ghazalKuch Alfaaz

دل ہے وہ ہے وہ اب یوں تری بھولے ہوئے غم آتے ہیں چنو بچھڑے ہوئے کعبے ہے وہ ہے وہ صنم آتے ہیں اک اک کر کے ہوئے جاتے ہیں تارے روشن مری منزل کی طرف تری قدم آتے ہیں رقص مے تیز کروں ساز کی لے تیز کروں سو میخا لگ سفیران حرم آتے ہیں کچھ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو نہیں احسان اٹھانے کا دماغ حقیقت تو جب آتے ہیں مائل ب کرم آتے ہیں اور کچھ دیر لگ گزرے شب فرقت سے کہو دل بھی کم دکھتا ہے حقیقت یاد بھی کم آتے ہیں

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

More from Faiz Ahmad Faiz

دربار ہے وہ ہے وہ اب سطوت شاہی کی علامت دربان کا اسا ہے کہ مصنف کا ہے آوارہ ہے پھروں کوہ ندا پر جو ناروا تمہید مسرت ہے کہ طول شب غم ہے ج سے دھجی کو گلیوں ہے وہ ہے وہ لیے پھرتے ہیں طفلاں یہ میرا گریباں ہے کہ لشکر کا الم ہے ج سے نور سے ہے شہر کی دیوار درخشاں یہ خون شہیداں ہے کہ زر خا لگ جم ہے حلقہ کیے بیٹھے رہو اک شمع کو یاروں کچھ روشنی باقی تو ہے ہر چند کہ کم ہے

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

اب کے بر سے دستور ستم ہے وہ ہے وہ کیا کیا باب ایزاد ہوئے جو قاتل تھے مقتول ہوئے جو دام نا رسائی تھے اب صیاد ہوئے پہلے بھی اڑائے ہے وہ ہے وہ باغ اجڑے پر یوں نہیں چنو اب کے بر سے سارے بوٹے پتہ پتہ رویش رویش برباد ہوئے پہلے بھی طواف شم وفا تھی رسم محبت والوں کی ہم جاناں سے پہلے بھی ی ہاں منصور ہوئے فرہاد ہوئے اک گل کے مرجھانے پر کیا گلشن ہے وہ ہے وہ کوہرام مچا اک چہرہ کمھلا جانے سے کتنے دل ناشاد ہوئے فیض لگ ہم یوسف لگ کوئی یعقوب جو ہم کو یاد کرے اپنی کیا کنعان ہے وہ ہے وہ رہے یا مصر ہے وہ ہے وہ جا آباد ہوئے

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

پھروں حریف بہار ہوں بیٹھے جانے ک سے ک سے کو آج رو بیٹھے تھی م گر اتنی رائےگاں بھی لگ تھی آج کچھ زندگی سے کھو بیٹھے تری در تک پہنچ کے لوٹ آئی عشق کی رکھ ڈبو بیٹھے ساری دنیا سے دور ہوں جائے جو ذرا تری پا سے ہوں بیٹھے لگ گئی تیری بے رکھ لگ گئی ہم تری آرزو بھی کھو بیٹھے فیض ہوتا رہے جو ہونا ہے شعر لکھتے رہا کروں بیٹھے

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

قرض نگاہ یار ادا کر چکے ہیں ہم سب کچھ نثار راہ وفا کر چکے ہیں ہم کچھ امتحاں دست کہوں کر چکے ہیں ہم کچھ ان کی دسترسی کا پتا کر چکے ہیں ہم اب احتیاط کی کوئی صورت نہیں رہی قاتل سے رسم و راہ سوا کر چکے ہیں ہم دیکھیں ہے کون کون ضرورت نہیں رہی کوئے ستم ہے وہ ہے وہ سب کو خفا کر چکے ہیں ہم اب اپنا اختیار ہے چاہے ج ہاں چلیں رہبر سے اپنی راہ جدا کر چکے ہیں ہم ان کی نظر ہے وہ ہے وہ کیا کریں فیکا ہے اب بھی رنگ جتنا لہو تھا صرف قبا کر چکے ہیں ہم کچھ اپنے دل کی پربھاکر کا بھی شکرا لگ چاہیے سو بار ان کی پربھاکر کا گلہ کر چکے ہیں ہم

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

حقیقت بتوں نے ڈالے ہیں رلا کہ دلوں سے خوف خدا گیا تو حقیقت پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیال روز جزا گیا تو جو نف سے تھا خار گلو بنا جو اٹھے تھے ہاتھ لہو ہوئے حقیقت نشاط آہ سحر گئی حقیقت وقار دست دعا گیا تو لگ حقیقت رنگ فصل بہار کا لگ رویش حقیقت ابر بہار کی ج سے ادا سے یار تھے آشنا حقیقت مزاج باد صبا گیا تو جو طلب پہ عہد وفا کیا تو حقیقت آبرو وفا گئی سر عام جب ہوئے مدعی تو ثواب صدق و صفا گیا تو ابھی بادبان کو تہ رکھو ابھی مضطرب ہے رکھ ہوا کسی راستے ہے وہ ہے وہ ہے منتظر حقیقت سکون جو آ کے چلا گیا تو

Faiz Ahmad Faiz

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Faiz Ahmad Faiz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Faiz Ahmad Faiz's ghazal.