ہر اک ہزار ہے وہ ہے وہ ب سے پانچ سات ہیں ہم لوگ نصاب عشق پہ واجب زکات ہیں ہم لوگ دباؤ ہے وہ ہے وہ بھی جماعت کبھی نہیں جستجو دل شکستہ شروع دن سے محبت کے ساتھ ہیں ہم لوگ جو سیکھنی ہوں زبان سکوت بسم اللہ خموشیوں کی مکمل لغات ہیں ہم لوگ کہانیوں کے حقیقت کردار جو لکھے لگ گئے خبر سے حذف شدہ واقعات ہیں ہم لوگ یہ انتظار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیکھ کر بنایا گیا تو ظہور ہجر سے پہلے کی بات ہیں ہم لوگ کسی کو راستہ دے دیں کسی کو پانی لگ دیں کہی پہ نیل کہی پر فرات ہیں ہم لوگ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جلا کے کوئی شب گزاری سکتا ہے سڑک پہ بکھرے ہوئے کاغذات ہیں ہم لوگ
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں
Jaun Elia
315 likes
More from Umair Najmi
جاناں اس کا خرابے ہے وہ ہے وہ چار چھے دن ٹہل گئی ہوں سو این ممکن ہے دل کی حالت بدل گئی ہوں تمام دن اس کا دعا ہے وہ ہے وہ کٹتا ہے کچھ دنوں سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاؤں کمرے ہے وہ ہے وہ تو اداسی نکل گئی ہوں کسی کے آنے پہ ایسے ہلچل ہوئی ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خاموش جنگل ہے وہ ہے وہ چنو خیروخواہ چل گئی ہوں یہ نہ ہوں گر ہے وہ ہے وہ ہلوں تو گرنے لگے برادہ دکھوں کی دیمک بدن کی لکڑی نگل گئی ہوں یہ چھوٹے چھوٹے کئی حوادث جو ہوں رہے ہیں کسی کے سر سے بڑی مصیبت نہ ٹل گئی ہوں ہمارا ملبا ہمارے قدموں ہے وہ ہے وہ آ گرا ہے پلیٹ ہے وہ ہے وہ چنو موم بتی پگھل گئی ہوں
Umair Najmi
10 likes
اک دن زبان سکوت کی پوری بناؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ گفتگو کو غیر ضروری بناؤں گا تصویر ہے وہ ہے وہ بناؤں گا دونوں کے ہاتھ اور دونوں ہے وہ ہے وہ ایک ہاتھ کی دوری بناؤں گا مدت سمیت جملہ ضوابط ہوں طے شدہ زبان تعلقات عبوری بناؤں گا تجھ کو خبر لگ ہوں گی کہ ہے وہ ہے وہ آ سے پا سے ہوں ا سے بار حاضری کو حضوری بناؤں گا رنگوں پہ اختیار ا گر مل سکا کبھی تیری سیاہ پتلیاں بھوری بناؤں گا جاری ہے اپنی ذات پہ تحقیق آج کل ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خلا پہ ایک تھیوری بناؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہ کر حقیقت شکل مکمل لگ کر سکا ا سے کو بھی لگ رہا تھا ادھوری بناؤں گا
Umair Najmi
20 likes
اک دن زبان سکوت کی پوری بناؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ گفتگو کو غیر ضروری بناؤں گا تصویر ہے وہ ہے وہ بناؤں گا دونوں کے ہاتھ اور دونوں ہے وہ ہے وہ ایک ہاتھ کی دوری بناؤں گا مدت سمیت جملہ ضوابط ہوں طے شدہ زبان تعلقات عبوری بناؤں گا تجھ کو خبر لگ ہوں گی کہ ہے وہ ہے وہ آ سے پا سے ہوں ا سے بار حاضری کو حضوری بناؤں گا رنگوں پہ اختیار ا گر مل سکا کبھی تیری سیاہ پتلیاں بھوری بناؤں گا جاری ہے اپنی ذات پہ تحقیق آج کل ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خلا پہ ایک تھیوری بناؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہ کر حقیقت شکل مکمل لگ کر سکا ا سے کو بھی لگ رہا تھا ادھوری بناؤں گا
Umair Najmi
10 likes
ہے وہ ہے وہ برش چھوڑ چکا آخری تصویر کے بعد مجھ سے کچھ بن نہیں پایا تری تصویر کے بعد مشترک دوست بھی چھوٹے ہیں تجھے چھوڑنے پر زبان دیوار ہٹانی پڑی تصویر کے بعد یار تصویر ہے وہ ہے وہ تنہا ہوں م گر لوگ ملے کئی تصویر سے پہلے کئی تصویر کے بعد دوسرا عشق میسر ہے م گر کرتا نہیں کون دیکھےگا پرانی نئی تصویر کے بعد بھیج دیتا ہوں م گر پہلے بتا دوں تجھ کو مجھ سے ملتا نہیں کوئی مری تصویر کے بعد خشک دیوار ہے وہ ہے وہ سیلن کا سبب کیا ہوگا ایک عدد زنگ لگی کیل تھی تصویر کے بعد
Umair Najmi
28 likes
بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے بچا ہے جو تجھ ہے وہ ہے وہ میرا حصہ نکالنا ہے یہ روح برسوں سے دفن ہے جاناں مدد کروگے بدن کے ملبے سے ا سے کو زندہ نکالنا ہے نظر ہے وہ ہے وہ رکھنا کہی کوئی غم شنا سے گاہک مجھے سخن بیچنا ہے خرچہ نکالنا ہے نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ اب ا سے پرندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے یہ تی سے برسوں سے کچھ بر سے پیچھے چل رہی ہے مجھے گھڑی کا خراب پرزا نکالنا ہے خیال ہے خاندان کو اطلاع دے دوں جو کٹ گیا تو ا سے شجر کا شجرہ نکالنا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک کردار سے بڑا تنگ ہوں قلمکار مجھے کہانی ہے وہ ہے وہ ڈال غصہ نکالنا ہے
Umair Najmi
33 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Umair Najmi.
Similar Moods
More moods that pair well with Umair Najmi's ghazal.







