ہن سے کے بولا کروں بلایا کروں آپ کا گھر ہے آیا جایا کروں مسکراہٹ ہے حسن کا زیور مسکرانا لگ بھول جایا کروں حد سے بڑھ کر حسین لگتے ہوں جھوٹی ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ضرور کھایا کروں تاکہ دنیا کی دلکشی لگ گھٹے نت نئے پیرہن ہے وہ ہے وہ آیا کروں کتنے سادہ مزاج ہوں جاناں عدم ا سے گلی ہے وہ ہے وہ بے حد لگ جایا کروں
Related Ghazal
کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر
Anwar Shaoor
95 likes
چل دیے پھیر کر نظر جاناں بھی غیر تو غیر تھے م گر جاناں بھی یہ گلی مری دلربا کی ہے دوستوں خیریت ادھر جاناں بھی مجھ پہ لوگوں کے ساتھ ہنستے ہوں لوگ روئیںگے خاص کر جاناں بھی مجھ کو ٹھکرا دیا ہے دنیا نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو مر جاؤں گا ا گر جاناں بھی ا سے کی گاڑی تو جا چکی تابش اب اٹھو جاؤ اپنے گھر جاناں بھی
Zubair Ali Tabish
58 likes
آئینے آنکھ ہے وہ ہے وہ چبھتے تھے بستر سے بدن کترا تا تھا ایک یاد بسر کرتی تھی مجھے ہے وہ ہے وہ سان سے نہیں لے پاتا تھا ایک شخص کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ تھا سب کچھ میرا کھلنا بھی مرجھانا بھی روتا تھا تو رات اجڑ جاتی ہنستا تھا تو دن بن جاتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ رب سے رابطے ہے وہ ہے وہ رہتا ممکن ہے کی ا سے سے رابطہ ہوں مجھے ہاتھ اٹھانا پڑتے تھے تب جا کر حقیقت فون اٹھاتا تھا مجھے آج بھی یاد ہے بچپن ہے وہ ہے وہ کبھی ا سے پر نظر ا گر پڑتی مری گدا سے پھول برستے تھے مری تختی پہ دل بن جاتا تھا ہم ایک زندان ہے وہ ہے وہ زندہ تھے ہم ایک زنجیر ہے وہ ہے وہ بڑھے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ کر ہم کبھی زار تھے تو رونا آتا تھا حقیقت جسم دلائیں نہیں ہوں پاتا تھا ان آنکھوں سے مجرم ٹھہراتا تھا اپنا کہنے کو تو گھر ٹھہراتا تھا
Tehzeeb Hafi
129 likes
نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم اندھیرا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم خموشی سے ادا ہوں رسم دوری کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں وفا داری کا دعویٰ کیوں کریں ہم وفا اخلاص قربانی محبت اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم ہماری ہی تمنا کیوں کروں جاناں تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم کیا تھا عہد جب لمحوں ہے وہ ہے وہ ہم نے تو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم نہیں دنیا کو جب پروا ہماری تو پھروں دنیا کی پروا کیوں کریں ہم یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی ی ہاں کار مسیحا کیوں کریں ہم
Jaun Elia
67 likes
دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے ورنہ کہیں تقدیر تماشا نہ بنا دے اے دیکھنے والو مجھے ہنس ہنس کے نہ دیکھو تم کو بھی محبت کہیں مجھ سا نہ بنا دے میں ڈھونڈ رہا ہوں مری وہ شمع کہاں ہے جو بزم کی ہر چیز کو پروانہ بنا دے آخر کوئی صورت بھی تو ہو خانہ دل کی کعبہ نہیں بنتا ہے تو بت خانہ بنا دے بہزاد ہر اک گام پہ اک سجدہ مستی ہر ذرّے کو سنگ در جانانا بنا دے
Behzad Lakhnavi
32 likes
More from Abdul Hamid Adam
जब तिरे नैन मुस्कुराते हैं ज़ीस्त के रंज भूल जाते हैं क्यूँँ शिकन डालते हो माथे पर भूल कर आ गए हैं जाते हैं कश्तियाँ यूँँ भी डूब जाती हैं नाख़ुदा किस लिए डराते हैं इक हसीं आँख के इशारे पर क़ाफ़िले राह भूल जाते हैं
Abdul Hamid Adam
5 likes
ہن سے ہن سے کے جام جام کو چھلکا کے پی گیا تو حقیقت خود پلا رہے تھے ہے وہ ہے وہ لہرا کے پی گیا تو توبہ کے ٹوٹنے کا بھی کچھ کچھ ملال تھا تھم تھم کے سوچ سوچ کے شرما کے پی گیا تو ساغر بدست بیٹھی رہی مری آرزو ساقی شفق سے جام کو ٹکرا کے پی گیا تو حقیقت دشمنوں کے طنز کو ٹھکرا کے پی گئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دوستوں کے غیظ کو بھڑکا کے پی گیا تو سدہا مطالبات کے بعد ایک جام تلخ دنیا جبر و دل پامال کو دھڑکا کے پی گیا تو سو بار لغزشوں کی قسم کھا کے چھوڑ دی سو بار چھوڑنے کی قسم کھا کے پی گیا تو پیتا ک ہاں تھا صبح ازل ہے وہ ہے وہ بھلا عدم ساقی کے اعتبار پہ لہرا کے پی گیا تو
Abdul Hamid Adam
6 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Abdul Hamid Adam.
Similar Moods
More moods that pair well with Abdul Hamid Adam's ghazal.







