ghazalKuch Alfaaz

ہے ایک لاش کی صورت پڑی ہوئی دنیا صلیب سمے کے اوپر جڑی ہوئی دنیا ہم ایسے لوگ ہی خوراک تھے صدا ا سے کی ہمارے خون کو پی کر بڑی ہوئی دنیا تمام عمر بھی دوڑو لگ ہاتھ آوےگی عشق دل عجیب اجازت ہے یہ ساکت کھڑی ہوئی دنیا ہر ایک بے وجہ ہے پیچھے پڑا ہوا ا سے کے ہر ایک بے وجہ کے پیچھے پڑی ہوئی دنیا جدید شعر کی صورت جدید شاعر کے جدید ہونے کی ضد پر اڑی ہوئی دنیا حسین لڑکیاں خوشبوئیں چاندنی راتیں اور ان کے بعد بھی ایسی سڑی ہوئی دنیا امیر امام نے کوڑے ہے وہ ہے وہ پھینک دی کب کی جسے طلب ہوں اٹھا لے پڑی ہوئی دنیا

Ameer Imam9 Likes

Related Ghazal

چل دیے پھیر کر نظر جاناں بھی غیر تو غیر تھے م گر جاناں بھی یہ گلی مری دلربا کی ہے دوستوں خیریت ادھر جاناں بھی مجھ پہ لوگوں کے ساتھ ہنستے ہوں لوگ روئیںگے خاص کر جاناں بھی مجھ کو ٹھکرا دیا ہے دنیا نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو مر جاؤں گا ا گر جاناں بھی ا سے کی گاڑی تو جا چکی تابش اب اٹھو جاؤ اپنے گھر جاناں بھی

Zubair Ali Tabish

58 likes

تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن

Varun Anand

81 likes

کسی کو بنانے ہے وہ ہے وہ قسمت تو ہے ہی م گر اپنے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ محنت تو ہے ہی یہ ممکن ہے تجھ کو ہنر دیکھ چن لیں وگر لگ تو پھروں خوبصورت تو ہے ہی نکل جائے باہر ہی غصہ تو اچھا کہ پھروں آپ کے گھر ہے وہ ہے وہ عورت تو ہے ہی سبھی لڑکیاں چھپ گئی شام ڈھلتے کہو کچھ بھی مردوں کی دہشت تو ہے ہی

Kushal Dauneria

32 likes

آنکھوں ہے وہ ہے وہ رہا دل ہے وہ ہے وہ اتر کر نہیں دیکھا کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا ذہانت ا گر جاؤں گا سب چونک پڑیں گے اک عمر ہوئی دن ہے وہ ہے وہ کبھی گھر نہیں دیکھا ج سے دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا یہ پھول مجھے کوئی وراثت ہے وہ ہے وہ ملے ہیں جاناں نے میرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا یاروں کی محبت کا یقین کر لیا ہے وہ ہے وہ نے پھولوں ہے وہ ہے وہ چھپایا ہوا خنجر نہیں دیکھا محبوب کا گھر ہوں کہ بزرگوں کی زمینیں جو چھوڑ دیا پھروں اسے مڑ کر نہیں دیکھا خط ایسا لکھا ہے کہ نگینے سے جڑے ہیں حقیقت ہاتھ کہ ج سے نے کوئی زیور نہیں دیکھا پتھر مجھے کہتا ہے میرا چاہنے والا ہے وہ ہے وہ ہے وہ موم ہوں ا سے نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا

Bashir Badr

38 likes

اپنی آنکھوں ہے وہ ہے وہ بھر کر لے جانے ہیں مجھ کو ا سے کے آنسو کام ہے وہ ہے وہ لانے ہے دیکھو ہم کوئی وحشی نہیں دیوانے ہیں جاناں سے بٹن کھلواتے نہیں لگواتے ہیں ہم جاناں اک دوجے کی سیڑھی ہے جاناں باقی دنیا تو سانپوں کے خانے ہیں پاکیزہ چیزوں کو پاکیزہ لکھو مت لکھو ا سے کی آنکھیں مے خانے ہیں

