلیں برپا دیکھوں آنکھ کھل جائے تو تنہائی کا صحرا دیکھوں شام بھی ہوں گئی دھندلا گئیں آنکھیں بھی مری بھولنے والے ہے وہ ہے وہ کب تک ترا رستہ دیکھوں ایک اک کر کے مجھے چھوڑ گئیں سب سکھیاں آج ہے وہ ہے وہ خود کو تری یاد ہے وہ ہے وہ تنہا دیکھوں کاش صندل سے مری مانگ اجالے آ کر اتنے غیروں ہے وہ ہے وہ وہی ہاتھ جو اپنا دیکھوں تو میرا کچھ نہیں لگتا ہے م گر جان حیات جانے کیوں تری لیے دل کو دھڑکنا دیکھوں بند کر کے مری آنکھیں حقیقت شرارت سے ہنسے بوجھے جانے کا ہے وہ ہے وہ ہر روز تماشا دیکھوں سب زدیں ا سے کی ہے وہ ہے وہ پوری کروں ہر بات سنوں ایک بچے کی طرح سے اسے ہنستا دیکھوں مجھ پہ چھا جائے حقیقت برسات کی خوشبو کی طرح انگ انگ اپنا اسی رت ہے وہ ہے وہ مہکتا دیکھوں پھول کی طرح مری جسم کا ہر لب کھل جائے پھکڑی پھکڑی ان ہونٹوں کا سایہ دیکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ج سے لمحے کو پوجا ہے اسے ب سے اک بار خواب ب

Parveen Shakir

2 likes

اب اتنی سادگی لائیں ک ہاں سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی خیر مانگے آ سماں سے ا گر چاہیں تو حقیقت دیوار کر دیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب کچھ نہیں کہنا زبان سے ستارہ ہی نہیں جب ساتھ دیتا تو کشتی کام لے کیا بادباں سے بھٹکنے سے ملے فرصت تو پوچھیں پتا منزل کا برق سے برق برق کی حاصل رہی ہے سو ہے آزاد رازداں سے ہوا کو راز داں ہم نے بنایا اور اب ناراض خوشبو کے بیاں سے ضروری ہوں گئی ہے دل کی ظفر جلوے فنا فی ال عشق جاتے ہیں مکان سے خیرو ہونا چاہتے تھے م گر فرصت لگ تھی کار ج ہاں سے وگر لگ فصل گل کی دودمان کیا تھی بڑی حکمت ہے وابستہ اڑائے سے کسی نے بات کی تھی ہن سے کے شاید زمانے بھر سے ہیں ہم خود گماں سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک اک تیر پہ خود ڈھال بنتی ا گر ہوتا حقیقت دشمن کی کماں سے جو سبزہ دیکھ کر خیمے لگائیں ا نہیں تکلیف کیوں پہنچے اڑائے سے جو اپنے پیڑ جلتے چھوڑ جائیں ا نہیں کیا حق کہ روٹھیں باغباں سے

Parveen Shakir

0 likes

خوشی آنکھ ہے وہ ہے وہ پھروں اٹک رہا ہے کنکر سا کوئی خٹک رہا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے خیال سے گریزاں حقیقت مری صدا جھٹک رہا ہے تحریر اسی کی ہے م گر دل خط پیسہ ہوئے اٹک رہا ہے ہیں فون پہ ک سے کے ساتھ باتیں اور ذہن ک ہاں بھٹک رہا ہے صدیوں سے سفر ہے وہ ہے وہ ہے سمندر ساحل پہ تھکن ٹپک رہا ہے اک چاند صلیب شاخ گل پر بالی کی طرح لٹک رہا ہے

Parveen Shakir

3 likes

چراغ راہ بجھا کیا کہ رہنما بھی گیا تو ہوا کے ساتھ مسافر کا نقش پا بھی گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول چنتی رہی اور مجھے خبر لگ ہوئی حقیقت بے وجہ آ کے مری شہر سے چلا بھی گیا تو بے حد عزیز صحیح ا سے کو مری دلداری م گر یہ ہے کہ کبھی دل میرا دکھا بھی گیا تو اب ان دریچوں پہ گہرے دبیز پردے ہیں حقیقت تانک جھانک کا معصوم سلسلہ بھی گیا تو سب آئی مری عیادت کو حقیقت بھی آیا تھا جو سب گئے تو میرا درد آشنا بھی گیا تو یہ غربتیں مری آنکھوں ہے وہ ہے وہ کیسی اتری ہیں کہ خواب بھی مری رخصت ہیں رتجگا بھی گیا تو

Parveen Shakir

3 likes

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا عشق کے ا سے سفر نے تو مجھ کو شام سبا کر دیا اے مری گل ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے چاہ تھی اک کتاب کی اہل کتاب نے م گر کیا ترا حال کر دیا ملتے ہوئے دلوں کے بیچ اور تھا فیصلہ کوئی ا سے نے م گر بچھڑتے سمے اور سوال کر دیا اب کے ہوا کے ساتھ ہے دامن یار منتظر بانو شب کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ رکھنا سنبھال کر دیا ممکنا فیصلوں ہے وہ ہے وہ ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا ہم نے تو ایک بات کی ا سے نے غصہ کر دیا مری لبوں پہ مہر تھی پر مری شیشہ رو نے تو شہر کے شہر کو میرا واقف حال کر دیا چہرہ و نام ایک ساتھ آج لگ یاد آ سکے سمے نے ک سے شبیہ کو خواب و خیال کر دیا مدتوں بعد ا سے نے آج مجھ سے کوئی گلہ کیا منصف دلبری پہ کیا مجھ کو بحال کر دیا

Parveen Shakir

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Parveen Shakir.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Parveen Shakir's ghazal.