ghazalKuch Alfaaz

اک ترا ہجر دائمی ہے مجھے ور لگ ہر چیز عارضی ہے مجھے ایک سایہ مری تعاقب ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک آواز ڈھونڈتی ہے مجھے مری آنکھوں پہ دو مقد سے ہاتھ یہ اندھیرا بھی روشنی ہے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سخن ہے وہ ہے وہ ہوں ا سے جگہ کہ ج ہاں سان سے لینا بھی شاعری ہے مجھے ان پرندوں سے بولنا سیکھا پیڑ سے خموشی ملی ہے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسے کب کا بھول بھال چکا زندگی ہے کہ رو رہی ہے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ کاغذ کی ایک کشتی ہوں پہلی بارش ہی آخری ہے مجھے

Tehzeeb Hafi25 Likes

Related Ghazal

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

More from Tehzeeb Hafi

عجیب خواب تھا ا سے کے بدن ہے وہ ہے وہ کائی تھی حقیقت اک پری جو مجھے سبز کرنے آئی تھی حقیقت اک چراغ کدا ج سے ہے وہ ہے وہ کچھ نہیں تھا میرا حقیقت جل رہی تھی حقیقت قندیل بھی پرائی تھی لگ جانے کتنے پرندوں نے ا سے ہے وہ ہے وہ شراکت کی کل ایک پیڑ کی ترکیب رو نمائی تھی ہواؤں آؤ مری گاؤں کی طرف دیکھو ج ہاں یہ ریت ہے پہلے ی ہاں ترائی تھی کسی سپاہ نے خیمے لگا دیے ہیں و ہاں ج ہاں یہ ہے وہ ہے وہ نے نشانی تری دبائی تھی گلے ملا تھا کبھی دکھ بھرے دسمبر سے مری وجود کے اندر بھی دھند چھائی تھی

Tehzeeb Hafi

15 likes

جب ا سے کی تصویر بنایا کرتا تھا کمرہ رنگوں سے بھر جایا کرتا تھا پیڑ مجھے حسرت سے دیکھا کرتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جنگل ہے وہ ہے وہ پانی لایا کرتا تھا تھک جاتا تھا بادل سایہ کرتے کرتے اور پھروں ہے وہ ہے وہ بادل پہ سایہ کرتا تھا بیٹھا رہتا تھا ساحل پہ سارا دن دریا مجھ سے جان چھڑایا کرتا تھا بنت صحرا روٹھا کرتی تھی مجھ سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ صحرا سے ریت چرایا کرتا تھا

Tehzeeb Hafi

24 likes

تیری طرف میرا خیال کیا گیا تو کے پھروں ہے وہ ہے وہ تجھ کو سوچتا چلا گیا تو یہ شہر بن رہا تھا مری سامنے یہ گیت مری سامنے لکھا گیا تو یہ وصل ساری عمر پر محیط ہے یہ ہجر ایک رات ہے وہ ہے وہ سما گیا تو مجھے کسی کی آ سے تھی لگ پیا سے تھی یہ پھول مجھ کو بھول کر دیا گیا تو بچھڑ کے سان سے کھینچنا محال تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی سے ہاتھ کھینچتا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک روز دست کیا گیا تو کے پھروں حقیقت باغ مری ہاتھ سے چلا گیا تو

Tehzeeb Hafi

56 likes

خوابوں کو آنکھوں سے منہا کرتی ہے نیند ہمیشہ مجھ سے دھوکہ کرتی ہے ا سے لڑکی سے ب سے اب اتنا رشتہ ہے مل جائے تو بات وغیرہ کرتی ہے آوازوں کا حب سے ا گر بڑھ جاتا ہے خموشی مجھ ہے وہ ہے وہ دروازہ کرتی ہے بارش مری رب کی ایسی نعمت ہے رونے ہے وہ ہے وہ آسانی پیدا کرتی ہے سچ پوچھو تو حافی یہ تنہائی بھی جینے کا سامان مہیا کرتی ہے

Tehzeeb Hafi

44 likes

تو نے کیا قندیل جلا دی شہزا گرا سرخ ہوئی جاتی ہے وا گرا شہزا گرا شیش محل کو صاف کیا تری کہنے پر آئینوں سے گرد ہٹا دی شہزا گرا اب تو خواب کدے سے باہر پاؤں رکھ لوٹ گئے ہے سب فریا گرا شہزا گرا تری ہی کہنے پر ایک سپاہی نے اپنے گھر کو آگ لگا دی شہزا گرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری دشمن لشکر کا شہزادہ کیسے ممکن ہے یہ شا گرا شہزا گرا

Tehzeeb Hafi

16 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Tehzeeb Hafi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Tehzeeb Hafi's ghazal.