Varun Anand

63 likes

More from Ameer Imam

آگ کے ساتھ میں بہتا ہوا پانی سننا رات بھر اپنے عناصر کی کیجیے گا سننا دیکھنا روز اندھیروں میں شعاؤں کی نمو پتھروں میں کسی دریا کی روانی سننا وہ سنائیں گی کبھی میری کہانی تم کو تم ہواؤں سے کبھی میری کہانی سننا میری خاموشی مری مشک ہے اس مشک میں تم مار کر تیر مری تشنا دہانی سننا عمر نا کافی ہے اس ہجرت اول کے لیے پھروں جنم لوں تو مری ہجرت ثانی سننا کم سنی پر ہے عجب حال تمہارا یاروں سن لو آسان نہیں اس کی جوانی سننا گیت میرے جو پسند آتے ہیں اتنے تم کو انہی گیتوں کی کبھی مرثیہ خوانی سننا کیا نیا تم کو سناؤں کہ نیا کچھ بھی نہیں نئے لفظوں میں وہی بات پرانی سننا

Ameer Imam

2 likes

کہ چنو کوئی مسافر وطن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی ہوئی جو شام تو پھروں سے تھکن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی لگ آبشار لگ صحرا لگا سکے قیمت ہم اپنی پیا سے کو لے کر دہن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی سفر طویل بے حد تھا کسی کی آنکھوں تک تو ا سے کے بعد ہم اپنے بدن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی کبھی گئے تھے ہواؤں کا سامنا کرنے سبھی چراغ اسی صورت آشنا ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی کسی طرح تو فضاؤں کی خموشی ٹوٹے تو پھروں سے شور سلاسل چلن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی امیر امام بتاؤ یہ ماجرا کیا ہے تمہارے شعر اسی بانکپن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی

Ameer Imam

2 likes

یوں مری ہونے کو مجھ پر آشکار ا سے نے کیا مجھ ہے وہ ہے وہ پوشیدہ کسی دریا کو پار ا سے نے کیا پہلے صحرا سے مجھے لایا سمندر کی طرف ناو پر کاغذ کی پھروں مجھ کو سوار ا سے نے کیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھا اک آواز مجھ کو خموشی سے توڑ کر کرچیوں کو دیر تک مری شمار ا سے نے کیا دن چڑھا تو دھوپ کی مجھ کو صلیبیں دے گیا تو رات آئی تو مری بستر کو دار ا سے نے کیا ج سے کو ا سے نے روشنی سمجھا تھا مری دھوپ تھی شام ہونے کا مری پھروں انتظار ا سے نے کیا دیر تک بنتا رہا آنکھوں کے کرگھے پر مجھے بُن گیا تو جب ہے وہ ہے وہ تو مجھ کو تار تار ا سے نے کیا

Ameer Imam

1 likes

ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کے سارے مناظر سے کٹ کے سوتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ سماں کے سفر سے پلٹ کے سوتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جمع کرتا ہوں شب کے سیاہی قطروں کو ب سمے صبح پھروں ان کو پلٹ کے سوتا ہوں تلاش دھوپ ہے وہ ہے وہ کرتا ہوں سارا دن خود کو تمام رات ستاروں ہے وہ ہے وہ بٹ کے سوتا ہوں ک ہاں سکون کہ شب و روز گھومنا ا سے کا ذرا زمین کے محور سے ہٹ کے سوتا ہوں تری بدن کی خلاوں ہے وہ ہے وہ آنکھ کھلتی ہے ہوا کے جسم سے جب جب لپٹ کے سوتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاگ جاگ کے راتیں گزارنے والا اک ایسی رات بھی آتی ہے ڈٹ کے سوتا ہوں

Ameer Imam

4 likes

ان کو خلا ہے وہ ہے وہ کوئی نظر آنا چاہیے آنکھوں کو ٹوٹے خواب کا ہرجا لگ چاہیے حقیقت کام رہ کے کرنا پڑا شہر ہے وہ ہے وہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجنوں کو ج سے کے واسطے ویرا لگ چاہیے ا سے زخم دل پہ آج بھی سرخی کو دیکھ کر اترا رہے ہیں ہم ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اترانا چاہیے تنہائیوں پہ اپنی نظر کر ذرا کبھی اے بیوقوف دل تجھے گھبرانا چاہیے ہے ہجر تو کباب لگ خانے سے کیا اصول گر عشق ہے تو کیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ مر جانا چاہیے دانائیاں بھی خوب ہیں لیکن ا گر ملے دھوکہ حسین سا تو اسے خا لگ چاہیے بیتے دنوں کی کوئی نشانی تو ساتھ ہوں جان حیا تمہیں ذرا شرمانا چاہیے ا سے شاعری ہے وہ ہے وہ کچھ نہیں چار چھے کے لیے دلدار چاہیے کوئی دیوا لگ چاہیے

Ameer Imam

6 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ameer Imam.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ameer Imam's ghazal.