इक परी सी प्यारी लड़की सोने की नर्म हाथों में , अँगूठी सोने की उस का चेहरा, जैसे चाँदी का है, और उस की आँखें, जैसे लगती सोने की आई लव यूँ, बोल मुझ को, फिर तू देख हाथ पहना दूँगा, चूड़ी सोने की हम फ़क़ीरों में गिने जाते है, और उस के कंगन , उस की चूड़ी सोने की नींद आती ही नहीं थी तब मुझे जब ज़रूरत थी मुझे भी सोने की उस की क़ीमत कितनी है ? मत पूछ दोस्त उस के आगे दुनिया फीकी सोने की श्याम तो, मीरा न हो पाया तेरा क्या करेगी अब ये मूर्ति सोने की वो तेरी हो ही नहीं सकती ' सलीम ' माटी का तू और वो पूरी सोने की
Related Ghazal
ہم ک ہاں ہیں یہ پتا لو جاناں بھی بات آدھی تو سنبھالو جاناں بھی دل لگایا ہی نہیں تھا جاناں نے دل لگی کی تھی مزہ لو جاناں بھی ہم کو آنکھوں ہے وہ ہے وہ لگ آنچو لیکن خود کو خود پر تو سجا لو جاناں بھی جسم کی نیند ہے وہ ہے وہ سونے والوں روح ہے وہ ہے وہ خواب تو پالو جاناں بھی
Kumar Vishwas
28 likes
ڈر ہے گھر ہے وہ ہے وہ کیسے بولا جائےگا چھوڑو جو بھی ہوگا دیکھا جائےگا نمبر لکھکر ہاتھوں ہے وہ ہے وہ پکڑا دینا تری گھر اک چھوٹا بچہ جائےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے ا سے کا چہرہ پڑھکر جاؤں گا میرا پیپر سب سے اچھا جائےگا
Vishal Singh Tabish
33 likes
اس کا کو ضد سے تو اچھا نہیں روکنا چھوڑ دو ا سے کی مرضی ہے جاناں ا سے پہ یہ فیصلہ چھوڑ دو ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ب سے اتنا پوچھا تھا کیا دیکھتے ہوں بھلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے یہ کب کہا تھا مجھے دیکھنا چھوڑ دو جاناں ملوگے نہیں تو ہے وہ ہے وہ جیتے جی مر جاؤںگی با خدا ایسی خوشفہ میاں پالنا چھوڑ دو مری آنکھوں پہ پٹی بندھی ہے بندھی رہنے دو ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ جاناں بھی برا سوچنا چھوڑ دو گیلی مٹی کی خوشبو مجھے سونے دیتی نہیں مری بالوں ہے وہ ہے وہ جاناں انگلياں پھیرنا چھوڑ دو
Tajdeed Qaiser
15 likes
اشعار مری یوں تو زمانے کے لیے ہیں کچھ شعر فقط ان کو سنہانے کے لیے ہیں اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ہر درد مٹا دیں کچھ درد کلیجے سے لگانے کے لیے ہیں سوچو تو بڑی چیز ہے برزخ بدن کی ور لگ یہ فقط آگ بجھانے کے لیے ہیں آنکھوں ہے وہ ہے وہ جو بھر لوگے تو کانٹوں سے چبھیں گے یہ خواب تو پلکوں پہ سجانے کے لیے ہیں دیکھوں تری ہاتھوں کو تو لگتا ہے تری ہاتھ مندیر ہے وہ ہے وہ فقط دیپ جلانے کے لیے ہیں یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں اک بے وجہ کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں
Jaan Nisar Akhtar
28 likes
شام ڈھلے ہے وہ ہے وہ گھر روشن بھی کرتا تھا کتنا کچھ تو ہے وہ ہے وہ بےمن بھی کرتا تھا دنیا مجھ سے صرف محبت کرتی ہے حقیقت دیوا لگ پاگل پن بھی کرتا تھا جاناں جو کہتے تھے نا اک دن چھو لوگے چھو لیتے نا میرا من بھی کرتا تھا مری سرہانے حقیقت گھنگرو گم سم ہے ا سے کے پیروں ہے وہ ہے وہ چھنچھن بھی کرتا تھا ا سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ب سے ہم ہی جچتے تھے دعویٰ سونے کا کنگن بھی کرتا تھا
Vishal Bagh
24 likes
Similar Writers
Our suggestions based on BR SUDHAKAR.
Similar Moods
More moods that pair well with BR SUDHAKAR's ghazal.







