اک پرندہ ابھی اڑان ہے وہ ہے وہ ہے تیر ہر بے وجہ کی کمان ہے وہ ہے وہ ہے ج سے کو دیکھو وہی ہے چپ چپ سا چنو ہر بے وجہ امتحاں ہے وہ ہے وہ ہے کھو چکے ہم یقین جیسی اجازت تو ابھی تک کسی گمان ہے وہ ہے وہ ہے زندگی سنگ دل صحیح لیکن آئی لگ بھی اسی چٹان ہے وہ ہے وہ ہے سر بلن گرا نصیب ہوں کیسے سر نگوں ہے کہ سایبان ہے وہ ہے وہ ہے خوف ہی خوف جاگتے سوتے کوئی آسیب ا سے مکان ہے وہ ہے وہ ہے آسرا دل کو اک امید کا ہے یہ ہوا کب سے بادبان ہے وہ ہے وہ ہے خود کو پایا لگ عمر بھر ہم نے کون ہے جو ہمارے دھیان ہے وہ ہے وہ ہے
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی
Ali Zaryoun
102 likes
More from Ameer Qazalbash
فکر غربت ہے لگ اندیشہ تنہائی ہے زندگی کتنے حوادث سے گزر آئی ہے لوگ ج سے حال ہے وہ ہے وہ مرنے کی دعا کرتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے حال ہے وہ ہے وہ جینے کی قسم کھائی ہے ہم لگ سقراط لگ منصور لگ عیسی لیکن جو بھی قاتل ہے ہمارا ہی تمنا ئی ہے زندگی اور ہیں کتنے تری چہرے یہ بتا تجھ سے اک عمر کی حالانکہ شنا سائی ہے کون ناواقف انجام تبسم ہے امیر مری حالات پہ یہ ک سے کو ہنسی آئی ہے
Ameer Qazalbash
2 likes
ہر گام حادثہ ہے ٹھہر جائیے جناب رستہ ا گر ہوں یاد تو گھر جائیے جناب زندہ اوی سے کے تلاطم ہیں سامنے خوابوں کی کشتیوں سے اتر جائیے جناب انصاف کی صلیب ہوں سچائیوں کا زہر مجھ سے ملے بغیر گزر جائیے جناب دن کا سفر تو کٹ گیا تو سورج کے ساتھ ساتھ اب شب کی صورت آشنا ہے وہ ہے وہ بکھر جائیے جناب کوئی چرا کے لے گیا تو صدیوں کا اعتقاد منبر کی سیڑھیوں سے اتر جائیے جناب
Ameer Qazalbash
2 likes
خوف بن کر یہ خیال آتا ہے 9 مجھ کو دشت کر جائےگا اک روز سمندر مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ سرپا ہوں خبر نامہ امروز جہاں کل بھلا دے نہ یہ دنیا کہیں پڑھ کر مجھ کو ہر نفس مجھ ہے وہ ہے وہ تغیر کی شفافیت لرزاں مرتسم کر نہ سکا کوئی بھی منظر مجھ کو اپنے ساحل پہ ہے وہ ہے وہ خود تشنا دہن بیٹھا ہوں دیکھ دریا کی ترائی سے نکل کر مجھ کو مری سائے ہے وہ ہے وہ بھی مجھ کو نہیں رہنے دےگا میرے ہی گھر ہے وہ ہے وہ رکھے گا کوئی بے گھر مجھ کو کارگر کوئی بھی تلخی تقریر نہ ہونے دےگا کیا مقدر ہے کہ لے جائےگا در در مجھ کو کام آوےگی عشق دل نہ بیدار نگاہی بھی امیر خواب کہ جائےگا اک دن میرا پیکر مجھ کو
Ameer Qazalbash
0 likes
پائیں ہر ایک راہ گزر پر اداسیاں نکلی ہوئی ہیں کب سے سفر پر اداسیاں خوابیدہ شہر جاگنے والا ہے لوٹ آؤ بیٹھی ہوئی ہیں شام سے گھر پر اداسیاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خوف سے لرزتا رہا پڑھ نہیں سکا پھیلی ہوئی تھیں ایک خبر پر اداسیاں سورج کے ہاتھ سبز قباؤں تک آ گئے اب ہیں ی ہاں ہر ایک شجر پر اداسیاں اپنے بھی خط و خال نگا ہوں ہے وہ ہے وہ اب نہیں ا سے طرح چھا گئی ہیں نظر پر اداسیاں پھیلا رہا ہے کون کبھی سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خوابوں کے ایک ایک ن گر پر اداسیاں سب لوگ بن گئے ہیں ا گر اجنبی تو کیا چھوڑ آئیںگی مجھے مری در پر اداسیاں
Ameer Qazalbash
0 likes
ہر ایک ہاتھ ہے وہ ہے وہ پتھر دکھائی دیتا ہے یہ زخم گھر سے نکل کر دکھائی دیتا ہے سنا ہے اب بھی مری ہاتھ کی لکیروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نجومیوں کو مقدر دکھائی دیتا ہے اب انکسار بھی شامل ہے وضع ہے وہ ہے وہ ا سے کی اسے بھی اب کوئی ہم سر دکھائی دیتا ہے گرا لگ مجھ کو مری خواب کی بلن گرا سے ی ہاں سے مجھ کو میرا گھر دکھائی دیتا ہے ج ہاں ج ہاں بھی ہے نہر فرات کا امکان وہیں یزید کا لشکر دکھائی دیتا ہے خدا کے شہر ہے وہ ہے وہ پھروں کوئی سنگسار ہوا جسے بھی دیکھیے پتھر دکھائی دیتا ہے امیر ک سے کو بتاوگے کون مانے گا سراب ہے جو سمندر دکھائی دیتا ہے
Ameer Qazalbash
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ameer Qazalbash.
Similar Moods
More moods that pair well with Ameer Qazalbash's ghazal.







