ghazalKuch Alfaaz

hai ajiib shahr ki zindagi na safar raha na qayam hai kahin karobar si dopahar kahin bad-mizaj si shaam hai yunhi roz milne ki aarzu badi rakh-rakhav ki guftugu ye sharafaten nahin be-ghharaz ise aap se koi kaam hai kahan ab duaon ki barkaten vo nasihaten vo hidayaten ye mutalbon ka khulus hai ye zaruraton ka salam hai vo dilon men aag lagaega main dilon ki aag bujhaunga use apne kaam se kaam hai mujhe apne kaam se kaam hai na udaas ho na malal kar kisi baat ka na khayal kar kai saal baad mile hain ham tire naam aaj ki shaam hai koi naghhma dhuup ke gaanv sa koi naghhma shaam ki chhanv sa zara in parindon se puchhna ye kalam kis ka kalam hai hai ajib shahr ki zindagi na safar raha na qayam hai kahin karobar si dopahar kahin bad-mizaj si sham hai yunhi roz milne ki aarzu badi rakh-rakhaw ki guftugu ye sharafaten nahin be-gharaz ise aap se koi kaam hai kahan ab duaon ki barkaten wo nasihaten wo hidayaten ye mutalbon ka khulus hai ye zaruraton ka salam hai wo dilon mein aag lagaega main dilon ki aag bujhaunga use apne kaam se kaam hai mujhe apne kaam se kaam hai na udas ho na malal kar kisi baat ka na khayal kar kai sal baad mile hain hum tere nam aaj ki sham hai koi naghma dhup ke ganw sa koi naghma sham ki chhanw sa zara in parindon se puchhna ye kalam kis ka kalam hai

Related Ghazal

کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر

Anwar Shaoor

95 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

More from Bashir Badr

جب سحر چپ ہوں ہنسا لو ہم کو جب اندھیرا ہوں جلا لو ہم کو ہم حقیقت ہیں نظر آتے ہیں داستانو ہے وہ ہے وہ چھپا لو ہم کو خون کا کام رواں رہنا ہے ج سے جگہ چاہو بہا لو ہم کو دن لگ پا جائے کہی شب کا راز صبح سے پہلے اٹھا لو ہم کو ہم زمانے کے ستائے ہیں بے حد اپنے سینے سے لگا لو ہم کو سمے کے ہونٹ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھو لیںگے ان کہے بول ہیں گا لو ہم کو

Bashir Badr

1 likes

فلک سے چاند ستاروں سے جام لینا ہے مجھے سحر سے نئی ایک شام لینا ہے کسے خبر کہ فرشتے غزل سمجھتے ہیں خدا کے سامنے کافر کا نام لینا ہے معاملہ ہے ترا بدترین دشمن سے مری عزیز محبت سے کام لینا ہے مہکتی زلفوں سے خوشبو چمکتی ہوئی آنکھ سے دھوپ شبوں سے جام سحر کا سلام بخیر لینا ہے تمہاری چال کی آہستگی کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سخن سے دل کو مسلنے کا کام لینا ہے نہیں ہے وہ ہے وہ میر کے در پر کبھی نہیں جاتا مجھے خدا سے غزل کا چھوؤں گا لینا ہے بڑے سلیقے سے نوٹوں ہے وہ ہے وہ ا سے کو تلوہ کر امیر شہر سے اب انتقام لینا ہے

Bashir Badr

1 likes

خاندانی رشتوں ہے وہ ہے وہ 9 رقابت ہے بہت گھر سے نکلو تو یہ دنیا خوبصورت ہے بہت اپنے قائم ہے وہ ہے وہ بہت مغرور جو مشہور ہے دل میرا کہتا ہے اس کا لڑکی ہے وہ ہے وہ چاہت ہے بہت ان کے چہرے چاند تاروں کی طرح روشن رہے جن غریبوں کے یہاں حسن قناعت ہے بہت ہم سے ہوں سکتی نہیں دنیا کی دنیا داریاں عشق کی دیوار کے سائے ہے وہ ہے وہ راحت ہے بہت دھوپ کی چادر مری سورج سے کہنا بھیج دے غربتوں کا دور ہے جاڑوں کی شدت ہے بہت ان اندھیروں ہے وہ ہے وہ جہاں سہمی ہوئی تھی یہ زمیں رات سے تنہا لڑا جگنو ہے وہ ہے وہ ہمت ہے بہت

Bashir Badr

2 likes

اک پری کے ساتھ موجوں پر ٹہلتا رات کو اب بھی یہ قدرت ک ہاں ہے آدمی کی ذات کو جن کا سارا جسم ہوتا ہے ہماری ہی طرح پھول کچھ ایسے بھی کھلتے ہیں ہمیشہ رات کو ایک اک کر کے سبھی کپڑے بدن سے گر چکے صبح پھروں ہم یہ کفن پہنائیں گے جذبات کو پیچھے پیچھے رات تھی تاروں کا اک لشکر لیے ریل کی پٹری پہ سورج چل رہا تھا رات کو لو و خاک و بعد ہے وہ ہے وہ بھی لہر حقیقت آ جائے ہے سرخ کر دیتی ہے دم بھر ہے وہ ہے وہ جو پیلی دھات کو صبح بستر بند ہے ج سے ہے وہ ہے وہ لپٹ جاتے ہیں ہم اک سفر کے بعد پھروں کھلتے ہیں آدھی رات کو سر پہ سورج کے ہمارے پیار کا سایہ رہے مامتا کا جسم مانگے زندگی کی بات کو

Bashir Badr

5 likes

پتھر کے ج گر والو غم ہے وہ ہے وہ حقیقت روانی ہے خود راہ بنا لےگا بہتا ہوا پانی ہے اک ذہن پریشاں ہے وہ ہے وہ خواب غزلستاں ہے پتھر کی حفاظت ہے وہ ہے وہ شیشے کی جوانی ہے دل سے جو چھٹے بادل تو آنکھ ہے وہ ہے وہ ساون ہے ٹھہرا ہوا دریا ہے بہتا ہوا پانی ہے ہم رنگ دل پر خوں ہر لالہ صحرائی گیسو کی طرح مضطر اب رات کی رانی ہے ج سے سنگ پہ نظریں کیں خورشید حقیقت ہے ج سے چاند سے منا موڑا پتھر کی کہانی ہے اے پیر خرد مند دل کی بھی ضرورت ہے یہ شہر غزالاں ہے یہ ملک جوانی ہے غم وجہ فگار دل غم وجہ قرار دل آنسو کبھی شیشہ ہے آنسو کبھی پانی ہے ا سے حوصلہ دل پر ہم نے بھی کفن پہنا ہنسکر کوئی پوچھےگا کیا جان گنوائی ہے دن تلخ حقائق کے صحراؤں کا سورج ہے شب گیسو افسا لگ یادوں کی کہانی ہے حقیقت حسن جسے ہم نے رسوا کیا دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نادیدہ حقیقت ہے نا گفتہ کہانی ہے حقیقت مصرع آوارہ دیوانوں پہ بھاری ہے ج سے ہے وہ ہے وہ تری گیسو کی بے ربط کہانی ہے ہم خوشبو آوارہ ہم نور پریشاں ہیں اے بدر مقدر ہے وہ ہے

Bashir Badr

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Bashir Badr.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Bashir Badr's ghazal.