ghazalKuch Alfaaz

ہم ایسے عشق کے ماروں کو تنہا مار دیتی ہے محبت جان کی پیاسی ہے بندہ مار دیتی ہے الگ انداز ہیں دونوں کے اپنی بات کہنے کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسپے شعر کہتا ہوں حقیقت تانا مار دیتی ہے ہم ا سے کے دل ہے وہ ہے وہ رہتے ہیں سو اچھے ہیں وگرنہ دوست اداؤں سے تو عاشق کو حقیقت زندہ مار دیتی ہے کسی رسی کسی پنکھے پہ یہ الزام آیا پر کوئی خود سے نہیں مرتا یہ دنیا مار دیتی ہے ہم ایسے لوگ غلطی سے کبھی جو خواب دیکھیں تو غریبی خواب کے منہ پہ تماچہ مار دیتی ہے

Ankit Maurya24 Likes

Related Ghazal

کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے

Vikram Gaur Vairagi

70 likes

بغیر اس کا کو بتائے نبھانا پڑتا ہے یہ عشق راز ہے اس کا کو چھپانا پڑتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے ذہن کی ضد سے بے حد پریشاں ہوں تری خیال کی چوکھٹ پہ آنا پڑتا ہے تری بغیر ہی اچھے تھے کیا مصیبت ہے یہ کیسا پیار ہے ہر دن جتانا پڑتا ہے

Mehshar Afridi

73 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

چھوڑ کر جانے کا جھمکے نہیں ہوتا تھا کوئی بھی زخم ہوں ناسور نہیں ہوتا تھا میرے بھی ہونٹ پہ سگریٹ نہیں ہوتی تھی ا سے کی بھی مانگ ہے وہ ہے وہ سندور نہیں ہوتا تھا عورتیں پیار ہے وہ ہے وہ تب شوق نہیں رکھتی تھی آدمی عشق ہے وہ ہے وہ مزدور نہیں ہوتا تھا

Kushal Dauneria

54 likes

More from Ankit Maurya

ان کو دکھ کہ ہم سے حقیقت کہتے یہ کیسے ہم غلط تھے ا سے لیے پہلے ہی ہم نے کہ دیا کہ ہم غلط تھے حقیقت خفا ہیں جانے کب سے کیا پتا ک سے بات پہ ہوں فرض بنتا ہے ہمارا کہ دیں ان سے ہم غلط تھے جاناں اشارہ کر تو دیتے کہ نہیں جانا ہے جاناں کو روک لیتے ہم تمہیں کہ دیتے سب سے ہم غلط تھے ہم کسی بھی طور ا سے کو ساتھ رکھنا چاہتے تھے ہم نے مافی مانگ لی ایسے کہ چنو ہم غلط تھے ہم لڑینگے خوب دونوں پہلے تو اک دوجے سے پھروں روتے روتے یہ کہی گے ہم غلط تھے ہم غلط تھے

Ankit Maurya

11 likes

کیسے بتاؤں اب مجھے کیا کیا نہیں پسند ب سے تو پسند ہے کوئی تجھ سا نہیں پسند نیندیں ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ گئے جو ان آنکھوں کے خواب تھے ایسا نہیں کہ اب مجھے سونا نہیں پسند لوٹا کے جب سے آئیں ہیں کاپی حقیقت ا سے کی ہم تب سے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو اپنا ہی بستہ نہیں پسند پہلے بنایا ا سے نے تو اپنی طرح مجھے کہتا ہے اب کہ ہے وہ ہے وہ اسے ایسا نہیں پسند جسموں کے رستے آ گئے ہیں دل تلک تو ہم آساں بے حد ہے پر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ رستہ نہیں پسند پھروں آپ ایسی دریا پہ خواب ہی بھیجیے مری طرح کا گر اسے پیاسا نہیں پسند

Ankit Maurya

10 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ankit Maurya.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ankit Maurya's ghazal.