ghazalKuch Alfaaz

ہم ہی ہے وہ ہے وہ تھی لگ کوئی بات یاد لگ جاناں کو آ سکے جاناں نے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھلا دیا ہم لگ تمہیں بھلا سکے جاناں ہی لگ سن سکے ا گر قصہ غم سنے گا کون ک سے کی زبان کھلےگی پھروں ہم لگ ا گر سنا سکے ہوش ہے وہ ہے وہ آ چکے تھے ہم خون تمنا ہے وہ ہے وہ آ چکے تھے ہم بزم کا رنگ دیکھ کر سر لگ م گر اٹھا سکے رونق بزم بن گئے لب پہ حکایتیں رہیں دل ہے وہ ہے وہ شکایتیں رہیں لب لگ م گر ہلا سکے شوق وصال ہے ی ہاں لب پہ سوال ہے ی ہاں ک سے کی مجال ہے ی ہاں ہم سے نظر ملا سکے ایسا ہوں کوئی نامہ بر بات پہ کان دھر سکے سن کے یقین کر سکے جا کے ا نہیں سنا سکے عزت سے اور بڑھ گئی برہمی مزاج دوست اب حقیقت کرے علاج دوست ج سے کی سمجھ ہے وہ ہے وہ آ سکے اہل زبان تو ہیں بے حد کوئی نہیں ہے اہل دل کون تری طرح عرو سے بہار درد کے گیت گا سکے

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

More from Hafeez Jalandhari

مٹنے والی حسرتیں ایجاد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب بھی چاہوں اک جہاں آباد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھ کو ان مجبوریوں پر بھی ہے اتنا اختیار آہ بھر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ پڑنا کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حسن بے چارہ تو ہوں جاتا ہے 9 مہرباں پھروں اسے سراپا محبت کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو نہیں کہتا مگر دیکھ و وفا نا آشنا اپنی ہستی کہ سے دودمان برباد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں یہ ویرانہ یہ دل یہ آرزوؤں کا مزار جاناں کہو تو پھروں اسے آباد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب کوئی تازہ مصیبت ٹوٹتی ہے اے عروس بہار ایک عادت ہے خدا کو یاد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ

Hafeez Jalandhari

0 likes

لذت صدخمار عین حقیقت ہے با صفا کے لیے بتوں کو دیکھ رہا ہوں م گر خدا کے لیے اثر ہے وہ ہے وہ ہوں گئے کیوں سات آ سماں اطوار ابھی تو ہاتھ اٹھے ہی نہیں دعا کے لیے ہوا ب سے ایک ہی نالے ہے وہ ہے وہ دم فنا اپنا یہ تازیا لگ تھا عمر گریز پا کے لیے الہی ایک غرق دریا کیا کم تھا کہ عشق بھیج دیا جان مبتلا کے لیے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو داور محشر کو چھوڑتے ہی بنی اعتباری عشق لگ کافی ہوئی سزا کے لیے اسی کو راہ دکھاتا ہوں جو مٹائے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں تو نور م گر چشم نقش پا کے لیے یہ جانتا ہوں کہ ہے نصف شب م گر ساقی ذرا سی چاہیے اک مرد پارسا کے لیے الہی تری کرم سے ملے مے و معشوق اب التجا ہے برستی ہوئی گھٹا کے لیے عرو سے بہار عازم کعبہ ہوا ہے جانے دو اب ا سے پہ رحم کروں اے بتوں خدا کے لیے

Hafeez Jalandhari

1 likes

ج ہاں قطرے کو ترسایا گیا تو ہوں وہیں ڈوبا ہوا پایا گیا تو ہوں ب حال گمراہی پایا گیا تو ہوں حرم سے دیر ہے وہ ہے وہ لایا گیا تو ہوں بلا کافی لگ تھی اک زندگی کی دوبارہ یاد فرمایا گیا تو ہوں ب رنگ لالہ ویرا لگ بیکار کھلایا اور مرجھایا گیا تو ہوں اگرچہ ابر گوہر بار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ م گر آنکھوں سے برسایا گیا تو ہوں سپرد خاک ہی کرنا تھا مجھ کو تو پھروں کاہے کو نہلایا گیا تو ہوں فرشتے کو لگ ہے وہ ہے وہ شیطان سمجھا نتیجہ یہ کہ بہکایا گیا تو ہوں کوئی صنعت نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ تو پھروں کیوں نمائش گاہ ہے وہ ہے وہ لایا گیا تو ہوں بقول برہمن قہر خدا ہوں بتوں کے حسن پر ڈھایا گیا تو ہوں مجھے تو ا سے خبر نے کھو دیا ہے سنا ہے ہے وہ ہے وہ کہی پایا گیا تو ہوں عرو سے بہار اہل زبان کب مانتے تھے بڑے زوروں سے منوایا گیا تو ہوں

Hafeez Jalandhari

1 likes

یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہے بات ہوتی ہے مگر بات نہیں ہوتی ہے باریابی کا برا ہو کہ اب ان کے در پر اگلے وقتوں کی مدارات نہیں ہوتی ہے غم تو گھنگھور گھٹاؤں کی طرح اٹھتے ہیں ضبط کا دشت ہے برسات نہیں ہوتی ہے یہ میرا تجربہ ہے حسن کوئی چال چلے بازی عشق کبھی مات نہیں ہوتی ہے وصل ہے نام ہم آہنگی و یک رنگی کا وصل میں کوئی بری بات نہیں ہوتی ہے ہجر تنہائی ہے سورج ہے سوا نیزے پر دن ہی رہتا ہے یہاں رات نہیں ہوتی ہے ضبط گریہ کبھی کرتا ہوں تو فرماتے ہیں آج کیا بات ہے برسات نہیں ہوتی ہے مجھے اللہ کی قسم شعر میں تحسین بتاں میں جو کرتا ہوں میری ذات نہیں ہوتی ہے فکر تخلیق سخن مسند راحت پہ حفیظ باعث کشف و کرامات نہیں ہوتی ہے

Hafeez Jalandhari

0 likes

دوستی کا چلن رہا ہی نہیں اب زمانے کی حقیقت ہوا ہی نہیں سچ تو یہ ہے صنم کدے والو دل خدا نے تمہیں دیا ہی نہیں پلٹ آنے سے ہوں گیا تو ثابت نامہ بر تو و ہاں گیا تو ہی نہیں حال یہ ہے کہ ہم غریبوں کا حال جاناں نے کبھی سنا ہی نہیں کیا چلے زور دشت وحشت کا ہم نے دامن کبھی سیا ہی نہیں غیر بھی ایک دن مرینگے ضرور ان کے حصے ہے وہ ہے وہ کیا قضا ہی نہیں ا سے کی صورت کو دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری سیرت حقیقت دیکھتا ہی نہیں عشق میرا ہے شہر ہے وہ ہے وہ مشہور اور جاناں نے ابھی سنا ہی نہیں قصہ قی سے سن کے فرمایا جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں واسطہ ک سے کا دیں عرو سے بہار ان کو ان بتوں کا کوئی خدا ہی نہیں

Hafeez Jalandhari

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Hafeez Jalandhari.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Hafeez Jalandhari's ghazal.