ghazalKuch Alfaaz

ہم کچھ ایسے تری دیدار ہے وہ ہے وہ کھو جاتے ہیں چنو بچے بھرے بازار ہے وہ ہے وہ کھو جاتے ہیں مستقل جوجھنا یادوں سے بے حد مشکل ہے رفتہ رفتہ سبھی گھر بار ہے وہ ہے وہ کھو جاتے ہیں اتنا سانسوں کی رفاقت پہ بھروسا لگ کروں سب کے سب مٹی کے امبار ہے وہ ہے وہ کھو جاتے ہیں مری خودداری نے احسان کیا ہے مجھ پر ور لگ جو جاتے ہیں دربار ہے وہ ہے وہ کھو جاتے ہیں ڈھونڈنے روز نکلتے ہیں مسائل ہم کو روز ہم سرخی ذائقہ ہے وہ ہے وہ کھو جاتے ہیں کیا خوشگوار ہے کہ صحراؤں کے رہنے والے اپنے گھر کے در و دیوار ہے وہ ہے وہ کھو جاتے ہیں کون پھروں ایسے ہے وہ ہے وہ تنقید کرےگا تجھ پر سب تری جبہ و دستار ہے وہ ہے وہ کھو جاتے ہیں

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں

Ali Zaryoun

158 likes

More from Munawwar Rana

یہ بت جو ہم نے دوبارہ بنا کے رکھا ہے اسی نے ہم کو تماشا بنا کے رکھا ہے حقیقت ک سے طرح ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ انعام سے نوازے گا حقیقت ج سے نے ہاتھوں کو کاسا بنا کے رکھا ہے ی ہاں پہ کوئی بچانے تمہیں لگ آئےگا سمندروں نے جزیرہ بنا کے رکھا ہے تمام عمر کا حاصل ہے یہ ہنر میرا کہ ہے وہ ہے وہ نے شیشے کو ہیرا بنا کے رکھا ہے کسے کسے ابھی عہد حکومت ہونا ہے امیر شہر نے تقاضا بنا کے رکھا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بچ گیا تو تو یقیناً یہ معجزہ ہوگا سبھی نے مجھ کو نشا لگ بنا کے رکھا ہے کوئی بتا دے یہ سورج کو جا کے ہم نے بھی شجر کو دھوپ ہے وہ ہے وہ کوں بنا کے رکھا ہے

Munawwar Rana

3 likes

چھاؤں مل جائے تو کم دام ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے اب تھکن تھوڑے سے آرام ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے آپ کیا مجھ کو نوازیںگے آسام سلطنت تک مری انعام ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے شعر جیسا بھی ہوں ا سے شہر ہے وہ ہے وہ پڑھ سکتے ہوں چائے جیسی بھی ہوں کوچہ بد نام ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے حقیقت سیاست کا علاقہ ہے ادھر مت جانا رکھ سجدہ گزاری ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے

Munawwar Rana

5 likes

بڑھوا ہوتے ہوئے بھی زندگی بڑھ جائے گی ماں کی آنکھیں چوم لیجے روشنی بڑھ جائے گی موت کا آنا تو طے ہے موت آوےگی عشق دل م گر آپ کے آنے سے تھوڑی زندگی بڑھ جائے گی اتنی چاہت سے لگ دیکھا کیجیے محفل ہے وہ ہے وہ آپ شہر والوں سے ہماری دشمنی بڑھ جائے گی آپ کے ہنسنے سے خطرہ اور بھی بڑھ جائےگا ا سے طرح تو اور آنکھوں کی نمی بڑھ جائے گی بے وفائی کھیل کا حصہ ہے جانے دے اسے تذکرہ ا سے سے لگ کر شرمندگی بڑھ جائے گی

Munawwar Rana

9 likes

ایسا لگتا ہے کہ کر دےگا اب آزاد مجھے میری مرضی سے اڑانے لگا صیاد مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں سرحد پہ بنے ایک مکان کی صورت کب تلک دیکھیے رکھتا ہے حقیقت آباد مجھے ایک قصے کی طرح حقیقت تو مجھے بھول گیا تو اک کہانی کی طرح حقیقت ہے مگر یاد مجھے کم سے کم یہ تو بتا دے کہ کدھر جائے گی کر کے اے خانہ خرابی مری برباد مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمجھ جاتا ہوں اس کا ہے وہ ہے وہ کوئی کمزوری ہے میرے جس شعر پہ ملتی ہے بہت داد مجھے

Munawwar Rana

1 likes

یہ درویشوں کی بستی ہے ی ہاں ایسا نہیں ہوگا لبا سے زندگی پھٹ جائےگا میلا نہیں ہوگا شیئر بازار ہے وہ ہے وہ قیمت اچھلتی گرتی رہتی ہے م گر یہ خون مفل سے ہے کبھی مہنگا نہیں ہوگا تری احسا سے کی اینٹیں لگی ہیں ا سے عمارت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارا گھر تری گھر سے کبھی اونچا نہیں ہوگا ہماری دوستی کے بیچ خود غرضی بھی شامل ہے یہ بے موسم کا پھل ہے یہ بے حد میٹھا نہیں ہوگا پرانی شہر کے لوگوں ہے وہ ہے وہ اک رسم مروت ہے ہمارے پا سے آ جاؤ کبھی دھوکہ نہیں ہوگا یہ ایسی چوٹ ہے ج سے کو ہمیشہ دکھتے رہنا ہے یہ ایسا زخم ہے جو عمر بھر اچھا نہیں ہوگا

Munawwar Rana

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Munawwar Rana.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Munawwar Rana's ghazal.