'iid ho jaae abhi talib-e-didaron ko khol do zulf se gar chand se rukhsaron ko le ke dil chain se ja baithe vo ghar men chhup ke ab to ankhen bhi tarasne lagin nazzaron ko phal ye qatil ko diya meri giran-jani ne tod kar dher kiya saikdon talvaron ko ain altaf hai mazhab men hasinon ke sitam bad-shuguni hai unhen puchhna bimaron ko daur-e-saqi men bhi ulti bahi ganga har roz jab diya jam-e-mai-e-nab to aghhyaron ko kabhu sauda kabhu vahshat kabhu ghhaflat kabhu dard aag lag jaae mohabbat ke in azaron ko vo pari-ru hai piyo shauq se tum ai 'tanvir' mai se parhez nahin chahiye mai-khvaro ko 'id ho jae abhi talib-e-didaron ko khol do zulf se gar chand se rukhsaron ko le ke dil chain se ja baithe wo ghar mein chhup ke ab to aankhen bhi tarasne lagin nazzaron ko phal ye qatil ko diya meri giran-jaani ne tod kar dher kiya saikdon talwaron ko ain altaf hai mazhab mein hasinon ke sitam bad-shuguni hai unhen puchhna bimaron ko daur-e-saqi mein bhi ulti bahi ganga har roz jab diya jam-e-mai-e-nab to aghyaron ko kabhu sauda kabhu wahshat kabhu ghaflat kabhu dard aag lag jae mohabbat ke in aazaron ko wo pari-ru hai piyo shauq se tum ai 'tanwir' mai se parhez nahin chahiye mai-khwaro ko
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
حقیقت منہ لگاتا ہے جب کوئی کام ہوتا ہے جو اس کا کا ہوتا ہے سمجھو غلام ہوتا ہے کسی کا ہوں کے دوبارہ نہ آنا میری طرف محبتوں ہے وہ ہے وہ حلالہ حرام ہوتا ہے اسے بھی گنتے ہیں ہم لوگ اہل خانہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارے یاں تو شجر کا بھی نام ہوتا ہے تجھ ایسے بے وجہ کے ہوتے ہیں ضرب سے دوست بہت تجھ ایسا بے وجہ بہت جلد آم ہوتا ہے کبھی لگی ہے تمہیں کوئی شام آخری شام ہمارے ساتھ یہ ہر ایک شام ہوتا ہے
Umair Najmi
81 likes
آئینے آنکھ ہے وہ ہے وہ چبھتے تھے بستر سے بدن کترا تا تھا ایک یاد بسر کرتی تھی مجھے ہے وہ ہے وہ سان سے نہیں لے پاتا تھا ایک شخص کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ تھا سب کچھ میرا کھلنا بھی مرجھانا بھی روتا تھا تو رات اجڑ جاتی ہنستا تھا تو دن بن جاتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ رب سے رابطے ہے وہ ہے وہ رہتا ممکن ہے کی ا سے سے رابطہ ہوں مجھے ہاتھ اٹھانا پڑتے تھے تب جا کر حقیقت فون اٹھاتا تھا مجھے آج بھی یاد ہے بچپن ہے وہ ہے وہ کبھی ا سے پر نظر ا گر پڑتی مری گدا سے پھول برستے تھے مری تختی پہ دل بن جاتا تھا ہم ایک زندان ہے وہ ہے وہ زندہ تھے ہم ایک زنجیر ہے وہ ہے وہ بڑھے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ کر ہم کبھی زار تھے تو رونا آتا تھا حقیقت جسم دلائیں نہیں ہوں پاتا تھا ان آنکھوں سے مجرم ٹھہراتا تھا اپنا کہنے کو تو گھر ٹھہراتا تھا
Tehzeeb Hafi
129 likes
ب سے اک اسی پہ تو پوری طرح ایاں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت کہ رہا ہے مجھے رایگاں تو ہاں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جسے دکھائی دوں مری طرف اشارہ کرے مجھے دکھائی نہیں دے رہا روویج ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ادھر ادھر سے نمی کا رساؤ رہتا ہے سڑک سے نیچے بنایا گیا تو مکان ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی نے پوچھا کہ جاناں کون ہوں تو بھول گیا تو ابھی کسی نے بتایا تو تھا شہر خاموشاں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو تجھ سے مٹاؤں گا احتیاط کے ساتھ تو ب سے نشان لگا دے ج ہاں ج ہاں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے سے پوچھوں یہ رستہ درست ہے کہ غلط ج ہاں سے کوئی گزرتا نہیں و ہاں ہوں ہے وہ ہے وہ
Umair Najmi
55 likes
ہے وہ ہے وہ نے چاہا تو نہیں تھا کہ کبھی ایسا ہوں لیکن اب ٹھان چکے ہوں تو چلو اچھا ہوں جاناں سے ناراض تو ہے وہ ہے وہ اور کسی بات پہ ہوں جاناں م گر اور کسی خیال و خواب سے شرمندہ ہوں اب کہی جا کے یہ معلوم ہوا ہے مجھ کو ٹھیک رہ جاتا ہے جو بے وجہ تری جیسا ہوں ایسے حالات ہے وہ ہے وہ ہوں بھی کوئی حسا سے تو کیا اور بے ح سے بھی ا گر ہوں تو کوئی کتنا ہوں تاکہ تو سمجھے کہ مردوں کے بھی دکھ ہوتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے چاہا بھی یہی تھا کہ تیرا بیٹا ہوں
Jawwad Sheikh
50 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Tanvir Dehlvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Tanvir Dehlvi's ghazal.







