ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیں ان آنکھوں سے وابستہ افسانے ہزاروں ہیں اک تم ہی نہیں تنہا الفت میں مری رسوا اس شہر میں تم جیسے دیوانے ہزاروں ہیں اک صرف ہمیں مے کو آنکھوں سے پلاتے ہیں کہنے کو تو دنیا میں مے خانے ہزاروں ہیں اس شمع فروزاں کو آندھی سے ڈراتے ہو اس شمع فروزاں کے پروانے ہزاروں ہیں
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے
Jaun Elia
113 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
More from Shahryar
تری وعدے کو کبھی جھوٹ نہیں سمجھوں گا آج کی رات بھی دروازہ کھلا رکھوں گا دیکھنے کے لیے اک چہرہ بے حد ہوتا ہے آنکھ جب تک ہے تجھے صرف تجھے دیکھوں گا مری تنہائی کی رسوائی کی منزل آئی وصل کے لمحے سے ہے وہ ہے وہ ہجر کی شب بدلوں گا شام ہوتے ہی کھلی سڑکوں کی یاد آتی ہے سوچتا روز ہوں ہے وہ ہے وہ گھر سے نہیں نکلوں گا تا کہ ہری رہے مری کی حرمت سچ مجھے لکھنا ہے ہے وہ ہے وہ حسن کو سچ لکھوں گا
Shahryar
6 likes
دل چیز کیا ہے آپ مری جان لیجیے ب سے ایک بار میرا کہا مان لیجیے ا سے صورت آشنا ہے وہ ہے وہ آپ کو آنا ہے بار بار دیوار و در کو غور سے پہچان لیجیے مانا کہ دوستوں کو نہیں دوستی کا پا سے لیکن یہ کیا کہ غیر کا احسان لیجیے کہیے تو آ سماں کو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر اتار لائیں مشکل نہیں ہے کچھ بھی ا گر ٹھان لیجیے
Shahryar
8 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Shahryar.
Similar Moods
More moods that pair well with Shahryar's ghazal.







