ہر اک رستہ اندھیروں ہے وہ ہے وہ گھرا ہے محبت اک ضروری حادثہ ہے گرجتی آندھیاں ضائع ہوئی ہیں زمیں پہ ٹوٹ کے آنسو گرا ہے نکل آئی کدھر منزل کی دھن ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہاں تو راستہ ہی راستہ ہے دعا کے ہاتھ پتھر ہوں گئے ہیں خدا ہر ذہن ہے وہ ہے وہ ٹوٹا پڑا ہے تمہارا غضب شاید الگ ہوں مجھے تو علم نے بھٹکا دیا ہے
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
More from Nida Fazli
دن سلیقے سے اگا رات ٹھکانے سے رہی دوستی اپنی بھی کچھ روز زمانے سے رہی چند لمحوں کو ہی بنتی ہیں مصور آنکھیں زندگی روز تو تصویر بنانے سے رہی ا سے اندھیرے ہے وہ ہے وہ تو ٹھوکر ہی اجالا دےگی رات جنگل ہے وہ ہے وہ کوئی شمع جلانے سے رہی فاصلہ چاند بنا دیتا ہے ہر پتھر کو دور کی روشنی نزدیک تو آنے سے رہی شہر ہے وہ ہے وہ سب کو ک ہاں ملتی ہے رونے کی جگہ اپنی عزت بھی ی ہاں ہنسنے ہنسانے سے رہی
Nida Fazli
0 likes
جسے دیکھتے ہی خماری لگے اسے عمر ساری ہماری لگے اجالا سا ہے ا سے کے چاروں طرف حقیقت چھوؤں گا بدن پاؤں بھاری لگے حقیقت سسرال سے آئی ہے مائیکے اسے جتنا دیکھو حقیقت پیاری لگے حسین صورتیں اور بھی ہیں م گر حقیقت سب سیکڑوں ہے وہ ہے وہ ہزاری لگے چلو ا سے طرح سے سے جائیں اسے یہ دنیا ہماری تمہاری لگے اسے دیکھنا شعر گوئی کا فن اسے سوچنا دین داری لگے
Nida Fazli
1 likes
دکھ ہے وہ ہے وہ نیر بہا دیتے تھے سکھ ہے وہ ہے وہ ہنسنے لگتے تھے سیدھے سادے لوگ تھے لیکن کتنے اچھے لگتے تھے خوبصورت چڑھتی آندھی جیسی پیار چراغ دیر و کعبہ چشموں سا بیری ہوں یا سنگی ساتھی سارے اپنے لگتے تھے بہتے پانی دکھ سکھ بانٹیں پیڑ بڑے بوڑھوں چنو بچوں کی آہٹ سنتے ہی کھیت لہکنے لگتے تھے ندی پربت چاند نگاہیں جپا ایک کئی دانے چھوٹے چھوٹے سے آنگن بھی کوسوں پھیلے لگتے تھے
Nida Fazli
2 likes
جانے والوں سے رابطہ رکھنا دوستو رسم فاتحہ رکھنا گھر کی تعمیر چاہے جیسی ہوں ا سے ہے وہ ہے وہ رونے کی کچھ جگہ رکھنا مسجدیں ہیں خارے کے لیے اپنے گھر ہے وہ ہے وہ کہی خدا رکھنا جسم ہے وہ ہے وہ پھیلنے لگا ہے شہر اپنی تنہائیاں بچا رکھنا ملنا جلنا ج ہاں ضروری ہے ملنے جلنے کا حوصلہ رکھنا عمر کرنے کو ہے پچا سے کو پار کون ہے ک سے جگہ پتا رکھنا
Nida Fazli
1 likes
تو قریب آئی تو قربت کا یوں اظہار کروں آئی لگ سامنے رکھ کر ترا دیدار کروں سامنے تری کروں ہار کا اپنی اعلان اور اکیلے ہے وہ ہے وہ تری جیت سے انکار کروں پہلے سوچوں اسے پھروں ا سے کی بناؤں تصویر اور پھروں ا سے ہے وہ ہے وہ ہی پیدا در و دیوار کروں مری قبضے ہے وہ ہے وہ لگ مٹی ہے لگ بادل لگ ہوا پھروں بھی چاہت ہے کہ ہر شاخ ثمر بار کروں صبح ہوتے ہی ابھر آتی ہے سالم ہوں کر وہی دیوار جسے روز ہے وہ ہے وہ مسمار کروں
Nida Fazli
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Nida Fazli.
Similar Moods
More moods that pair well with Nida Fazli's ghazal.







