ghazalKuch Alfaaz

हँस के फ़रमाते हैं वो देख के हालत मेरी क्यूँँ तुम आसान समझते थे मोहब्बत मेरी बअ'द मरने के भी छोड़ी न रिफ़ाक़त मेरी मेरी तुर्बत से लगी बैठी है हसरत मेरी मैं ने आग़ोश-ए-तसव्वुर में भी खेंचा तो कहा पिस गई पिस गई बे-दर्द नज़ाकत मेरी आईना सुब्ह-ए-शब-ए-वस्ल जो देखा तो कहा देख ज़ालिम ये थी शाम को सूरत मेरी यार पहलू में है तन्हाई है कह दो निकले आज क्यूँँ दिल में छुपी बैठी है हसरत मेरी हुस्न और इश्क़ हम-आग़ोश नज़र आ जाते तेरी तस्वीर में खिंच जाती जो हैरत मेरी किस ढिटाई से वो दिल छीन के कहते हैं 'अमीर' वो मिरा घर है रहे जिस में मोहब्बत मेरी

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

More from Ameer Minai

چپ بھی ہوں بک رہا ہے کیا واعظ مغز رندوں کا کھا گیا تو واعظ تری کہنے سے رند جائیں گے یہ تو ہے خا لگ خدا واعظ اللہ اللہ یہ کبر اور یہ غرور کیا خدا کا ہے دوسرا واعظ بے اعتباری مے کشوں پہ چشم غضب حشر ہونے دے دیکھنا واعظ ہم ہیں قحط شراب سے بیمار ک سے مرض کی ہے تو دوا واعظ رہ چکا مختلف ہے وہ ہے وہ ساری عمر کبھی مے خانے ہے وہ ہے وہ بھی آ واعظ ہجو مے کر رہا تھا منبر پر ہم جو پہنچے تو پی گیا تو واعظ دختر رز کو برا مری آگے پھروں لگ کہنا کبھی سنا واعظ آج کرتا ہوں وصف مے ہے وہ ہے وہ امیر دیکھوں کہتا ہے ا سے ہے وہ ہے وہ کیا واعظ

Ameer Minai

0 likes

تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر ک سے کا ہے سینا ک سے کا ہے مری جان ج گر ک سے کا ہے خوف میزان قیامت نہیں مجھ کو اے دوست تو ا گر ہے مری پلے ہے وہ ہے وہ تو ڈر ک سے کا ہے کوئی آتا ہے عدم سے تو کوئی جاتا ہے سخت دونوں ہے وہ ہے وہ خدا جانے سفر ک سے کا ہے چھپ رہا ہے قفص تن ہے وہ ہے وہ جو ہر طائر دل آنکھ کھولے ہوئے شاہین نظر ک سے کا ہے نام شاعر لگ صحیح شعر کا مضمون ہوں خوب پھل سے زار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کام شجر ک سے کا ہے دام نا رسائی کرنے سے جو ہے طائر دل کے منکر اے کماں دار تری تیر ہے وہ ہے وہ پر ک سے کا ہے مری حیرت کا شب وصل یہ باعث ہے امیر سر ب زانو ہوں کہ زانو پہ یہ سر ک سے کا ہے

Ameer Minai

0 likes

ہے وہ ہے وہ رو کے آہ کروں گا ج ہاں رہے لگ رہے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہے لگ رہے آ سماں رہے لگ رہے رہے حقیقت جان ج ہاں یہ ج ہاں رہے لگ رہے جلوے کی خیر ہوں یا رب مکان رہے لگ رہے ابھی مزار پر احباب فاتحہ پڑھ لیں پھروں ا سے دودمان بھی ہمارا نشان رہے لگ رہے خدا کے واسطے کلمہ بتوں کا پڑھ زاہد پھروں اختیار ہے وہ ہے وہ غافل زبان رہے لگ رہے اڑائے تو خیر سے گزری چمن ہے وہ ہے وہ بلبل کی بہار آئی ہے اب آشیاں رہے لگ رہے چلا تو ہوں پئے اظہار غزلوں حضور یار دیکھوں مجال بیاں التفات دل دوستان رہے لگ رہے امیر جمع ہیں احباب غزلوں کہ لے پھروں افشاں رہے لگ رہے

Ameer Minai

1 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ یا تو یا رب حقیقت پ سے مرگ ہوتا یہ لگ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتا وصل یار کاش یوں ہی مجھے خیرو ہوتا حقیقت سر مزار ہوتا ہے وہ ہے وہ تہ مزار ہوتا ترا مے کدہ سلامت تری خم کی خیر ساقی میرا نشہ کیوں اترتا مجھے کیوں خمار ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں نامراد ایسا کہ بلک کے یا سے روتی کہی پا کے آسرا کچھ جو امید وار ہوتا نہیں پوچھتا ہے مجھ کو کوئی پھول ا سے چمن ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل داغ دار ہوتا تو گلے کا ہار ہوتا حقیقت مزہ دیا تڑپ نے کہ یہ آرزو ہے یا رب مری دونوں پہلوؤں ہے وہ ہے وہ دل بے قرار ہوتا دم نہزع بھی جو حقیقت بت مجھے آ کے منا دکھاتا تو خدا کے منا سے اتنا لگ ہے وہ ہے وہ شرمسار ہوتا لگ ملک سوال کرتے لگ لحد فشار دیتی سر راہ کوئے قاتل جو میرا مزار ہوتا جو نگاہ کی تھی ظالم تو پھروں آنکھ کیوں چرائی وہی تیر کیوں لگ مارا جو ج گر کے پار ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ زبان سے جاناں کو سچا کہو لاکھ بار کہ دوں اسے کیا کروں کہ دل کو نہیں اعتبار ہوتا مری خاک بھی لحد ہے وہ ہے وہ لگ رہی

Ameer Minai

0 likes

جب سے بلبل تو نے دو تنکے لیے ٹوٹتی ہیں بجلیاں ان کے لیے ہے جوانی خود جوانی کا سنگار سادگی گہنا ہے ا سے سن کے لیے کون ویرانے ہے وہ ہے وہ دیکھےگا بہار پھول جنگل ہے وہ ہے وہ کھلے کن کے لیے ساری دنیا کے ہیں حقیقت مری سوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دنیا چھوڑ دی جن کے لیے باغباں مصروف ہوں ہلکے رنگ کی بھیجنی ہے ایک کم سن کے لیے سب حسین ہیں غم ہستی کو نا پسند اب کوئی حور آوےگی عشق دل ان کے لیے وصل کا دن اور اتنا بڑھوا دن گنے جاتے تھے ا سے دن کے لیے صبح کا سونا جو ہاتھ آتا امیر بھیجتے تحفہ موذن کے لیے

Ameer Minai

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ameer Minai.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ameer Minai's ghazal.